உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Pakistan: پاکستان میں ملک کی سب سےبڑی ریاست پنجاب پرقبضہ کی جنگ جاری، حمزہ شہباز کےدوبارہ انتخاب پرپاکستان بھرمیں PTI کا احتجاج، ’اکثریت کواقلیت میں بدلنے کی سازش‘

    کراچی کے علاقے شاہراہ فیصل میں احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے۔

    کراچی کے علاقے شاہراہ فیصل میں احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے۔

    پنجاب اسمبلی (Punjab assembly) کے ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری (Dost Mazari) کے حکم کے خلاف اپنی مایوسی کا اظہار کرنے کے لیے عمران خان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف (Pakistan Tehreek-e-Insaf) کے کارکنان سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ اب بہت جلد پنجاب کے تخت اقتدار کا فیصلہ ہونے والا ہے۔

    • Share this:
      پاکستان تحریک انصاف (Pakistan Tehreek-e-Insaf) کے حامیوں کی جانب سے کراچی کی سڑکوں پر بڑے پیمانے پر احتجاج جاری ہے۔ پارٹی کے حامیوں نے پنجاب اسمبلی (Punjab assembly) کے ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری (Dost Mazari) کے حکم کے خلاف اپنی مایوسی کا اظہار کرنے کے لیے احتجاج کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی پنجاب میں کامیابی کے باوجود برسراقتدار حمزہ شہباز (Hamza Shehbaz) کو دوبارہ صوبہ پنجاب کا وزیر اعلیٰ منتخب کیا جاسکتا ہے۔

      کراچی کے علاقے شاہراہ فیصل (Shahrah-e-Faisal) میں احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے۔ یہ مظاہرے اس وقت شروع ہوئے جب پی ٹی آئی کے سربراہ اور پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان (Imran Khan) نے حامیوں پر زور دیا کہ وہ حکمرانی کے خلاف اپنی ناراضگی کا اظہار کرنے کے لیے پرامن احتجاج کریں۔ عمران نے فیصلے کے بعد کہا کہ میں آج قوم کو بتا رہا ہوں۔ آپ کو پرامن احتجاج کرنا ہوگا۔ جب تک آپ ایسا نہیں کریں گے، کچھ نہیں ہوگا۔ اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں۔ آپ کو یہ کہنا پڑے گا کہ ہم انسان ہیں بھیڑیں نہیں۔ آج ہی اپنا احتجاج درج کروائیں تاکہ انہیں معلوم ہو کہ پاکستانی قوم زندہ ہے۔

      انہوں نے آصف زرداری پر بھی انگلیاں اٹھائیں اور کہا کہ وہ لاہور ’گیم کھیلنے‘ گئے تھے۔ عمران نے الزام لگایا کہ سندھ ہاؤس میں پیش آنے والے واقعات جو ان کے زوال کا باعث بنے، حمزہ شہباز کو دوبارہ صوبہ پنجاب کا وزیراعلیٰ بنانے کے لیے جمعے کی شام کو دہرایا گیا۔ پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر دوست مزاری نے پاکستان مسلم لیگ (ق) (Pakistan Muslim League-Quaid (PML-Q)) کے ووٹوں کو مسترد کر دیا جس سے حمزہ شہباز کے ایک بار پھر صوبہ پنجاب کے وزیراعلیٰ بننے کی راہ ہموار ہو گئی۔

      مزاری نے چوہدری شجاعت حسین کے خط اور پاکستانی آئین کے آرٹیکل 63 اے کا حوالہ دیتے ہوئے مسلم لیگ (ق) کے 10 ووٹوں کو منسوخ کیا۔ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) کے مشترکہ امیدوار پرویز الٰہی نے 186 ووٹ حاصل کیے تاہم 10 ووٹوں کی منسوخی کے بعد وہ پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کے رہنما حمزہ شہباز کے 179 کے مقابلے 176 پر کھڑے ہیں۔

      مزید پڑھیں:

      خط کے مندرجات کیا ہیں؟

      خط میں کہا گیا کہ پاکستان مسلم لیگ کے پارٹی سربراہ کی حیثیت سے اپنے تمام صوبائی اراکین کو محمد حمزہ شہباز شریف کے حق میں ووٹ ڈالنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

      مزید پڑھیں: 


      گیارہویں گھنٹے میں پنجاب اسمبلی کو جو خط پڑھ کر سنایا گیا اس پر کافی تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ ماہرین نے خبر رساں ایجنسی ڈان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ مزاری نے خط کے مندرجات کو غلط سمجھا ہو اور اسے پاکستانی آئین کے آرٹیکل 63 اے کے ساتھ الجھایا ہو، اس طرح 10 ووٹوں کو منسوخ کرنے میں غلط انتخاب کیا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: