உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    فرانس کے صدر نے کی پی ایم مودی کے بیان کی حمایت،کہا-صحیح کہایہ جنگ کا وقت نہیں

    فرانس کے صدر نے کی پی ایم مودی کے بیان کی حمایت،کہا-صحیح کہایہ جنگ کا وقت نہیں.(فائل فوٹو)

    فرانس کے صدر نے کی پی ایم مودی کے بیان کی حمایت،کہا-صحیح کہایہ جنگ کا وقت نہیں.(فائل فوٹو)

    وزیراعظم نریندر مودی نے روسی صدر کے سامنے کہا تھا، آج کا دور جنگ کا نہیں ہے۔ میں آپ سے فون کال پر اس کے بارے میں بات کی ہے۔ آج ہمیں اس بارے میں بات چیت کا موقع ملے گا کہ ہم کیسے امن اور ترقی کے راستے پر آگے بڑھ سکتے ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • New Delhi, India
    • Share this:
      نیویارک میں جاری اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 77ویں اعلیٰ سطحی سیشن میں فرانس کے صدر ایمانول میکرون نے وزیراعظم نریندر مودی کے اس بیان کی حمایت کی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ یہ وقت جنگ کا نہیں ہے۔

      بتادیں کہ حال ہی میں شنگھائی تعاون آرگنائیشن (SCO) کی سالانہ میٹنگ سے الگ روس کے صدر ولادیمیر پوتن سے دوطرفہ بات چیت کے دوران وزیراعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ یہ وقت جنگ کا نہیں ہے۔ مودی نے یہ بات روس یوکرین جنگ کو لے کر کہی تھی۔

      صدر ایمانویل میکرون نے کیا کہا؟
      فرانسیسی صدر نے کہا، ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی نے ٹھیک کہا تھا کہ یہ جنگ کا وقت نہیں ہے۔ یہ وقت مغرب سے انتقام لینے یا مشرق کے خلاف مغرب کے احتجاج کا نہیں ہے۔ ہماری خود مختار قومیں مل کر آنے والے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ساتھ آنے کا وقت ہے۔

      وزیراعظم نریندر مودی نے کیا کہا تھا؟
      وزیراعظم نریندر مودی نے روسی صدر کے سامنے کہا تھا، آج کا دور جنگ کا نہیں ہے۔ میں آپ سے فون کال پر اس کے بارے میں بات کی ہے۔ آج ہمیں اس بارے میں بات چیت کا موقع ملے گا کہ ہم کیسے امن اور ترقی کے راستے پر آگے بڑھ سکتے ہیں۔ ہندوستان اور روس کئی دہائیوں تک ایک دوسرے کے ساتھ رہے ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      متحدہ عرب امارات میں ہندوستانی نژاد عبدالصمد بٹ راتوں رات بنے کروڑ پتی، جانیے تفصیلات

      یہ بھی پڑھیں:
      پاکستان میں روٹی۔کھانا ہوا مہنگا، گیہوں و آٹے کی قیمتوں میں 10 سے20 فیصد اضافہ

      انہوں آگے کہا تھا، ہم نے ہندوستان-روس دوطرفہ اور مختلف مدعوں کو لے کر فون پر کئی مرتبہ بات چیت کی ہے۔ ہمیں غذائی اجناس، ایندھن، سیکورٹی اور توانائی کے مسائل کے حل کے طریقے تلاش کرنے چاہیے۔ میں یوکرین سے ہمارے طلبہ کو نکالنے میں مدد کے لئے روس اور یوکرین کو شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: