ہوم » نیوز » عالمی منظر

فرانسیسی پر پولیس مہاجرین کا جسمانی استحصال کر نے کا الزام

برطانوی فلاحی ادارے آکسفیم نے دعویٰ کیا ہے کہ فرانسیسی پولیس اہلکار نابالغ مہاجرین کے جوتوں کے تلوے کاٹنے، انہیں تشدد کا نشانہ بنانے، حراست میں لینے اور زبردستی واپس اٹلی بھیجنے جیسے اقدامات میں ملوث ہیں۔

  • UNI
  • Last Updated: Jun 16, 2018 04:28 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
فرانسیسی پر پولیس مہاجرین کا جسمانی استحصال کر نے کا الزام
برطانوی فلاحی ادارے آکسفیم نے دعویٰ کیا ہے کہ فرانسیسی پولیس اہلکار نابالغ مہاجرین کے جوتوں کے تلوے کاٹنے، انہیں تشدد کا نشانہ بنانے، حراست میں لینے اور زبردستی واپس اٹلی بھیجنے جیسے اقدامات میں ملوث ہیں۔

لندن : برطانوی فلاحی ادارے آکسفیم نے دعویٰ کیا ہے کہ فرانسیسی پولیس اہلکار نابالغ مہاجرین کے جوتوں کے تلوے کاٹنے، انہیں تشدد کا نشانہ بنانے، حراست میں لینے اور زبردستی واپس اٹلی بھیجنے جیسے اقدامات میں ملوث ہیں۔ آکسفیم کی جانب سے فرانسیسی اہلکاروں پر مہاجرین کے استحصال میں ملوث ہونے کے الزامات ایک ایسے وقت عائد کیے گئے ہیں جب اٹلی اور فرانس کے مابین مہاجرین کے بحران کے حوالے سے شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔



جمعہ کے روز جاری آکسفیم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کم عمر مہاجر بچوں کو ملکی حدود سے نکال کر اٹلی بھیجنے اور انہیں حراست میں لئے جانے جیسے اقدامات کر کے فرانس نہ صرف ملکی بلکہ یوروپی اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا بھی مرتکب ہو رہا ہے۔



اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اٹلی اور فرانس کے مابین سرحد پر ’نو مینز لینڈ‘ میں ساڑھے سولہ ہزار سے زائد تارکین وطن موجود ہیں جن میں سے ایک چوتھائی نابالغ مہاجر بچے ہیں۔ان دنوں مہاجرین کے بحران کے حوالہ سے روم اور پیرس حکومتوں کے مابین شدید سفارتی کشیدگی پائی جاتی ہے۔ روم اور پیرس حکومتوں کے مابین سفارتی کشیدگی کا سبب فرانسیسی صدر اور کئی دیگر فرانسیسی رہنماؤں کی جانب سے مہاجرین سے بھرے امدادی بحری جہاز کو اطالوی ساحلوں پر لنگر انداز ہونے کی اجازت نہ دینے کے اطالوی فیصلہ کے بعد دئیے گئے بیانات بنے تھے۔


فرانسیسی صدر امانوئل میکرون نے بحیرہ روم سے ریسکیو کیے گئے مہاجرین کو اٹلی آنے کی اجازت نہ دینے کے فیصلے پر روم حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس فیصلے کو ’مایوس کن اور غیر ذمہ دارانہ‘ قرار دیا تھا جب کہ میکرون کی پارٹی کے ترجمان نے کہا کہ اس معاملہ میں اٹلی کے اقدامات ’متلی کا باعث‘ بننے والے تھے۔ ان بیانات کے بعد اٹلی نے پیرس حکومت سے سرکاری سطح پر معذرت طلب کی تھی۔


آکسفیم نے اپنی اس تازہ رپورٹ میں فرانس کی حدود میں داخل ہونے والے متعدد مہاجر بچوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان کا’ ’زبانی اور جسمانی استحصال کیا جاتا ہے اور خوارک اور کمبلوں کے بغیر رات بھر قید میں رکھا جاتا ہے جبکہ انہیں اس دوران ان کے بالغ ورثا تک رسائی بھی حاصل نہیں ہوتی‘‘۔


اریٹریا سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان مہاجر لڑکی کے بارے میں بتایا گیا کہ فرنچ پولیس اہلکاروں نے اس کے جوتوں کے تلوے کاٹنے اور سم کارڈ چھیننے کے بعد اسے زبردستی اٹلی کی حدود میں بھیج دیا۔ آکسفیم نے اس کے علاوہ بھی سینکڑوں ایسے واقعات کا ریکارڈ جمع کیا ہے جن میں فرانسیسی سکیورٹی حکام مبینہ طور پر سیاسی پناہ کے یوروپی اور عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں کے مرتکب ہوئے۔


یہ امر بھی اہم ہے کہ فرانس نے 2015 سے سرحدی نگرانی سخت کر رکھی ہے۔ ڈبلن ضوابط کے تحت تارکین وطن کو اسی یوروپی ملک میں پناہ کی درخواست جمع کرانا ہوتی ہے، جس کے ذریعے وہ یوروپی یونین کی حدود میں داخل ہوئے۔ تاہم انہیں قوانین کے مطابق نابالغ مہاجر بچے کسی بھی ایسے یوروپی ملک میں سیاسی پناہ کی درخواست جمع کرا سکتے ہیں، جہاں ان کے رشتہ دار مقیم ہوں۔
First published: Jun 16, 2018 02:57 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading