உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    حافظ سعید کے خلاف پاکستان کی بڑی کارروائی : 26/11کےماسٹر مائنڈ کے خلاف کیس درج

    حافظ سعید ۔ فائل فوٹو

    حافظ سعید ۔ فائل فوٹو

    پاکستان کی یہ کاروائی اس وقت ہوئی ہےجب فائننشیل ایکشن ٹاکسک فورس کی میٹنگ میں پاکستان کو گرےلسٹ میں شامل رکھنے کافیصلہ کیاگیا۔ساتھ ہی کہاگیاہے کہ اگر پاکستان نے ستمبر تک کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھائے تو اسے بلیک لسٹ کیاجائےگا

    • Share this:
      پاکستان کے محکمہ انسداد دہشت گردی نے دہشت گردوں کی مالی معاونت کے الزام پر جماعت الدعوة سمیت پانچ کالعدم تنظیموں کے خلاف دہشتگردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر لیے ہیں۔محکمے کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق، تنظیموں میں دعوة الارشاد ٹرسٹ، معاذ بن جبل ٹرسٹ، الانفال ٹرسٹ، المدینہ فاؤنڈیشن ٹرسٹ اور الحمد ٹرسٹ کے نام بھی کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل ہیں۔

      ترجمان کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کےمطابق تمام ٹرسٹ کے نام پر رقوم اکٹھی کرنے کا الزام ہے، جس کا مبینہ مقصد دہشتگردی کو پروان چڑھانا بتایا جاتا ہے۔ ترجمان کے مطابق، اِن تنظیموں اور اِنکے سربراہوں کے خلاف صوبہ پنجاب کے تین شہروں میں مقدمات درج کیے گئے ہیں جن میں لاہور، گوجرانوالہ اور ملتان شامل ہیں۔وہیں مقدمات میں حافظ محمد سعید، عبدالرحمٰن مکی، امیر حمزہ، ملک ظفر اقبال، محمد یحییٰ عزیز، محمد نعیم، محسن بلال، عبدالرقیب، ڈاکٹر احمد داؤد، ڈاکٹر محمد ایوب، عبداللہ عبید، محمد علی اور عبدالغفار سمیت دیگر کو نامزد کیا گیا ہے۔



      ان افراد پر ٹرسٹ کے نام پر دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کے الزامات ہیں۔پاکستان کی یہ کاروائی اس وقت ہوئی ہےجب فائننشیل ایکشن ٹاکسک فورس کی میٹنگ میں پاکستان کو گرےلسٹ میں شامل رکھنے کافیصلہ کیاگیا۔ساتھ ہی کہاگیاہے کہ اگر پاکستان نے ستمبر تک کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھائے تو اسے بلیک لسٹ کیاجائےگا۔گرے لسٹ میں شامل ہونے پاکستان کو دس ارب ڈالر کانقصان ہوچکاہے۔

      واضح رہے کہ جماعت الدعوة کے سربراہ حافظ محمد سعید کو حکومت پنجاب نے اِن دنوں 16 ایم پی او کے تحت نظر بند کر رکھا ہے۔ جماعت الدعوة کے سربراہ حافظ محمد سعید کو پہلی مرتبہ پاکستان کے اندر کسی مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔ اِس سے قبل اُن کی تنظیموں پر پابندی لگتی رہی ہے۔لیکن کہایہ بھی جارہے کہ صرف مقدمے درج کرلینے سے کچھ نہیں ہوگا۔بلکہ اس شفافیت کے ساتھ اس کی جانچ بھی ہو
      First published: