ہوم » نیوز » عالمی منظر

غزہ میں مہلوکین کی تعداد145ہوگئی:امریکی صدرجوبائیڈن کی محمودعباس اورنیتن یاہوکےساتھ گفتگو،دوطرفہ حل پرزور

امریکی صدر جو بائیڈن (US President Joe Biden) نے اسرائیل اور فلسطین تنازعہ کے منصفانہ اور پائیدار حل تک پہنچنے پر زور دیا ہے۔ انھوں نے ایک بہترین راستہ کے طور پر باہمی دوطرفہ حل (two-state solution) کے لیے بات چیت کے بارے میں اپنی مضبوط وابستگی پر زوردیاہے

  • Share this:
غزہ میں مہلوکین کی تعداد145ہوگئی:امریکی صدرجوبائیڈن کی محمودعباس اورنیتن یاہوکےساتھ گفتگو،دوطرفہ حل پرزور
اسرائیلی تشدد کے چھٹے روزفون پربات کرتے ہوئے بائیڈن نے حماس (Hamas) اور دیگر فلسطینی مزاحمتی گروپوں (Palestinian resistance groups) کے راکٹ حملوں کے خلاف اسرائیل کے دفاع میں اپنے ردعمل کااظہارکیاہے۔

امریکی صدرجو بائیڈن (US President Joe Biden) نے فلسطین اور اسرائیل کی قیادت کے ساتھ فون پرگفتگو کی ہے۔ اسرائیل نے گذشتہ کئی روز سے غزہ (Gaza) کا محاصرہ کررکھا ہے اور مغربی کنارے (West Bank) پر قبضہ کرچکاہے۔ اس دوران اسرائیل اپنی فوجی طاقت جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے ان واقعات کے پش منظر میں شدید تشویش کا اظہارکیاہے۔


اسرائیلی تشدد کے چھٹے روزفون پربات کرتے ہوئے بائیڈن نے حماس (Hamas) اور دیگر فلسطینی مزاحمتی گروپوں (Palestinian resistance groups) کے راکٹ حملوں کے خلاف اسرائیل کے دفاع میں اپنے ردعمل کااظہارکیاہے۔ انہوں نے اسرائیلیوں کے حق کے لئے اپنی حمایت اور تائید کو دہرایاہے۔


اسرائیلی فوج کے ہوائی حملے میں ہفتہ کو غزہ شہر میں واقع ایک کثیر منزلہ عمارت منہدم ہوگئی ، جس میں ایسوسی ایٹیڈ پریس اور دیگر میڈیا اداروں کے دفاتر واقع تھے ۔ اسرائیلی فوج کے اس حالیہ قدم کو حماس کے ساتھ جاری اس کی لڑائی کے سلسلہ میں غزہ کی زمینی سطح کی اطلاعات کو سامنے لانے سے روکنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے ۔ (photo : AP)
اسرائیلی فوج کے ہوائی حملے میں ہفتہ کو غزہ شہر میں واقع ایک کثیر منزلہ عمارت منہدم ہوگئی ، جس میں ایسوسی ایٹیڈ پریس اور دیگر میڈیا اداروں کے دفاتر واقع تھے ۔ اسرائیلی فوج کے اس حالیہ قدم کو حماس کے ساتھ جاری اس کی لڑائی کے سلسلہ میں غزہ کی زمینی سطح کی اطلاعات کو سامنے لانے سے روکنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے ۔ (photo : AP)


  • معصوم بچے، خواتین اور بزرگ شہری بھی ہلاک:


اطلاعات کے مطابق اسرائیلی تشدد کے دوران تقریبا 145 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے ہیں۔ جس میں معصوم بچے، خواتین اور بزرگ شہری سبھی شامل ہیں۔

اسرائیلی نے بھاری بھرکم راکٹ حملوں، مسلح اور تباہ کن ہتھیاروں کے ذریعہ غزہ کی کئی عمارتوں کو تباہ و برباد کردیا ہے۔ جس میں شہر کے قدیم عمارات بھی شامل ہیں۔

  • میڈیا ادارے بھی اسرائیل کے نشانہ پر:


وہائٹ ​​ہاؤس میں ہفتے کے روز ایک بیان جاری کیا گیا، جس کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے غزہ میں رہائش پذیر ایسوسی ایٹ پریس (Associated Press)، الجزیرہ (Al Jazeera) اور دیگر ذرائع ابلاغ کے دفاتر کو بھی راکٹ حملوں کے ذریعہ زمین بوس کردیا ہے۔ اس بیان میں صحافیوں کی حفاظت کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کیا۔

بائیڈن نے فلسطینی رہنما محمود عباس (Mahmoud Abbas) کو بتایا کہ حماس کو اسرائیل پر راکٹ حملے بند کرنے چاہئیں۔

  • منصفانہ اور پائیدار حل پر زور:


امریکی صدر جو بائیڈن (US President Joe Biden) نے اسرائیل اور فلسطین تنازعہ کے منصفانہ اور پائیدار حل تک پہنچنے پر زور دیا ہے۔ انھوں نے ایک بہترین راستہ کے طور پر باہمی دوطرفہ حل (two-state solution) کے لیے بات چیت کے بارے میں اپنی مضبوط وابستگی پر زوردیاہے۔بائیڈن کا دونوں متوسط ​​رہنماؤں سے فون پر بات اس وقت ہوئی جب غزہ کی وزارت صحت نے فلسطینی محصور میں چھ روزہ اسرائیلی حملوں سے مزید کئی ہلاکتوں اطلاع دی ہے۔۔

اس میں کہا گیا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی حملوں میں کم سے کم 145 فلسطینی ہلاک ہوگئے، جن میں 41 بچے اور 23 خواتین شامل ہیں، جبکہ 10 مئی سے ایک ہزار ایک سو زخمی ہوئے ہیں، جس کی تعداد میں مزید اضافہ ہی ہوتے جارہا ہے۔حماس کے گروپ نے اسرائیل پر راکٹ حملوں کا ایک سلسلہ جاری رکھا اور تل ابیب (Tel Aviv) کے مضافاتی علاقے میں راکٹ کے گھر سے ٹکرا جانے سے ایک شخص ہلاک ہوگیا۔

  • رفح بارڈر کراسنگ کو کھولنے کی ضرورت:


طبی عہدیداروں نے بتایا کہ مصر نے غزہ کے ساتھ اپنی رفح بارڈر کراسنگ (Rafah border crossing) کھول دی تاکہ 10 ایمبولینسوں کو شدید زخمیوں کو مصری اسپتالوں میں منتقل کرنے کی اجازت دی جائے۔

فلسطین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی وافا (WAFA) کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بائیڈن نے کہا ہے کہ وہ مقبوضہ مشرقی یروشلم کے شیخ جراح سے فلسطینیوں کو ملک بدر کرنے کی مخالفت کرتے ہیں۔ حالانکہ اس گفتگو کے بارے میں وائٹ ہاؤس کے اکاؤنٹ میں اس معاملے کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

  • اسرائیلی باز آبادکاروں کی بڑھتی تعداد:


واضح رہے کہ اسرائیلی باز آبادکاروں کی بڑھتی تعداد اور فلسطینی مسلمانوں کو ملک بدر کرنے کے معاملے پر ایک طویل عرصے سے قانونی مقدمہ چا رہا ہے۔ یہی معاملہ شیخ جراح علاقہ میں بھی زور پڑچکا ہے۔ جو کہ ارض مقدس میں تناؤ کو جنم دیتا ہے اور اسرائیلی افواج اور غیر قانونی آباد کاروں کے ذریعہ فلسطینیوں پر حملوں کی بھڑک اٹھاتا ہے، جو بالآخر غزہ پر بمباری اور انتقامی راکٹ حملوں کا باعث بنتا ہے۔

عباس کی فلسطینی اتھارٹی (Abbas's Palestinian Authority) نے سن 1967 کی مشرق وسطی کی جنگ میں غزہ اور مشرقی یروشلم کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے زیر قبضہ مقبوضہ مغربی کنارے میں محدود خودمختاری کا اعلان کرتے ہوئے حکمرانی کی۔

لیکن پی اے غزہ اور حماس پر بہت کم اثر و رسوخ ظاہر کرتا ہے، جس نے 2007 میں فلسطینیوں کے محاصرے کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔

دوسری طرف امریکہ حماس کو ایک دہشت گرد تنظیم سمجھتا ہے، اور اس گروپ سے بات نہیں کرتا ہے۔

غزہ میں کثیر منزلہ عمارتوں پر اسرائیل کا فضائی حملہ ، کئی بین الاقوامی میڈیا ہاوس کے دفاتر تباہ (Al Jazeera)
غزہ میں کثیر منزلہ عمارتوں پر اسرائیل کا فضائی حملہ ، کئی بین الاقوامی میڈیا ہاوس کے دفاتر تباہ (Al Jazeera)


  • وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی دھمکی:


وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو (Prime Minister Benjamin Netanyahu) نے اسرائیل پر راکٹ فائر کرکے حماس پر تقریبا ایک ہفتہ تک دشمنی شروع کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا اسرائیل جب تک ضروری ہو غزہ پر بم باری جاری رکھے گا اور شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لئے پوری کوشش کرے گا۔

نیتن یاہو نے ٹیلی ویژن پر اپنی تقریر میں کہا کہ ’’اس محاذ آرائی کے لئے جو جماعت مجرم ہے وہ ہم نہیں ہے، وہی لوگ ہم پر حملہ کر رہے ہیں۔ ہم ابھی بھی اس آپریشن کے درمیان ہیں، یہ اب بھی ختم نہیں ہوا ہے اور یہ آپریشن جب تک ضروری ہو گا جاری رہے گا‘‘۔

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حماس کو اس لئے کام کرنے پر مجبور کیا گیا تھا کہ عباس کو کمزور کردیں اور ان کی پے اے پارٹی مسجد اقصیٰ میں غیر مسلح فلسطینیوں پر ممکنہ ملک بدریاں اور حملوں کو روک نہیں سکتی تھی۔

  • مسجد اقصی میں نمازیوں پر حملے:


فلسطینی ماہر عظمت تمیمی نے ٹی آر ٹی ورلڈ کو بتایا کہ مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینیوں نے مسجد اقصی میں غیر مسلح نمازیوں پر حملہ کرنے کے بعد حماس سے انتقامی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا "اسرائیلیوں سے عالمی برادری نے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نمازیوں کو مشتعل اور حملہ کرنا بند کردیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نیتن یاھو اپنے سیاسی مفاد کے لئے تشدد کا پیچھا کرتے رہتے ہیں۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: May 16, 2021 08:55 AM IST