உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Nawaz Sharif attacked: لندن میں سابق پاکستانی وزیراعظم نواز شریف پر حملہ، گارڈ زخمی، عمران کی پارٹی کے کارکنوں پر الزام

    سابق پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف پر لندن میں ہوا حملہ!

    سابق پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف پر لندن میں ہوا حملہ!

    حملے میں شریف کا گارڈ زخمی ہوا۔ برطانیہ میں مجرموں کی گرفتاری کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر کوششیں کی جا رہی ہیں۔بتادیں کہ وزیراعظم عمران خان کو آج اتوار کو قومی اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کرنی ہے۔

    • Share this:
      لندن/اسلام آباد: لندن میں مقیم پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف پر عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے ایک کارکن کی جانب سے حملہ کرنے کی اطلاعات ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس حملے میں نواز شریف کے گارڈز زخمی ہوئے ہیں۔ برطانوی پولیس ملزم کی گرفتاری کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔


      ایک پاکستانی صحافی نے معلومات دی ہیں۔ ایک پاکستانی صحافی کے مطابق، پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف پر موجودہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے ایک کارکن نے لندن میں حملہ کیا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Imranکا امتحان: تحریک عدم اعتماد سے پہلے چھاونی میں تبدیل ہوا پارلیمنٹ کے آس پاس کا علاقہ


      عمران کی پارٹی پر حملہ کرانے کا الزام
      پاکستان میں قائم ڈیجیٹل میڈیا فیکٹ فوکس سے وابستہ صحافی احمد نورانی نے ٹوئٹر پر لکھا، ’’پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف پر لندن میں پی ٹی آئی کے کارکن نے حملہ کیا ہے۔ پاکستان میں پی ٹی آئی کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے کیونکہ اب پارٹی تمام حدیں پار کر چکی ہے۔ جسمانی تشدد کو کبھی معاف نہیں کیا جا سکتا۔ پی ٹی آئی کو اب مثال بنانا چاہیے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Pakistanمیں بڑھے گاسیاسی بحران،اپوزیشن قائدین کے خلاف ملک سے غداری کاکیس درج کرنے کی تیاری

      انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حملے میں شریف کا گارڈ زخمی ہوا۔ برطانیہ میں مجرموں کی گرفتاری کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر کوششیں کی جا رہی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کو آج اتوار کو قومی اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کرنی ہے۔ اپوزیشن عمران خان کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے عدم اعتماد لے کر آئی ہے۔ پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد عمران خان کے اتحادی بھی ان کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: