உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Mikhail Gorbachev:سوویت یونین کے سابق صدر میخائل گورباچوف نہیں رہے،91سال کی عمر میں لی آخری سانس

    سوویت یونین کے آخری رہنما میخائل گورباچوف۔

    سوویت یونین کے آخری رہنما میخائل گورباچوف۔

    Mikhail Gorbachev: میخائل گورباچوف یونائٹیڈ یونین آف سوویت سوشلسٹ ریپبلک (USSR) کے آخری لیڈر تھے۔ وہ ایک نوجوان اور ابھرتے ہوئے سوویت لیڈر تھے ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • New Delhi, India
    • Share this:
      Mikhail Gorbachev:سوویت یونین کے سابق صدر اور سرد جنگ کو ختم کرنے والے میخائل گورباچوف(Mikhail Gorbachev) کی موت ہوگئی ہے، وہ طویل عرصے سے بیمار تھے۔ انہوں نے 91 سال کی عمر میں آخری سانس لی۔ روسی خبررساں ایجنسی اسپوتنک نے سینٹرل کلینکل اسپتال کے ایک بیان کے حوالے سے کہا ہے کہ طویل بیماری کے بعد ان کا انتقلا ہوگیا ہے۔

      میخائل گورباچوف یونائٹیڈ یونین آف سوویت سوشلسٹ ریپبلک (USSR) کے آخری لیڈر تھے۔ وہ ایک نوجوان اور ابھرتے ہوئے سوویت لیڈر تھے جو شہریوں کو آزادی دے کر جمہوری اقدار کی طرز پر کمیونسٹ اقتدار میں اصلاحات کرنا چاہتے تھے۔ 1989 میں جب کمیونسٹ مشرقی یورپ کے سوویت یونین میں جمہوریت کے حامی مظاہروں میں شدت آگئی تب بھی گورباچوف نے طاقت کے استعمال سے گریز کیا تھا۔

      یہ بھی پڑھیں:

      Nuclear deal: امریکی تحقیقات کے خاتمے کے بغیر جوہری معاہدہ بے معنی، ایران نے کیا مطالبہ

      پاکستان کیلئے IMF کی طرف سےفنڈز جاری، کیا 1.1 بلین ڈالرسےزائدرقم پاک معیشت کابنےگی سہارا؟

      یہ بھی پڑھیں:
      Trade with Pakistan: پاکستان کے ساتھ تجارت ممکن نہیں! ’پہلےسرحدپاردہشت گردی کوکیاجائےختم‘

      Moqtada Sadr: بغداد میں صدارتی محل پر دھاوے، جھڑپوں کے دوران 12 افراد ہلاک

      پریس اور فنکار برادری کو ثقافتی آزادی دی تھی
      انہوں نے گلاسنوسٹ کی پالیسی (سابق سوویت یونین میں 1985 میں میخائل گورباچوف کی طرف سے شروع کی گئی حکومت کو کھلے مشورے اور معلومات کے وسیع پیمانے پر پھیلانے کی پالیسی) اور اظہار رائے کی آزادی کو تسلیم کیا تھا جس پر ان کے سابقہ ​​دور حکومت میں سخت پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ گورباچوف نے اقتصادی اصلاحات کا ایک پروگرام جسے پیریسٹروئیکا، یا تنظیم نو کہا جاتا ہے، بھی شروع کیا جو ضروری تھا، کیونکہ سوویت معیشت افراط زر اور سپلائی کی کمی دونوں کے ساتھ جدوجہد کر رہی تھی۔ ان کے دور میں پریس اور فنکار برادری کو ثقافتی آزادی دی گئی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: