உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل راوت نے کہا- جس تیزی سے افغانستان پر طالبان کا قبضہ ہوا اس سے سب حیران

    جنرل بپن راوت نے کہا- جس تیزی سے افغانستان پر طالبان کا قبضہ ہوا اس سے سب حیران

    جنرل بپن راوت نے کہا- جس تیزی سے افغانستان پر طالبان کا قبضہ ہوا اس سے سب حیران

    چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت نے کہا ہے کہ طالبان کا افغانستان پر قبضہ متوقع تھا لیکن جس رفتار سے یہ ہوا اس نے سب کو حیران کر دیا۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی: چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت نے کہا ہے کہ طالبان کا افغانستان پر قبضہ متوقع تھا، لیکن جس رفتار سے یہ ہوا اس نے سب کو حیران کردیا۔ جنرل بپن راوت نے بدھ کے روز آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے ایک پروگرام میں ’’ہندوستان-امریکہ شراکت داری: 21 ویں صدی کی حفاظت‘‘ پر اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ ہندوستان کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی منصوبہ بندی پہلے ہی بنا رہا ہے۔
      انہوں نے کہا ’’جو کچھ ہوا پہلے ہی متوقع تھا، صرف وقت بدلا ہے۔ افغانستان پر طالبان کا قبضہ متوقع تھا۔ ہمیں اس بات پر تشویش تھی کہ افغانستان سے دہشت گردانہ سرگرمیاں ہندوستان میں کیسے ہو سکتی ہیں۔ ہمارا ہنگامی منصوبہ چل رہی تھی اور ہم اس کے لیے تیار تھے‘‘۔
      جنرل راوت نے کہا کہ طالبان کے افغانستان پر قبضے سے ہمیں یقیناً حیرانی ہے، ہمیں لگتا تھا کہ اس میں کچھ مہینے کا وقت لگ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان میں کچھ نہیں بدلا اور یہ وہی طالبان ہیں، جو 20 سال پہلے تھے۔ اب اس کے اتحادی بدل گئے ہیں۔ افغانستان پر طالبان کے قبضہ کے بعد سے عالمی برادری کو تشویش ہے۔ ہندوستان پرخاص طور پر جموں و کشمیر میں اس کے اثرات کے بارے میں کئی خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔


      جنرل راوت نے کہا کہ طالبان کے افغانستان پر قبضے سے ہمیں یقیناً حیرانی ہے، ہمیں لگتا تھا کہ اس میں کچھ مہینے کا وقت لگ سکتا ہے۔
      جنرل راوت نے کہا کہ طالبان کے افغانستان پر قبضے سے ہمیں یقیناً حیرانی ہے، ہمیں لگتا تھا کہ اس میں کچھ مہینے کا وقت لگ سکتا ہے۔


      واضح رہے کہ افغانستان میں طالبان کے ذریعہ اقتدار پر قبضہ کئے جانے کے بعد سے پوری دنیا میں ہنگامہ مچا ہوا ہے۔ تمام ممالک اپنے اپنے شہریوں اور سفارت کاروں کو محفوظ طریقے سے نکالنے کے لئے مناسب اقدامات کر رہی ہیں۔ اس سلسلے میں روزانہ افغانستان سے بیرون ممالک کے لوگ نکل رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ افغانستان کی راجدھانی کابل پر بھی طالبان نے قبضہ کرلیا ہے۔ حالانکہ پھر امریکہ نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ کابل حامد کرزئی ایئر پورٹ امریکہ کے قبضے میں ہے۔ وہیں طالبان نے امریکہ کو وارننگ دی ہے کہ وہ متعینہ وقت 30 اگست کو اگر افغانستان سے مکمل طور پر فوجی نہیں نکل جاتے ہیں اور اس میں توسیع کی جاتی ہے تو پھر اس کے انجام بہت خطرناک ہوں گے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: