ہوم » نیوز » عالمی منظر

افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی کا الزام- بعض قوتیں افغانستان میں اٹھا رہی ہیں خانہ جنگی سے فائدہ

افغانستان کی بدلتی صورت حال اور خانہ جنگی کی طرف بڑھنے کے خدشے کے درمیان افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ بعض قوتیں افغانستان کی موجودہ کشیدہ صورت حال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہی ہیں اور امن وامان کا قیام صرف افغان حکومت ذمہ داری ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Jul 16, 2021 10:56 PM IST
  • Share this:
افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی کا الزام- بعض قوتیں افغانستان میں اٹھا رہی ہیں خانہ جنگی سے فائدہ
افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی کا الزام- بعض قوتیں افغانستان میں اٹھا رہی ہیں خانہ جنگی سے فائدہ





دبئی: افغانستان کی بدلتی صورت حال اور خانہ جنگی کی طرف بڑھنے کے خدشے کے درمیان افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ بعض قوتیں افغانستان کی موجودہ کشیدہ صورت حال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہی ہیں اور امن وامان کا قیام صرف افغان حکومت ذمہ داری ہے۔ سابق صدر حامد کرزئی نے ’العربیہ‘ ٹی وی چینل کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں یہ الزام عائد کیا ہے۔



حامد کرزئی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے افغانستان میں امن کو آگے بڑھانے میں مدد کی یقین دہانی کرائی ہے جبکہ امریکہ بھی امن کے لئے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان خطے کا اہم ملک ہے اور افغان قوم کو اپنے مفادات کا خود دفاع کرنا ہوگا۔ ایک دیگر سوال کے جواب میں حامد کرزئی نے کہا کہ ان کا ملک کئی عشروں سے پراکسی جنگوں کا مرکز رہا ہے۔ تزویراتی اعتبار سے افغانستان امریکہ کے لیے بھی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان انٹیلی جنس نے افغانستان میں القاعدہ کی موجودگی کے بارے میں کوئی نئی معلومات نہیں دی ہے۔

 حامد کرزئی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے افغانستان میں امن کو آگے بڑھانے میں مدد کی یقین دہانی کرائی ہے جبکہ امریکہ بھی امن کے لئے کام کر رہا ہے۔

حامد کرزئی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے افغانستان میں امن کو آگے بڑھانے میں مدد کی یقین دہانی کرائی ہے جبکہ امریکہ بھی امن کے لئے کام کر رہا ہے۔


قبل ازیں جمعرات کو پاکستانی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ افغانستان سے متصل سرحدی گزرگاہ پر طالبان کے قبضے کے بعد سرحد کو سیل کردیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب افغان حکومت کے ایک سینئر عہدیدار نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ افغان سیکورٹی فورسز نے پاکستان کی سرحد کے ساتھ اسپین بولدک گزرگاہ کا کنٹرول دوبارہ واپس لے لیا ہے۔ تاہم تحریک طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ اسپین بولدک گذرگاہ پر ان کا کنٹرول موجود ہے۔ بدھ کی شام کو طالبان نے اسپین بولدک گذرگاہ پرقبضے کا دعویٰ کیا تھا۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان یہ دوسری بڑی گزر گاہ ہے۔
طالبان کی تردید کے باوجود جنوبی قندھار میں افغان حکومت کے ایک عہدیدار نے کہا کہ قندھار کا مرکزی بازار اور کسٹمز دفتر اور دیگر سرکاری عمارتیں طالبان سے واپس لے لی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز نے بعض مقامات پر شہریوں کے جانی نقصان سے بچنے کے لئے حکمت عملی کے تحت پسپائی اختیار کی ہے۔ تاہم طالبان کے خلاف آپریشن جاری رکھا جائے گا۔





Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 16, 2021 10:21 PM IST