ہوم » نیوز » عالمی منظر

سوشلزم یا موت کا نعرہ لگانے والے فیدل کاسترو کیوں امریکہ کے پاؤں کا کانٹا بن کر چبھتے رہے؟

کئی دہائیوں تک کیوبا پر حکومت کرنے والے فیدل کاسترو نے آٹھ برس قبل خرابی صحت کی وجہ سے اقتدار اپنے بھائی راؤل کاسترو کے سپرد کر دیا تھا۔

  • UNI
  • Last Updated: Nov 26, 2016 02:32 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
سوشلزم یا موت کا نعرہ لگانے والے فیدل کاسترو کیوں امریکہ کے پاؤں کا کانٹا بن کر چبھتے رہے؟
گیٹی امیجیز

ہوانا۔ کیوبا کے انقلابی رہنما اور سابق صدر فیدل کاسترو کا انتقال ہوگیا۔ ان کے انتقال کا اعلان ان کے بھائی اور کیوبا کے موجودہ صدر راؤل کاسترو نے سرکاری ٹی وی چینل پر اپنے ایک خطاب میں کیا۔ وہ 90 سال کے تھے۔ کئی دہائیوں تک کیوبا پر حکومت کرنے والے فیدل کاسترو نے آٹھ برس قبل خرابی صحت کی وجہ سے اقتدار اپنے بھائی راؤل کاسترو کے سپرد کر دیا تھا۔ کاسترو کیوبا میں کمیونسٹ انقلاب کے رہنما تھے۔ انہیں آمر حکمراں فَلگینسیو باتیستا نے قید کر دیا تھا، پھر وہ میکسیکو میں جلا وطنی کی زندگی بھی گزاتے رہے تھے مگر سن 1959ء میں وہ 32 برس کی عمر میں کیوبا میں اقتدار پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ اس کے بعد وہ کئی دہائیوں تک کیوبا کے رہنما رہے، جب کہ اس دوران انہوں نے دس امریکی صدور اور وہاں کی حکومت کی جانب سے عائد کردہ سخت پابندیوں کے کئی عہد بھی دیکھے۔ 90 برس کی عمر میں انتقال کر جانے والے فیدل کاسترو نے اپنی قیادت میں انقلاب کے بعد فتح کا اعلان کرتے ہوئے وہ نعرہ لگایا تھا، جو تاریخی طور پر ان کی پہچان کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے، اور وہ نعرہ تھا ’’ہمیشہ فتح کی جانب۔‘‘


امریکی ریاست فلوریڈا سے صرف 90 کلومیٹر کی دوری پر واقع کیوبا نے ایک طویل مدت تک اشتراکی نظام کا ساتھ دیا۔ فیدل کاسترو بھی دنیا بھر میں اشتراکی نظام کے لیے اٹھنے والی آوازوں کا ساتھ دیتے رہے۔ سوشلزم کے لیے ان کا عزم ہمیشہ غیر متزلزل رہا، مگر گرتی صحت کی وجہ سے انہوں نے سن 2008ء میں اقتدار ابتدا میں عارضی اور پھر مستقل طور پر اپنے بھائی راؤل کاسترو کے سپرد کر دیا تھا۔ اپنی ریلیوں میں ’سوشلزم یا موت‘ کا نعرہ لگانے والے فیدل کاسترو ایک طویل مدت تک اپنے نظریاتی عزم پر ڈٹے رہے جب کہ اس دوران چین اور ویت نام جیسے ممالک میں دھیرے دھیرے سوشلزم چھوڑ کر سرمایہ دارانہ نظام کی جانب بڑھنے کا عمل جاری رہا تھا۔ اسی دوران 17 دسمبر 2014ء کو امریکہ اور کیوباکی حکومتوں نے باہمی سفارتی تعلقات کے احیاء کا اعلان کیا تھا، جب کہ اب امریکہ کیوبا پر کئی دہائیوں سے عائد پابندیاں بھی رفتہ رفتہ اٹھاتا جا رہا ہے۔


مسٹر کاسترو اور انکے انقلابی ساتھیوں نے دسمبر 1956 میں میکسیکو چھوڑ دیااور مشرقی کیوبا کے لئے روانہ ہوگئے ۔ مسٹر کاسترو کیوبا کے انقلاب کے ذریعے امریکہ کی حمایت والی بتستا کی آمریت کو ختم کرکے کیوبا کے وزیر اعظم بنے۔ وہ 1965 میں کیوبا کی کمیونسٹ پارٹی کے پہلے سکریٹری بنے اور کیوبا کو ایک جماعتی سوشلسٹ جمہوریہ بنانے کے بعد وہ ریاستی کونسل اور وزارتی کونسل کے صدر (صدر) بن گئے۔ انہوں نے کیوبا کی مسلح افواج کے 'کمانڈر ان چیف' کا عہدہ بھی اپنے پاس ہی رکھا۔ مسٹر کاسترو کی طرف سے آمریت کی تنقید کے باوجود انہیں ایک آمرکے طور پر ہی پیش کیا گیا۔ 19 فروری 2008 کو انہوں نے اعلان کیا کہ وہ پھر سے صدر اور کمانڈر ان چیف نہیں بننا چاہتے جس کے بعد 24 فروری 2008 کو نیشنل اسمبلي نے راؤل کاسترو کو کیوبا کے صدر کے طور پر منتخب کیا۔

اقتدار میں رہنے کے دوران کئی بار کاسترو کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی ۔ طویل عرصہ تک کاسترو کی سیکورٹی پر مامور رہے فبین اسكالانتے کے بقول امریکی انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے نے مسٹر کاسترو کے قتل کے لئے 638 بار کوششیں کیں یا منصوبے بنائے جس میں دھماکہ خیز سگار، ایک زہریلی پھپھوند والا ا سکوبا-ڈائیونگ سوٹ اور مافیا طرز کی شوٹنگ جیسی مبینہ کوششیں شامل ہیں ۔ مسٹر کاسترو کو مار ڈالنے کی مبینہ سازش پر '638 ویز ٹو کل کاسترو' کے عنوان سے ایک دستاویزی فلم بھی بنی ہے۔

First published: Nov 26, 2016 02:32 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading