ہوم » نیوز » عالمی منظر

جرمن اسلام کے زیادہ عربیائے جانے کا رجحان

برلن۔ جرمنی میں اب تک جہاں ترک نسل کے مسلمان اسلام کی نمائندگی کرتے آرہے تھےوہیں اب یہ منظر نامہ بدلنے جا رہا ہے جس کا سہرا شامی خانہ جنگی کے ساتھ ساتھ عراق اور افغانستان کے حالات کے سر بندھتا ہے جہاں سے جرمنی آنے والے لاکھوں مہاجرین کی وجہ سے جرمن اسلام عرب اسلام میں بدل رہا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Nov 08, 2015 03:03 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
جرمن اسلام کے زیادہ عربیائے جانے کا رجحان
برلن۔ جرمنی میں اب تک جہاں ترک نسل کے مسلمان اسلام کی نمائندگی کرتے آرہے تھےوہیں اب یہ منظر نامہ بدلنے جا رہا ہے جس کا سہرا شامی خانہ جنگی کے ساتھ ساتھ عراق اور افغانستان کے حالات کے سر بندھتا ہے جہاں سے جرمنی آنے والے لاکھوں مہاجرین کی وجہ سے جرمن اسلام عرب اسلام میں بدل رہا ہے۔

برلن۔  جرمنی میں اب تک جہاں ترک نسل کے مسلمان اسلام کی نمائندگی کرتے آرہے تھےوہیں اب یہ منظر نامہ بدلنے جا رہا ہے جس کا سہرا شامی خانہ جنگی کے ساتھ ساتھ عراق اور افغانستان کے حالات کے سر بندھتا ہے جہاں سے جرمنی آنے والے لاکھوں مہاجرین کی وجہ سے جرمن اسلام عرب اسلام میں بدل رہا ہے۔


حال ہی میں جرمن چانسلر انجیلا مارکل نے بھی اس کا بہ انداز دیگر نوٹس لیا تھا اور ڈی ڈبلیو آن لائن نے ایک جرمن خبر رساں ایجنسی کے حوالے سے مفصل طور پر خبر دی ہے کہ 2015 میں جرمنی آنے والے نئے مہاجرین یا تارکین وطن کی غالب اکثریت خانہ جنگی کے شکار شامیوں، عراقیوں یا پھر افغانوں کی ہے۔ جرمنی پہنچنے والے یہ مسلمان اپنے ساتھ اسلام کا اپنا اپنا فہم اور سماجی اور مذہبی تصور بھی لے کر آئے ہیں۔


ہجرت کو انتہائی تکلیف دہ طریقے سے مہمیز لگانے والے پیدا شدہ حالات سے قبل ابھی کل تک جرمنی میں کوئی تیس لاکھ یا اس سے بھی زیادہ مسلمانوں کی جو سب سے بڑی مذہبی اقلیت موجود رہی، اس کا تشخص بنیادی طور پر ترک تھا کیونکہ ان مسلمانوں میں سب سے بڑا نسلی گروپ ترک باشندوں ہی کا ہے۔ اب یہ تناسب بدلنے لگاہے اور جرمنی میں آباد مسلمانوں میں ترک نسل کے مسلمانوں کی شرح نہ صرف کم ہو رہی ہے بلکہ ’جرمن اسلام‘ متنوع ہو نے کے ساتھ پہلے کے مقابلے میں ’زیادہ عرب اسلام میں بدلتا نظر آرہا ہے۔ جرمنی میں لاکھوں مہاجرین کی صورت میں بہت زیادہ مسلمانوں کی آمد کے خلاف مظاہرے بھی کیے جا رہے ہیں۔


جرمنی کی حکومت اس صورتحال سے کیسے نبرد آزما ہوتی ہے یہ تو وقت بتائے گا لیکن اتنا طے ہے کہ عراق سے مسلم مہاجرین کی آمد جرمنی میں شیعہ مسلمانوں کی نمائندگی نمایاں کرنے جارہی ہے جو جرمنی میں مسلمانوں کے ساتھ سب سے بڑی مذہبی اقلیت کے طور پر مکالمت اور بھی زیادہ ضروری بنا دے گی کیونکہ اب تک اس سلسلے میں کوئی متفقہ مذہبی پلیٹ فارم موجود نہیں تھا۔


خبروں میں کہا گیا ہے کہ جو نئے مسلمان مہاجرین جرمنی آئے ہیں، وہ اپنی آمد کے بعد عبادت کے لیے اپنے ارد گرد کے علاقوں میں مسجدیں ڈھونڈتے پھر رہےہیں۔ جرمن شہر مائنز سے تعلق رکھنے والے اسلامی امور کے ماہر مروان ابو طعام کے مطابق اب تک جرمنی میں مسلمانوں کی سب سے بڑی تنظیم دیتیب  ہے، جو ترک مسلمانوں کی اسلامی یونین ہے۔ باقی تمام مسلم تنظیمیں اس سے چھوٹی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک عام جرمن شہری کے لیے اسلام کا وہی تشخص زیادہ جانا پہچانا ہوتا ہے، جو ترک اسلامی تشخص ہے۔

مروان ابو طعام کے بقول نئے آنے والے مہاجرین کی بہت بڑی اکثریت شامی باشندوں کی ہے، جس کا مطلب ہے کہ اب ’جرمن اسلام‘ کے زیادہ ’عربیائے جانے کا رجحان‘ دیکھنے میں آئے گا۔

First published: Nov 08, 2015 03:03 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading