உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سعودی عرب کے میگا سٹی NEOM میں 500 بلین ڈالر کا منصونہ! ’دنیا کا امیر ترین اور سہولیات سے لیس ہوگا نیوم‘

    ’دنیاکاامیرترین اورسہولیات سےلیس ہوگانیوم‘

    ’دنیاکاامیرترین اورسہولیات سےلیس ہوگانیوم‘

    نیوم کے ایک اور ذیلی پروجیکٹ آکساگون کو ’دنیا کا سب سے بڑا تیرتا ہوا صنعتی کمپلیکس‘ قرار دیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ نیو یارک سٹی سے 33 گنا زیادہ ہو گا اور جدید صنعتوں کی میزبانی کرے گا۔ اس کا مقصد شہر کو ایک خالص صفر آلودگی والا شہر بنانا ہے

    • Share this:
      سیاحت اور معیشت کو فروغ دینے کے مقصد کے تحت سعودی عرب نے اپنے سب سے بڑے تعمیراتی منصوبوں میں سے ایک کا اعلان کیا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی ملک صحرائی سرزمین سعودی عرب میں ایک شہر نیوم (NEOM) نامی ہائی ٹیک سٹی ریجن میں تبدیل کیا جارہا ہے۔ نیوم کے مستقبل کے میگاسٹی کو اس طرح تعمیر کیا جائے گا، جس کی پورے سعودی عرب میں کوئی مثال نہیں ہوگی۔

      نیوم پروجیکٹ کے تین ذیلی پروجیکٹس ہیں۔ جس میں آکساگون، ٹروجینا اور دی لائن شامل ہیں۔ یہ سعودی عرب کے شمال مغربی علاقے میں بحیرہ احمر پر بنایا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ اس پروجیکٹ سے ملک کی معیشت کو متنوع بنایا جائے گا۔ ماحولیاتی تحفظ پر زور دیا جائے گا اور ٹیکنالوجی کے موثر اور نتیجہ خیز استعمال کو یقینی بنائے گا۔

      اس سال سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان (MBS) کی طرف سے اعلان کردہ نیوم اسمارٹ سٹی میں پہاڑی سیاحت کے لیے بھی خصوصی زور دیا گیا ہے۔ اس شہر میں سیاحوں کو بہت سی سہولیات فراہم کی جائے گا۔ جس میں چھوٹے چھوٹے نجی گاؤں، انتہائی لگژری فیملی اور فلاح و بہبود کے ریزورٹس، ریٹیل اسٹورز اور ریستوراں شامل ہیں۔ یہاں کھیلوں کی سرگرمیاں بھی انجام دی جائے گی۔

      مزید پڑھیں

      یہاں کے تروجینا (Trojena) نامی ایک پہاڑی علاقہ نیوم شہر کے مرکز میں واقع ہے جو سعودی عرب کی بلند ترین چوٹیوں کا گھر بھی ہے۔ یہ منصوبہ 2026 تک مکمل ہونے کی امید ہے۔

      مزید پڑھیں:

      نیوم کے ایک اور ذیلی پروجیکٹ آکساگون کو ’دنیا کا سب سے بڑا تیرتا ہوا صنعتی کمپلیکس‘ قرار دیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ نیو یارک سٹی سے 33 گنا زیادہ ہو گا اور جدید صنعتوں کی میزبانی کرے گا۔ اس کا مقصد شہر کو ایک خالص صفر آلودگی والا شہر بنانا ہے جہاں 100 فیصد بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کم توانائی کا استعمال کیا جائے گا۔

      یہ شہر کچھ جدید ترین ٹیکنالوجیز کو اپنائے گا جن میں انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT)، مصنوعی اور پیش گوئی کرنے والی ذہانت، مشین لرننگ اور روبوٹکس شامل ہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: