ہوم » نیوز » عالمی منظر

ہند پاک کے درمیان کام نہیں کرے گا رمضان سیز فائر: سابق آئی ایس آئی چیئرمین اسد درانی کا دعویٰ

پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سابق چیئرمین اسد درانی کا کہنا ہے کہ کشمیر میں پھیلی بدامنی میں پاکستان ہر طریقے سے شامل ہے۔ انہوں نے نیوز 18 کو دیئے گئے انٹرویو میں تفصیلی بات چیت کی۔

  • Share this:
ہند پاک کے درمیان کام نہیں کرے گا رمضان سیز فائر: سابق آئی ایس آئی چیئرمین اسد درانی کا دعویٰ
پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سابق چیئرمین اسد درانی کا کہنا ہے کہ کشمیر میں پھیلی بدامنی میں پاکستان ہر طریقے سے شامل ہے۔ انہوں نے نیوز 18 کو دیئے گئے انٹرویو میں تفصیلی بات چیت کی۔

اسلام آباد: پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سابق چیئرمین اسد درانی کا کہنا ہے کہ کشمیر میں پھیلی بدامنی میں پاکستان ہر طریقے سے شامل ہے۔


اگست 1990 سے لے کر مارچ 1992 تک آئی ایس آئی چیئرمین رہے اسد درانی نے بہت ہی دلچسپ وقت پر اپنا عہدہ سنبھالا۔ سوویت ملک افغانستان سے واپس جارہے تھے، اسی وقت غیر ملکی دہشت گردوں نے ہندوستان دراندازی کرنا اور ہندوستان سے لڑنے کے لئے مقامی کشمیریوں کو ٹریننگ دینا شروع کردیا۔


یہاں ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ 1990 کی دہائی میں اسد درانی جب آئی ایس آئی کا ذمہ سنبھال رہے تھے، تب دلت بھی خفیہ بیورو (آئی بی) کے جوائنٹ ڈائریکٹر کے طور پر کشمیر میں تعینات تھے، جس کے ساتھ مل کر درانی نے خفیہ ایجنسیوں اور ان کے کارناموں پرمبنی کتاب لکھی ہے جس کانام "اسپائی کرونیکلس را ایس آئی آئی اینڈ الّیوشن آف اسپیس" ہے۔ بعد میں دلت خفیہ ایجنسی آراے ڈبلیو کے چیئرمین بنے اور اس کے بعد اس وقت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کے کشمیر مدعے پر مشیر بنے۔


اسد درانی نے نیوز 18 کے ساتھ انٹرویو میں اپنے کتاب میں لکھے کئی موضوع پر کھل کر بات کی۔ پیش ہے انٹرویو کے کچھ نکات۔

سوال: اے ایس دولت کے ساتھ لکھے آپ کے کتاب میں کل بھوشن جادھو پر لکھے باب میں آپ نے کہا ہے میں اپنے دوست سے متفق ہوں کہ اس کیس کو خراب طریقے سے ہینڈل کرنے کے باوجود جادھو واپس آجائیں گے۔ بہتر طریقہ یہ ہوتا کہ اس کی جانکاری را کو دینی چاہئے تھی اور صحیھ قیمت پر اسے ہندوستان کو سونپ دینا چاہئے تھا۔ کیا آپ کو ابھی بھی لگتا ہے کہ پاکستان کچھ قیمت پر جادھو کو واپس کردے گا؟ 

میں دو پہلو پر ات کرنا چاہون گا، جو صحیح ہے جسے مانا اور اپنایا جاسکتا ہے۔ ایسے کیسوں میں ہمیشہ ایکسچینج کی قیمت ہوتی ہے۔ جادھو جیسوں کے لئے ہندوستان کو ایک سے زیادہ لوگوں کو واپس کرنا پڑے گا۔

 کتاب کے ایک الگ حصے میں کشمیر کے معاملے پر بات کرتے ہوئے آپ نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ تحریک (آندولن) کو ایک سیاسی سمت دینے کے لئے حریت کی تشکیل ایک بہترین آئیڈیا تھا، لیکن اس تحریک کو کسی اور کے ہاتھ  میں دینا اور انہیں اپنے کتاب سے خونی کھیل کھیلنے کے لئے چھوڑ دینا، لمبے وقت تک پاکستان نے حریت اور کشمیری علاحدگی پسند کو ایک غیرملکی تحریک بتایا۔ آپ اس نظریے سے نامتفق ہیں اور یہ مانتے ہیں کہ حریت کو بنانے اور اسے سہولت دینے میں پاکستان کارول تھا۔ اس کے علاوہ جے کے ایل ایف، حزب المجاہدین، لشکر طیبہ جیسی تنظیموں کے ذریعہ سے علیحدگی پسندی کو بڑھاوا دیاجائے گا؟ 

میں دوسروں کے بارے میں نہیں جانتا، لیکن ہاں حریت کو اس لئے بنایا گیا کیونکہ ایسی سبھی تحریک کو سیاسی چھتری چاہئے تھی۔ مجھے اس بات پر یقین نہیں ہے کہ کیا پاکستان نے اس مخالفت کو سیاسی سمت دینے کے لئے کریڈٹ لینے سے انکار کردیا ہے۔

سوال: دلت نے کئی بار کہا ہے کہ حریت پاکستانی ٹیم ہے اور اس وقت پاکستانی کشمیر میں آزاد گھوم رہے ہیں۔ کیا آپ اس سے متفق ہیں، اگر ہاں تو ابھی کشمیر میں پاکستانیوں کی کتنی شراکت داری ہے؟ 

مجھے حریت یا پاکستان کے اثر اور شراکت کے بارے میں معلوم نہیں ہے، لیکن ہاں پاکستان میں کچھ لوگ کشمیریوں پر ہندوستان کی پکڑ کو ڈھیلا ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

اگلے یا یانچ سالوں میں آپ کشمیر کی حالت کو کیسے دیکھتے ہیں؟

یہ وہ وقت تھا جب ہم پتنگ اڑاتے تھے، اسے سنجیدگی سے نہیں لیاجانا چاہئے۔ سب باتوں کی ایک بات یہ ہے کہ ہم پیشین گوئی نہیں کرسکتے کہ اس طرح کے حالات کیسے بن جاتے ہیں اور اس لئے سب کچھ ممکن تھا۔

سوال: دونوں ہی ملکوں کے لوگوں کو نیو کلیئر حملے کا ڈر ستاتا ہے۔ دونوں ہی ملک میں 7 دہائیوں سے دشمنی چل رہی ہے اور دونوں کے پاس نیو کلیئر بم ہے۔ کئی بار ایسے حملے کرنے کو لے کر بات ہوچکی ہے۔ کیا ہندوستان یا پاکستان کبھی اس ہتھیار کا استعمال کرسکتے ہیں؟ 

نہیں، ہم نے کبھی بھی نیو کلیئر ہتھیاروں کا استعمال کرنے کے بارے میں نہیں سوچا۔ یہ دونوں ہی ملکوں کے لئے آخری فیصلہ ہوگا۔ انہیں استعمال نہ کرنے کے لئے جو کچھ بھی ممکن ہوگا، سب کیاجائے گا۔

سوال: ہندوستان نے حال ہی میں کشمیر سیز فائر کا حکم دیا ہے اور ہندوستانی وفد اینٹی ٹیررازم کانفرنس میں شرکت کے لئے اسلام آباد روانہ ہوگیا ہے، کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہ دونوں حادثات ایک دوسرے سے منسلک ہیں؟ کیا ہم دونوں ملکوں کے درمیان کی دشمنی کو ختم کرنے کی شروعات کررہے ہیں؟ 

