ہوم » نیوز » عالمی منظر

یہاں شادی کیلئے لڑکیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے پہلے یہ گھٹیا کام، ویڈیو سامنے آنے کے بعد حرکت میں آئی حکومت، آپ کے بھی اڑ جائیں گے ہوش

دنیا کے ہر ملک کی اپنی الگ روایات اور رسومات ہیں لیکن کچھ ممالک کے رسم و رواج اتنے عجیب ہیں کہ سننے کے بعد آپ کے ہوش ہی اڑ جائیں گے۔

  • Share this:
یہاں شادی کیلئے لڑکیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے پہلے یہ گھٹیا کام، ویڈیو سامنے آنے کے بعد حرکت میں آئی حکومت، آپ کے بھی اڑ جائیں گے ہوش
علامتی تصویر

دنیا کے ہر ملک کی اپنی الگ روایات اور رسومات ہیں لیکن کچھ ممالک کے رسم و رواج اتنے عجیب ہیں کہ سننے کے بعد آپ کے ہوش ہی اڑ جائیں گے۔ آج ہم آپ کو انڈونیشیا (Indonesia) کے سمبا جزیرہ کی ایک ایسی ہی روایت سے کے بارے میں بتائیں گے جہاں لڑکیوں کو پہلے اغوا کیا جاتا ہے اور پھر بعد میں ان کی شادی کردی جاتی ہے۔ تاہم اس روایت کو ختم کرنے کے لئے تمام تر کوششیں کی جارہی ہیں۔ شادی کے لئے لڑکی کے اغوا کی ایسی ہی کہانی منظرعام پر آ گئی ہے۔ جہاں کچھ لوگوں نے ایک لڑکی کو اغوا کرلیا۔ اس قسم کی رسم کو یہاں کاون ٹانگ کاپ کہا جاتا ہے جو سمبا جزیرے کی متنازعہ رسم ہے۔ یہ سسٹم کہاں پیدا ہوا اس بارے میں بھی تنازعہ ہے۔ اس رسم روایات میں خواتین کو شادی کرنے کے خواہشمند مرد کے کنبے والے یا دوست طاقت کے بل پر اٹھا لیے ہیں۔

اس رسم پر روک لگنے کیلئے خاتون افسر گروپ کی طویل وقت سے مانگ رہی ہے۔ اس کے باوجود سمبا کے کچھ حصوں میں یہ ابھی بھی جاری ہے۔ اس کے باوجود سمبا کے کچھ حصوں میں یہ ابھی بھی جاری ہے۔ سمبا انڈونیشیا کا ایک جزیرہ ہے لیکن دو خواتین کے اغوا کا واقعہ ویڈیو میں قید ہونے اور ان کے سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر پھیلنے کے بعد مرکزی حکومت حرکت میں آگئی ہے اور اب اس پر سختی سے لگام لگائی جارہی ہے جس لڑکی کا شادی کیلئے اغوا کیا گیا اس نے بتایا کہ کار کے اندر سے وہ اپنے بوائے فرینڈ اور والدین کو میسیج کرنے میں کامیاب رہی۔ جس گھر میں اسے لے جایا گیا وہ اس کے والد کے ایک دور کے رشتے داروں کا تھا۔ وہ بتاتی ہے کہ وہاں پر کئی لوگ انتظار کررہے تھے۔ جیسے ہی میں وہاں پہنچی انہو نے گانا شروع کردیا اور شادی کے پروگرام شروع کردئے گئے۔ بتادیں کی سمبا جزیرے پر عیسائی اور اسلام کے علاوہ ایک قدیم مذہب ماراپو کا بھی بڑے پیمانے پر پالن کیا جاتا ہے۔ دنیا کو قابو میں رکھنے کیلئے اس میں روح کو رسم و رواج اور بلیوں کے ذریعے خوش کیا جاتا ہے۔ یہاں کے لوگوں کا ماننا ہے کہ جب پانی آپ کے ماتھے پر پہنچ جاتا ہے تو آپ گھر چھوڑ نہیں سکتے ہیں۔

خاتون افسر گروپ پرے آتی نے گزشتہ چار سال میں خواتین کے اغوا کی اس طرح کے سات واقعات کو درج کیا ہے۔ گروپ کا ماننا ہے کہ اس سمبا کے دور۔دراز کے علاقوں میں ایسی کئی اور واردات بھی اس دوران ہوئی ہوں گی۔ لیکن ان میں سے صڑف تین لڑکیاں ہی خوش قمست نکلیں جو ایسی شادی سے بچ نکلیں۔ اغوا کے سب سے تازہ دو معاملوں میں جن کے ویڈیو جون میں بنے تھے۔ ان میں سے ایک خاتون نے اس طریقے سے ہوئی شادی میں بنے رہنے کا فیصلہ کر لیا۔

پیروآتی کی مقامی سربراہ اپریسا تاراناؤ کہتی ہیں وہ شادی میں بنی رہتی ہیں کیونکہ ان کے پاس اس کا کوئی آپشن نہیں ہوپاتا ہے۔ کاون تانگ جاپ کئی دفعہ ایک ارینج میرج کا ہی روپ ہوتا ہے اور خواتین اس میں سودے بازی کی حیثیت میں نہیں ہوتی ہیں۔

Published by: sana Naeem
First published: Oct 10, 2020 02:35 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading