اپنا ضلع منتخب کریں۔

    نیپال کے سابق وزیراعظم سشیل کوئرالا سادہ شخصیت کے مالک تھے

    کٹھمنڈو۔ اپنی سادگی کے لئے مشہور نیپال کے سابق وزیراعظم اور نیپالی کانگریس کے صدر سشیل کوئرالا غیر شادی شدہ تھے۔

    کٹھمنڈو۔ اپنی سادگی کے لئے مشہور نیپال کے سابق وزیراعظم اور نیپالی کانگریس کے صدر سشیل کوئرالا غیر شادی شدہ تھے۔

    کٹھمنڈو۔ اپنی سادگی کے لئے مشہور نیپال کے سابق وزیراعظم اور نیپالی کانگریس کے صدر سشیل کوئرالا غیر شادی شدہ تھے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      کٹھمنڈو۔ اپنی سادگی کے لئے مشہور نیپال کے سابق وزیراعظم اور نیپالی کانگریس کے صدر سشیل کوئرالا غیر شادی شدہ تھے۔وہ فلمی دنیا میں قدم رکھنا چاہتے تھےلیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظورتھا اور وہ ملک کے وزیر اعظم بن گئے۔وہ بے حد سادہ شخصیت کے مالک تھے اور ان کا اپنا کوئی گھر نہیں تھا۔ مسٹر کوئرالا کی پیدائش مشہور کوئرالا خاندان میں 12اگست 1939کو نیپال میں مورانگ ضلع کے وراٹ نگر میں ہوئی تھی۔ وہ 11فروری 2014 سے 10اکتوبر 2015تک ملک کے وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہے۔2010سے وہ نیپالی کانگریس کے صدر بھی رہے ۔مسٹر کوئرالا 1952میں نیپالی کانگریس میں شامل ہوئے تھےاور پارٹی کے صدر بننے سے پہلے مختلف عہدوں پر پارٹی کے لئے کام کرتے رہے۔


      مسٹر کوئرالا سابق وزیر اعظم ماتریکا پرساد کوئرالا،گری راج پرساد کوئرالا اور وشویشورپرساد کوئرالا کے چچا زاد بھائی تھے۔ مسٹر کوئرالا نیپالی کانگریس کی جمہوری اور سماجی طرز فکر سے متاثر ہوکر 1954میں پارٹی میں شامل ہوئے تھے۔1960میں ملک میں راج شاہی کی وجہ سے انہیں 16سال تک ہندوستان میں سیاسی جلا وطنی کی زندگی بتانی پڑی ۔پارٹی کی سرکاری میگزین ’’ترون‘‘کے مدیر رہے سابق وزیر اعظم 1979میں طیارے کے اغوا معاملے میں ملوث ہونے کی وجہ سے تین سال ہندوستانی جیل میں بھی رہے۔ مسٹر سشیل کوئرالا 2008میں پارٹی کے انگزیکیوٹو چیئرمین مقرر کئے گئے اور 22اکتوبر 2010کو پارٹی کی عام میٹنگ میں انہیں صدر منتخب کیاگیا ۔ ان کی قیادت میں پارٹی کو 2013کے آئین ساز اسمبلی کے انتخابات میں غیر یقینی کامیابی حاصل ہوئی اور وہ سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ۔وہ پارٹی کے لیڈر منتخب کئے گئے اور 10فروری 2014کو انہوں نے ملک کی چار اہم پارٹیوں کے ساتھ تاریخی سمجھوتہ کیا جس سے ملک کے نئے آئین کا مسودہ تیار کرنے کا راستہ صاف ہوا۔ تقریباً 60سال تک اپنی سیاسی زندگی میں سرگرم رہنے والے مسٹر کوئرالا کا حکومت سازی میں اہم کردار رہا تھا لیکن وہ کبھی وزیر نہیں بنے۔


      کینسر کی بیماری کی وجہ سے مسٹر کوئرالا اچھی تقریر نہیں کر سکتے تھے اور اسی وجہ سے وہ خود قیادت کرنے کی جگہ کنگ میکر کا کردار ادا کرنا ہی پسند کرتے تھے۔انہیں حکومت چلانے کا تجربہ نہیں تھالیکن مسٹر گری راج پرساد کوئرالا جب وزیراعظم تھے اس وقت تقریباً سارے فیصلے مسٹر کوئرالا ہی کرتے تھے۔ نیپالی میڈیا کے مطابق مسٹر سشیل کوئرالا وزیراعظم بننے سے پہلے کبھی بھی عہدے پر نہیں رہے کیونکہ وہ غیر ملکی طاقتوں کو اپنے حق میں کرنے کا کام نہیں کرتے تھے۔ان کی صاف شبیہ ہی ان کی سب سے بڑی طاقت تھی۔ مسٹر سشیل کمار کوئرالا کی سادگی کی مثال اس وقت ثابت ہوئی جب انہوں نے اپنی جائداد کی تفصیلات میں بتایا کہ اس کے باس تین عام موبائل فون ہیں ۔وہ اپنی سادہ زندگی کےلئے مشہور رہے۔


      وزیراعظم بننے کے بعد مسٹر کوئرالا کےایک قریبی ساتھی نے میڈیا کو بتایا تھا کہ مسٹر کوئرالا کے پاس کوئی جائداد نہیں ہے۔وہ 75سال کی عمر میں وزیراعظم بنے ۔ان کے پاس نہ تو مکان تھا اور نہ ہی زمین ۔یہ بے حد حیرت کی بات ہےکی وزیر اعظم بننےتک ان کا کوئی بینک اکاؤنٹ ہی نہیں تھا۔ ان کے پریس صلاح کار پرکاش ادھیکاری نے ان کے وزیر اعظم بننے پرکہا تھا کہ مسٹر کوئرالا کو کبھی تنخواہ نہیں ملی ۔تنخواہ ملنے پر ہی بینک میں اکاؤنٹ کھلوایا جائےگا۔ وہ کٹھمنڈو میں ایک کرائے کےمکان میں رہتے تھےاور مکان کا کرایا ان کی پارٹی نیپالی کانگریس چکاتی تھی۔وزیراعظم بننے سے پہلے وہ اپنے خیر خواہوں کے ذریعہ دی گئی گاڑی میں گھومتے تھے۔ان کے چھ بھائیوں کےپاس آبائی زمین ہے مگر مسٹر کوئرالا نے کبھی اپنا حصہ نہیں مانگا۔جب وزیر اعظم دفتر کے افسر نے ان سے پوچھا تھا کہ وہ اور کوئی جائداد کی تفصیل دینا چاہیں گے تو انہوں نے کہا تھا ’’نہیں میرے پاس ان تین موبائل کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے‘‘۔ وزیر اعظم بننے کے بعد وہ اپنے وزیروں سے مالی شفافیت ایمانداری بنائے رکھنے اور بد عنوانی برداشت نہ کرنے کی صلاح دیتے تھے۔ گیانگار میں بیگیرگیٹ کانفرنس میں شامل ہونے کےلئے مسٹر کوئرالا سب سے چھوٹے وفد کے ساتھ گئے تھے۔وہ ایک عام سی کلائی کی گھڑی اور ایک انگوٹھی پہنتے تھے۔


      مسٹر کوئرالا کا کل دیر رات انتقال ہوگیا ہے۔ یہ نیپالی سیاست کے لئے ایک بہت بڑا نقصان ہے اور بہترین نیپالی رہنماؤں کی فہرست میں ایک اہم نام کم ہوگیا ہے۔

      First published: