உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Hajj 2022: خیموں کے سب سے بڑے شہر منیٰ میں عازمین حج کا قیام، جمعہ کو مناسک حج کا دوسرا دن

    Youtube Video

    متحدہ عرب امارات کی وزارت صحت میں 33 سالہ اہلکار راشد السبطی نے کہا کہ منیٰ ایک ایسی جگہ ہے، جہاں آ کر عالمی امن، اخوت اور بھائی چارہ کا درس ملتا ہے۔ ملکوں، شہروں اور رنگ و نسل کے ہزار اختلافات کے باوجود بھی یہاں پرامن انداز میں ذکر، دعا اور دیگر عبادات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

    • Share this:
      زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد اس ہفتے سعودی عرب میں حج کے لیے جمع ہوچکے ہیں۔ 8 ذی الحجہ یعنی جمعرات کو دنیا کے سب سے بڑے خیموں کے شہر منیٰ میں قیام کررہے ہیں۔ دس لاکھ سے زیادہ بیرونی ممالک کے اور مقامی عازمین نے جمعرات کو مکہ مکرمہ میں مناسک حج کا آغاز کیا اور پھر بسوں میں منیٰ چلے گئے – جو مکہ کے مشرق میں آٹھ کلومیٹر دور ہے، جہاں وہ حج کے حصے کے طور پر اگلے تین دن قیام کریں گے۔

      عمان میں مقیم اردنی ریٹائر ہونے والے 63 سالہ محمد رفائی نے میڈیا کو بتایا کہ مختلف عرب ممالک کے شاہی خاندان کے افراد یہاں موجود ہیں، نہ صرف کابینہ کے وزرا، کارپوریٹ لیڈرز اور تاجر، بلکہ دنیا کے کونے کونے کے عازمین حج یہاں موجود ہیں۔

      وادی منیٰ ایک کھلی جگہ ہے جس میں 100,000 سے زیادہ ایئر کنڈیشنڈ خیمے ہیں جو 2.5 ملین مربع میٹر سے زیادہ پھیلے ہوئے ہیں۔ یہاں 2.6 ملین سے زیادہ افراد کے قیام اور دیگر ضروریات کی تکمیل کی جاتی ہے۔

      منیٰ کو دنیا کا سب سے بڑا ٹینٹ سٹی یعنی خمیوں کا شہر کہا جاتا ہے۔ حجاج کرام کو حج کے دوران منیٰ میں رہنا لازمی ہوتا ہے اور شیطان کو کنکریاں ماری جاتی ہیں۔ یہ رسم حج کے آخری دنوں میں طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے درمیان ادا کی جاتی ہے۔

      متحدہ عرب امارات کی وزارت صحت میں 33 سالہ اہلکار راشد السبطی نے کہا کہ منیٰ ایک ایسی جگہ ہے، جہاں آ کر عالمی امن، اخوت اور بھائی چارہ کا درس ملتا ہے۔ ملکوں، شہروں اور رنگ و نسل کے ہزار اختلافات کے باوجود بھی یہاں پرامن انداز میں ذکر، دعا اور دیگر عبادات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں: Mukhtar Abbas Naqvi Resigns:نقوی کے استعفے کے بعد مودی کیبنٹ میں ایک مسلم وزیر نہیں

      منیٰ میں حجاج کرام کے لیے اجتماعی قیام گاہوں کا انتظام کیا گیا ہے۔ انہیں استقبالیہ میں فریزر اور فرج تک رسائی حاصل ہے جو اپنے قیام کے دوران ٹھنڈا پانی، نمکین اور برف سے ٹھنڈا ریفریشمنٹ مفت پیش کرتے ہیں۔

      مزید پڑھیں: Kuwaitمیں یرغمال بنایا گیا جوڑا گھر لوٹا، مقامی پولیس اور ہندوستانی سفارتخانے کو مدد کے لئے ادا کیا شکریہ

      حج اسلام کے پانچ ستونوں میں سے ایک ہے اور ہر مسلمان پر زندگی میں ایک بار فرض ہے، بشرطیکہ وہ صاحب استطاعت ہو۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: