ہوم » نیوز » عالمی منظر

اسرائیلی آبادکاروں کےگروپ نے مسجد اقصیٰ پرکیاحملہ، نمازیوں کےساتھ بدتمیزی اورگرفتاریاں

اسرائیلوں نے داخلی راستہ روک دیا تھا تاکہ متعدد فلسطینی نوجوان داخل نہ ہوسکیں۔میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فورسز 45 سال سے کم عمر فلسطینیوں کو بھی اقصی کے احاطے میں داخل ہونے سے روک رہی ہے۔

  • Share this:
اسرائیلی آبادکاروں کےگروپ نے مسجد اقصیٰ پرکیاحملہ، نمازیوں کےساتھ بدتمیزی اورگرفتاریاں
اسرائیلی فورسز کی بھاری نفری کے ساتھ 50 کے قریب آباد کار مسجد اقصیٰ کے صحن میں داخل ہوئے۔ (تصویر: الجزیرہ)۔

اتوار کے روزمقبوضہ مشرقی یروشلم میں پولیس کے زیر نگرانی اسرائیلی باز آباد کاروں نے مسجد اقصی (Al Aqsa Mosque) پر دھاوا بول دیا۔یہ کارروائی جنگ بندی کے دوسرے دن کی گئی ہے، جب کہ اسرائیل نے حماس سے غیر مشروط طور پر جنگ بندی کا عہد کیا تھا، اب اسرائیلی فوجی اس کے برعکس عہد شکنی کے مرتکب ہورہے ہیں۔مقامی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی فورسز کی بھاری نفری کے ساتھ 50 کے قریب آباد کار مسجد اقصیٰ کے صحن میں داخل ہوئے اور یہاں موجود نمازوں سے بدتمیزی سے پیش آئے۔


ان اطلاعات میں مزید کہا گیا ہے کہ قابض فورسز نے مسجد کے ایک محافظ کو بھی گرفتار کیا جب اس نے چھاپے کی ویڈیو گرافی کی کوشش کی تھی۔ اس دوران اسرائیلوں نے داخلی راستہ روک دیا تھا تاکہ متعدد فلسطینی نوجوان داخل نہ ہوسکیں۔میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فورسز 45 سال سے کم عمر فلسطینیوں کو بھی اقصی کے احاطے میں داخل ہونے سے روک رہی ہے۔



اس سے قبل حماس نے اسلام کے تیسرے سب سے مقدس مقام مسجد اقصیٰ پر طوفان برپا کرنے والے آباد کاروں کے جواب میں راکٹ فائر کیے۔موجودہ جنگ بندی غیر قانونی آباد کاروں اور اسرائیلی حکومت کی طرف سے اشتعال انگیزی کے باوجود ہورہی ہے۔اسرائیل کے وزیر خزانہ یسرایل کاٹز (Yisrael Katz ) نے کہا کہ اسرائیل میں داخل ہونے والا ہر راکٹ خواہ وہ بجلی سے ہو یا کوئی اور بہانا غزہ میں حماس کے رہنما یحییٰ سنور کے سر ہوگا۔

اسرائیل کے ساتھ گیارہ روز کے تباہ کن تنازعہ کے بعد اہل غزہ اب بھی اپنے پیاروں کی تلاش میں ہیں جس میں دو سو سے زیادہ افراد ہلاک اور لاکھوں ہزاروں افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ اے ایف پی کے ایک رپورٹر نے بتایا کہ حکام نے غزہ میں خیموں اور گدوں کی تقسیم شروع کردی۔


حماس گروپ کے زیر کنٹرول ساحلی علاقے کی تعمیر نو کی طرف توجہ مبذول ہوگئی جب امدادی کارکنوں نے ملبے کے ڈھیروں سے لاشوں یا زندہ بچ جانے والوں کی تلاشی لی ، جبکہ رہائشیوں نے اس بات کا اندازہ لگانے کی کوشش کی کہ ان کی زندگی کا کیا بچا ہے۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: May 24, 2021 08:18 AM IST