گوتا بایا راج پکشے ہوں گے سری لنکا کےصدر، مہندا راج پکشکے کے پاس ہی رہے گی کمان

اتوارکو اب تک ہوئی ووٹوں کی گنتی میں راج پکشے 50.7فیصد ووٹوں کے ساتھ سب سے آگے ہیں جبکہ ان کے اہم حریف ساجت پریم داسا کو 43.8 فیصد ووٹ ملے ہیں۔

Nov 17, 2019 06:58 PM IST | Updated on: Nov 17, 2019 06:58 PM IST
گوتا بایا راج پکشے ہوں گے سری لنکا کےصدر، مہندا راج پکشکے کے پاس ہی رہے گی کمان

گوتابایا راج پکشے سری لنکا کے اگلے صدر ہوں گے۔

کولمبو: سری لنکا کے سابق وزیر دفاع اور سری لنکا پپلز فرنٹ کے امیدوارگوتابایا راجپکشے ملک کے اگلے صدر ہوں گے۔ سری لنکا میں صدارتی انتخابات کے لئے کل پولنگ ہوئی۔ اتوار کو اب تک ہوئی ووٹوں کی گنتی میں راج پکشے 50.7فیصد ووٹوں کے ساتھ سب سے آگے ہیں جبکہ ان کے اہم حریف ساجت پریم داسا کو 43.8 فیصد ووٹ ملے ہیں۔

اسی دوران  راج پکشے کی پارٹی نے ایک بیان جاری کرکے صدارتی انتخابات میں جیت کا دعوی کیا ہےاورپرامن پولنگ کےلئے رائے دہندگان کا شکریہ ادا کیا۔ پریم داسا نے انتخابات میں شکست قبول کرلی ہے۔ سری لنکا میں حکمراں یونائیٹڈ نیشنل پارٹی کے امیدوار ساجت پریم داسا نے صدارتی انتخابات میں اتوار کو اپنی شکست قبول کرلی اور اپنے حریف  راج پکشےکومبارکباد بھی دی۔ پریم داسا نے ایک بیان میں کہا کہ لوگوں کے فیصلے کا احترام کرنا میرے لئے خوش قسمتی کی بات ہے۔ میں گوتابایا راج پکشے کو سری لنکا میں ساتواں صدرمنتخب ہونے پرمبارکباد دیتا ہوں۔

Loading...

سابق دفاعی سکریٹری اورسابق صدرمہندرا راج پکشے کے چھوٹے بھائی گوتابایا راج پکشے ایک متنازعہ شخص ہیں۔ ان پرسال 09-2008 میں تمل علاحدگی پسند لیڈر گرلا لٹے کے ساتھ جنگ کے آخری مرحلے کے دوران خطرناک جنگی جرائم کا الزام لگا تھا۔

کچھ ماہ پہلے ہی اپنی امریکی شہریت چھوڑدی

فری میڈیا، غیرسرکاری تنظیموں اورحقوق انسانی کی سرگرمیوں کوکمترسمجھنے والے گوتابایا نے صدرکے الیکشن سے کچھ ماہ پہلے ہی اپنی امریکی شہریت چھوڑی تھی۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ اس کے پاس ابھی بھی امریکی پاسپورٹ ہے اورانہوں نے جھوٹے دعوے کئے ہیں کہ وہ اب امریکی شہری نہیں ہیں۔ جولوگ انہیں قریب سے جانتے ہیں، وہ کہتے کہ وہ ایک ایسے شخص ہیں جو بات کرنے میں یقین نہیں کرتے ہیں۔

اپنے بڑے بھائی کے صدر رہنے کے دوران، گوتابایا کوشہری ترقیات کے انچارج کے طورپر جزائرکی توسیع کرنے کی ذمہ داری گئی۔ بودھ اکثریتی ممالک میں گوتابایا سنہلی اورپادریوں کی پسند ہیں۔ اپنے انتخابی مہم کے دوران انہوں نے اکثریتی طبقے کی حمایت پر جیت حاصل کرنے کے لئے سنہلی اورراشٹرواد کا کارڈ کھیلا۔ نتائج ثابت کرتے ہیں کہ اکثریتی طبقے سنہلی نے انہیں بڑی تعداد میں حمایت دی ہے اوراقلیتوں، تملوں اورمسلمانوں نے ان کے خلاف ووٹنگ کی ہے۔

Loading...