میں نے کسی بھی سنجیدہ کوشش یا دل پگھلانے والے اٹھائے گئے قدم کے بارے میں نہیں سنا ہے۔ کانفرنس مجھے کبھی بھی دلچسپ نہیں لگا اور نہ ہی رمضان سیز فائر جیسے اٹھائے گئے اقدامات۔ وہ اس سے کچھ اور بہترکرسکتے ہیں یا پھر دونوں کو سانس لینے کی جگہ دے سکتے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ سیز فائر کی تجویز اس لئے لائی گئی ہو کیونکہ حالات بگڑتے جارہے تھے۔

سوال: کتاب کے اس حصے میں آپ نے لکھا ہے کہ حافظ سعید کو سونپنے کی سیاسی لاگت بہت اچھی تھی، لیکن کیا آپ کو لگتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کے علامت کے طور پر ایک دن ایک سید صلاح الدین یا مسعود اظہر یا داود ابراہیم جیسے کسی کو ہندوستان کو سونپ سکتے ہیں؟ کیا آپ دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کے لئے اس طرح کے اقدامات کو ایک بڑا حوصلہ بڑھانے والا قدم مانیں گے؟ 

اس طرح کے چھوٹے معاملوں پر نہ تو اعتماد اور نہ ہی خود اعتمادی  بنائی جاتی ہے۔ زیادہ

امکان ہے کہ ان چیزوں کو ہندوستان میں "شانتی" (امن) اور پاکستان میں "خود سپرد گی" کے طور پر دیکھا جائے گا۔ کسی بھی بین الاقوامی معاملے میں اعتماد تبھی بڑھتا ہے جب "مشترکہ مفاد" ہوں۔

 

سوال: تمام لوگ یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ نواز شریف جن قانونی معاملوں کا سامنا کررہے ہیں، اس کے پیچھے "کچھ پوشیدہ ہاتھ " ہیں، کیا آپ مستقبل میں ایسی کسی امکان کے بارے میں سوچتے ہیں؟ 

پہلی بات یہ ہے کہ میں سیاسی معاملوں پر تبصرہ نہیں کرتا۔ داخلی ہوں یا باہری۔ اس معاملے میں میں "پوشیدہ ہاتھ" کے بارے میں نہیں جانتا۔ نا ہی کسی امکان کی پیشین گوئی کرسکتاہوں۔

سوال: جیسا کہ دلت نے مشورہ دیا ہے کیا آپ کو لگتا ہے کہ ہندوستان سے ناصر جنجوا یا جنرل باجوا، یا پکستان سے اجیت ڈووال یا جنرل بیپن راوت کو مدعوکئے جانے کا کوئی امکان ہے؟

امکانات، یقینی طورپر بہت امکان نہیں ہے۔

سوال: کیا دو کوریائی لوگوں کے درمیان چل رہی بات چیت آپ کو یقین کرنے کے لئے ترغیب دیتی ہے کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان اس طرح کی ایک بات چیت اور بے نظیر اعتماد کو تیار کیاجاسکتا ہے، جس سے انہین جلد ہی اعلیٰ سطح پر کانفرنس منعقد کی جاسکتی ہے؟ ایک متعلقہ سوال۔ آپ کی رائے میں آگرہ سمیلن کس نے بگاڑ دی؟

دو کوریائی ہمارے لئے کوئی آدرش ماڈل نہیں ہیں۔ ہم نے ماضی میں ان کے مقابلے بہتر کارکردگی پیش کی ہے۔ جب آگرہ کی بات ہوگی تو میں دلت سے الگ رائے رکھتا ہوں، جنہیں بہتر تاثر ہے۔

سوال: کیا افغانستان کبھی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعاون کے لئے ایک عام بنیاد بن سکتا ہے؟

ایک مرحلے مین میں نے افغانستان کو سب سے ممکنہ علاقہ تسلیم کیا، جہاں ہم تعاون کرسکتے تھے۔ کیونکہ دونوں ملکوں کے حق میںکچھ تھا، میں نے اسے بیسٹ لیول پلیئنگ فیلڈ اعلان کیا، لیکن دہلی کے کچھ سرکلوں میں چانکیہ ابھی بھی پرم گرو ہیں، پڑوسی کا پڑوسی۔
First published: May 23, 2018 07:08 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading