ہوم » نیوز » عالمی منظر

پلوامہ دہشت گردانہ حملے کی سازش میں شامل تھا پاکستانی فوج کا سابق افسر موسیٰ

جیش محمد کے سرغنہ مسعود اظہر کے بھتیجے عثمان حیدر کے قتل کے بعد بنایا گیا پلوامہ حملے کا مصوبہ۔

  • Share this:
پلوامہ دہشت گردانہ حملے کی سازش میں شامل تھا پاکستانی فوج کا سابق افسر موسیٰ
جیش محمد کے سرغنہ مسعود اظہر کے بھتیجے عثمان حیدر کے قتل کے بعد بنایا گیا پلوامہ حملے کا مصوبہ۔

سکیورٹی اور خفیہ ایجنسیوں کا ماننا ہے کہ پلوامہ دہشت گردانہ حملے کا منصوبہ میں 31 اکتوبر 2018 کو تراک میں دہشت گرد جیش محمد کے سرغنہ مسعود اظہر کے بھتیجے عثمان حیدر کے قتل کے بعد بنایا گیا تھا۔ خفیہ ذرائع کے مطابق جیش محمد کے سرغنہ معود اظہر کا بھتیجا عثمان حیدر کشمیر کے مقامی دہشت گردوں کے ساتھ مل کر جموں میں فدائین حملہ کرنے کی تیاری کر رہاتھا لیکن خفیہ ایجنسیوں نے گزشتہ سال 30 اکتوبر کو اسے ایک دیگر دہشت گرکے ساتھ ترال کے چنکی تار علاقے میں مارگرایا تھا۔


خفیہ ذرائع کے مطابق جیش محمد کا ایک غیر ملکی دہشت گرد خبیب، پاکستانی آرمی کا سابق افسر موسیٰ اور چار دیگر دہشت گرد یہاں ترال اونتی پورہ کے لام علاقے میں عادل احمد سے ملے۔ اس ملاقات کے دوران عادل احمد نے ہی خبیب اور اس کے ساتھیوں کو پلوامہ حملے کو انجام دینے والے علی احمد ڈار سے ملوایا تھا۔ ذرائع کے مطابق غیر ملکی دہشت خبیب کو جیش محمد کے دہشت گرد یاسر کے ساتھ ترال کے اری پال علاقے میں دیکھا گیا تھا۔ خبیب مسلسل ایک جگہ سے دوسرے مقام کی طرف منتقل ہوتا رہتا تھا۔ ذرائع کے مطابق دونوں ترال کے کے مدورا کے رہنے والےمقامی دہشت گرد مدثر خان کے ساتھ گھوم رہے تھے۔


ذرائع کے مطابق مسعود اظہر کے بھتیجے اور جیش محمد کے غیر ملکی دہشت گرد عثمان حیدر کو خبیب اور ظہور ہی شمالی کشمیر سے جنوبی کشمیر لیکر گیا تھا۔ خفیہ ذرائع کے مطابق اس وقت خبیب شوپیاں یا پلوامہ علاقے میں چھپاہوا ہے۔ خبیب جموں میں ایک اور فدائین حملہ کرنے کی تیاری میں ہے لیکن موسم خراب ہونے اور مسلسل مٹی کے تودے گرنے کی وجہ سے ہائی وے بند ہونے کی وجہ سے وہ اسے انجام نہیں دے پارہا۔ خفیہ ذرائع کے مطابق جموں میں فدائین حملے کی ذمہ داری تین۔تین دہشت گردوں والی دو الگ۔الگ ٹیموں کو دی گئی ہے۔ ایک ٹیم میں جیش محمد کے مقامی دہشت گرد مدثر خان اور دو دیگر مقامی دہشت گرد ہیں۔ مدثر خان مدورا علاقے کا رہنے والا ہے۔

First published: Feb 19, 2019 04:03 PM IST