உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    حافظ سعید نے جماعت الدعوة کو دہشت گرد تنظیم قرار دیئے جانے کو کیا چیلنج

    اس ترمیم کے تحت حافظ سعید سے تعلق رکھنے والی جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کو کالعدم گروپ قرار دیا گیا تھا۔ : فوٹو ، یو این آئی۔

    اس ترمیم کے تحت حافظ سعید سے تعلق رکھنے والی جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کو کالعدم گروپ قرار دیا گیا تھا۔ : فوٹو ، یو این آئی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان کے حافظ سعید کی اپنی تنظیم جماعت الدعوۃ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے صدر ممنون حسین کے آرڈیننس کو چیلنج دینے والی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے صدر کے پرنسپل سیکرٹری اور قانون کے سکریٹری کو نوٹس جاری کئے ہیں۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      اسلام آباد۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان کے حافظ سعید کی اپنی تنظیم جماعت الدعوۃ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے صدر ممنون حسین کے آرڈیننس کو چیلنج دینے والی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے صدر کے پرنسپل سیکرٹری اور قانون کے سکریٹری کو نوٹس جاری کئے ہیں۔ ’ڈان‘ کی رپورٹ کے مطابق فروری 2018 میں صدرمملکت ممنون حسین نے انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 میں ترمیم کا آرڈیننس جاری کیا تھا جس کے تحت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کی جانب سے دہشت گرد قرار دیئے جانے والی کالعدم تنظیموں اور دہشت گردوں کو پاکستان میں بھی قابل گرفت قرار دے دیا گیا۔


      اس ترمیم کے تحت حافظ سعید سے تعلق رکھنے والی جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کو کالعدم گروپ قرار دیا گیا تھا۔ حافظ سعید کی جانب سے صدارتی آرڈیننس کو چیلنج کیے جانے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے صدر کے پرنسپل سکریٹری اور سکریٹری قانون، کابینہ ڈویژن اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو نوٹس جاری کر دئیے ہیں۔

      انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے آرڈیننس میں دفعہ 11 بی اور 11 ای ای میں ترمیم کی گئی جس میں 11بی میں کالعدم گروپوں کے ضوابط جبکہ 11 ای ای میں افراد کی فہرست کی وضاحت کی گئی تھی۔
      First published: