پاکستان کوجھٹکا، کلبھوشن معاملے میں ساتھ دینے کےبعد اب مشترکہ ٹریننگ کریں گی ہندوستان- چین کی فوجیں

دہشت گردی کے خلاف دونوں ممالک حکمت عملی شیئرکریں گے۔ ایک دوسرے سے راحت اور بچاوکے گرسیکھیں گے۔

Jul 19, 2019 10:30 PM IST | Updated on: Jul 19, 2019 10:31 PM IST
پاکستان کوجھٹکا، کلبھوشن معاملے میں ساتھ دینے کےبعد اب مشترکہ ٹریننگ کریں گی ہندوستان- چین کی فوجیں

دہشت گردی کے خلاف بھی دونوں ممالک میں رشتے بہتر ہوں گے، راحت اوربچاو کے طریقے بھی شیئرہوں گے: فائل فوٹو

کلبھوشن جادھو معاملے میں انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس (آئی سی جے) میں پاکستان کو درکنارکرکے ہندوستان کا ساتھ دینےکے بعد اب ہندوستان اورچین کی فوجیں مشترکہ پریکٹس میں ایک ساتھ نظرآئیں گی۔ سال 2017 میں ڈوکلام کے تنازعہ کے دوران اس پریکٹس کو منسوخ کردیا گیا تھا، لیکن اس کے بعد سے پھرسے یہ پریکٹس شروع کی گئی۔ اس سال دسمبر کےدوسرے ہفتے میں ہندوستانی فوج اورچینی پی ایل اے شیلانگ کے اومروئی میں 14 دن تک ایک دوسرے کی حکمت عملی کوشیئرکریں گے۔ دونوں ممالک کے تقریباً 240 فوجی اس ہینڈ ان ہینڈ میں حصہ لیں گے۔

فوج کے مطابق دونوں ملک دہشت گردی سےنمٹنے کےلئےوہی ڈرل شیئرکریں گے۔ کمپنی صرف اس ایکسرسائزمیں ٹرانس نیشنل ٹیررازم، دہشت گردی سے پیدا ہوئے حالات سے نمٹنے، جوائنٹ آپریشن ڈرل اورراحت بچاو کے طریقے ایک دوسرے سے سیکھیں گے۔ سال 2008 میں پہلی باردونوں ممالک نے ہینڈ ان سیلاب پریکٹس کی شروعات کی تھی۔

Loading...

ہرسال ہونے والی یہ ایکسرسائزایک بارچین میں ہوتی ہےاورایک بارہندوستان میں۔ دونوں ممالک کےفوجیوں کےدرمیان بہترتال میل بنانےکے مقصد سےاس پریکٹس کی شروعات ہوئی تھی۔ ویسے توہندوستان اورچین کی فوج اب تک سرحدی تنازعہ کےسبب الگ الگ مواقع پرآمنے سامنے ہوتےآئے ہیں، لیکن وہاں میں ہوئے وزیراعظم مودی اورچین کےصدر شی جنپنگ کےدرمیان ملاقات کے بعد حالات میں سدھارآیا۔

حال ہی میں بہترہوئے تعلقات

دونوں ممالک کی فوجوں کے رشتوں کومزید بہترکرنےکےلئےجواتفاق بنا، اسے مسلسل آگے بڑھایا جارہا ہے۔ حال ہی میں وزارت دفاع کی سالانہ رپورٹ میں واضح کیا تھا کہ ہندوستان چین سرحد پرحالات پرامن ہےاورگزشتہ سالوں کےمقابلےٹرانسگریشن کے معاملے میں کمی آئی۔ دونوں ممالک کی فوجیں اپنے اپنے علاقوں تک پٹرول کررہی ہیں۔

China-XI

سرحد کےحقیقی ہونےکے سبب کچھ علاقوں میں چین کی ٹرانسگریشن کے واقعات کوطے کئے گئے ذرائع جس میں ہاٹ لائن، بارڈرپرسنل میٹنگ اورفلیگ میٹنگ کے ذریعہ سے چین کی اتھارٹی کےسامنے رکھا گیا۔ یہی نہیں رپورٹ میں ڈوکلام میں چین کی سرگرمیوں پر مسلسل نظربنائے ہوئے ہےاورکسی بھی طرح کے حالات سےنمٹنےکےلئے پوری طرح سے تیارہے۔

سندیپ بول کی رپورٹ

Loading...