உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Hajj 2022: غلاف کعبہ کو کیسے اور کیوں بدلا جاتا ہے؟ کیا ہے کسوا کی روایت؟

    تصویر: Islamic Strength

    تصویر: Islamic Strength

    اس مقدس غلاف کی سلائی اور کڑھائی پر تقریباً 50 کروڑ روپے کی لاگت آتی ہے۔ اس کے لیے استعمال ہونے والے ریشم اور سوتی دھاگوں کو ان کی مضبوطی کو یقینی بنانے کے لیے مختلف ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔ انہیں موسم کی تبدیلیوں کو برداشت کرنے کے قابل بنایا جاتا ہے

    • Share this:
      ہر سال حج کے دوران کعبۃ اللہ کا غلاف تبدیل کیا جاتا ہے۔ کعبۃ اللہ کے غلاف میں کسوا کا استمعال کیا جاتا ہے۔ مذکورہ کسوا کی تیاری کے لیے کم از کم 670 کلوگرام ریشم کی ضرورت ہوتی ہے، جو مسجد الحرام میں واقع کعبۃ اللہ کو ڈھانپنے کے لیے کافی ہے جس کی اونچائی تقریباً 15 میٹر اور تقریباً 10-12 میٹر لمبی ہے۔

      ریشم کو اٹلی سے درآمد کیا جاتا ہے اور اسے کپاس کے ساتھ ملا کر ڈریپ بنایا جاتا ہے جس کے بعد جرمنی سے درآمد شدہ سلور اور گولڈ چڑھایا دھاگے کا استعمال کرتے ہوئے کڑھائی کی جاتی ہے۔ روایتی مصری کاریگروں سے عہدہ سنبھالنے کے بعد سعودی مملکت نے کسوا کو فیکٹریوں میں تیار کرنا شروع کیا جہاں ہر سال درجنوں کارکن ایک نیا غلاف بنانے میں مصروف رہتے ہیں۔

      اس مقدس چادر کی سلائی اور کڑھائی پر تقریباً 50 کروڑ روپے کی لاگت آتی ہے۔ اس کے لیے استعمال ہونے والے ریشم اور سوتی دھاگوں کو ان کی مضبوطی کو یقینی بنانے کے لیے مختلف ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔ انہیں موسم کی تبدیلیوں کو برداشت کرنے کے قابل بنایا جاتا ہے  اور اسی کے مطابق ان کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ چاندی اور سونے کے دھاگوں کا بھی استعمال ہوتا ہے۔

      کسوا کی روایت:

      عرب نیوز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں کعبہ کا غلاف چڑھانے والے پہلے شخص یمن کے بادشاہ تبع الحمیری تھے۔ تاریخ میں کسوا کو متعدد بار تبدیل کیا گیا ہے اور اس کے لیے زیادہ تر سیاہ رنگ کا انتخاب کیا گیا ہے۔ سفید رنگ اگرچہ سب سے زیادہ چمکدار ہے، جلد ہی گندا ہو جائے گا۔ اس لیے سیاہ رنگ کا انتخاب کیا گیا۔ حجاج کعبہ کو چھوتے ہیں جب وہ حج کے دوران کعبہ کا طواف کرتے ہیں۔

      یہ بھی پڑھئے: سفر حج پر 300 عازمین نے کیا ایسا کام، ہوگئے گرفتار، دو لاکھ کا لگا جرمانہ

      سعودی عرب اب خواتین کو مرد رشتہ داروں کے بغیر حج میں شرکت کی اجازت دیتا ہے، یہ شرط گزشتہ سال ختم کر دی گئی تھی۔

      مزید پڑھیں: Hajj 2022: مناسک حج کاآج سےہوگاآغاز، 10 لاکھ سےزائدعازمین حج کوسفرحج کی سعادت حاصل



      حج کے موسم کے اختتام پر کپڑا ٹکڑوں میں تقسیم کر کے معززین یا مذہبی اداروں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ یہ ٹکڑے انتہائی قیمتی ہیں اور انہیں میراث کے طور پر شمار کیا جاتا ہے۔ پہلے زمانے میں یہ کہا جاتا ہے کہ کسوا کو جب وہ گر جاتا یا بوسیدہ ہو جاتا تو اسے ہٹا دیا جاتا اور کپڑا کاٹ کر حاجیوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: