உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بے نظیر بھٹو کے قتل کے لئے پرویز مشرف کو پھنسانے کا دباو تھا، سابق پولیس افسر کا سنسنی خیز انکشاف

    Benazir Bhutto and Pervez Musharraf: پاکستان میں 2007 میں سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کا قتل کردیا گیا تھا۔ اس قتل معاملے کو لےکرسابق اعلیٰ پولیس افسر نے الزام لگایا ہے کہ اس وقت کے وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے ان پر سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو قتل معاملے میں پرویز مشرف کو پھنسانے کے لئے دباو ڈالا تھا۔ میڈیا میں جمعہ کے روز سامنے آئی رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے۔

    Benazir Bhutto and Pervez Musharraf: پاکستان میں 2007 میں سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کا قتل کردیا گیا تھا۔ اس قتل معاملے کو لےکرسابق اعلیٰ پولیس افسر نے الزام لگایا ہے کہ اس وقت کے وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے ان پر سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو قتل معاملے میں پرویز مشرف کو پھنسانے کے لئے دباو ڈالا تھا۔ میڈیا میں جمعہ کے روز سامنے آئی رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے۔

    Benazir Bhutto and Pervez Musharraf: پاکستان میں 2007 میں سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کا قتل کردیا گیا تھا۔ اس قتل معاملے کو لےکرسابق اعلیٰ پولیس افسر نے الزام لگایا ہے کہ اس وقت کے وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے ان پر سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو قتل معاملے میں پرویز مشرف کو پھنسانے کے لئے دباو ڈالا تھا۔ میڈیا میں جمعہ کے روز سامنے آئی رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے۔

    • Share this:
      اسلام آباد: پاکستان کے ایک سابق اعلیٰ پولیس افسر نے دعویٰ کیا ہے کہ بے نظیر بھٹو کے قتل (Benazir Bhutto Assassination) معاملے کی جانچ کے دوران سابق صدر پرویز مشرف (Pervez Musharraf) کو پھنسانے کا دباو ڈالا گیا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ اس وقت کے وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے ان پر سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو قتل معاملے میں پرویز مشرف کو پھنسانے کے لئے دباو ڈالا تھا۔ میڈیا میں جمعہ کے روز سامنے آئی رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے۔

      بے نظیر بھٹو قتل معاملے کی جانچ کے لئے تشکیل کی گئی خصوصی جانچ ٹیم (ایس آئی ٹی) کے مقصدی رپورٹ پر دستخط نہیں کرنے سے متعلق سوال پر سابق پولیس افسر راو انور نے جیو نیوز سے ایک انٹرویو میں کہا کہ رحمٰن ملک چاہتے تھے کہ سابق صدر سے پوچھ گچھ یا بیان درج کئے بغیر ہی ان کا نام شامل کردیا جائے۔ راو انور نے کہا، ’میں نے (ایس آئی ٹی کی رپورٹ پر) دستخط نہیں کئے کیونکہ ملک نے پرویز مشرف کو ملزم بنانے کے لئے دباو ڈالا۔ میں نے ثبوت مانگے تو ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا‘۔

      پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی 27 دسمبر، 2007 کو ایک انتخابی ریلی کے دوران راولپنڈی میں پاکستان طالبان کے ذریعہ کئے گئے خود کش حملے میں قتل کردیا گیا تھا۔ تقریباً 400 فرضی تصادم معاملوں میں شامل ہونے کے سبب ان دنوں ضمانت پر چل رہے سابق بدنام زمانہ پولیس افسر نے یہ بھی کہا کہ وہ حلف کے تحت بیان دینے کے لئے تیار ہیں۔

       پاکستان پیپلز پارٹی کے لیڈر کے کردار پر خدشہ

      سابق پولیس افسر نے رحمٰن ملک کے کردار پر بھی خدشہ ظاہر کیا۔ ان کا ماننا ہے کہ بے نظیر بھٹو کے سیکورٹی سربراہ کے طور پر اس معاملے میں سابق وزیر داخلہ کی جانچ ہونی چاہئے تھی، لیکن ان سے کبھی پوچھ گچھ نہیں کی گئی۔ رحمٰن ملک کی حال ہی میں کووڈ-19 پیچیدگیوں کے سبب ہلاک ہوگئی اور انہوں نے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی یا مشترکہ جانچ ٹیم کے ساتھ اپنا بیان درج نہیں کیا تھا۔

      یہ پوچھے جانے پرکہ وہ اب یہ سب انکشاف کیوں کر رہے ہیں، تو سابق پولیس افسر نے کہا کہ وہ پرویز مشرف کی خراب ہوتی صحت کے بارے میں سننے کے بعد کچھ ’ثبوتوں کو ریکارڈ میں‘ لانا چاہتے ہیں۔ پاکستان کے سابق فوجی تانا شاہ پرویز مشرف سنگین حالت میں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ایک اسپتال میں داخل ہیں اورا ن کے ٹھیک ہونے کا امکان بہت کم ہے۔

      سال 1999 سے 2008 تک پاکستان پر اقتدار کرنے والے 78 سالہ پرویز مشرف پر سنگین ملک سے غداری کا الزام لگایا گیا اور آئین کو معطل کرنے کے لئے 2019 میں موت کی سزا دی گئی۔ بعد میں ن کی موت کی سزا کو معطل کردیا گیا تھا۔

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: