پاکستان نے دوبارہ فرضی واڑہ کیا تو اس پرعالمی پابندی لگ سکتی ہے: ہریش سالوے

کلبھوشن جادھوکےمقدمےکی پیروی کرنےوالے ہندوستان کےمعروف وکیل نےکہا کہ وہ ہندوستان کی جانب سےعالمی عدالت کا شکریہ ادا کرتے ہیں، جس نےاس معاملےمیں دخل دے کرچند روزقبل جادھوکو تختہ دارپرچڑھنے سےبچا لیا۔

Jul 18, 2019 06:05 PM IST | Updated on: Jul 18, 2019 06:05 PM IST
پاکستان نے دوبارہ فرضی واڑہ کیا تو اس پرعالمی پابندی لگ سکتی ہے: ہریش سالوے

ہریش سالوے نےکہا ہے کہ پاکستان نے اگردوبارہ فرضی واڑہ کیا تو اس پر عالمی پابندی لگ سکتی ہے۔

لندن: عالمی عدالت میں کلبھوشن جادھوکےمقدمےکی پیروی کرنے والے ہندوستان کے معروف وکیل ہریش سالوے نے بدھ کو پاکستان کووارننگ دی کہ اگراس نےکلبھوشن جادھو کےمعاملےدوبارہ فرضی واڑہ کرنےکی کوشش کی، تواسے پھرعالمی عدالت میں گھسیٹا جائےگا اوراس پرعالمی پابندی بھی لگائی جا سکتی ہے۔ انہوں نےعالمی عدالت کا فیصلہ آنے کےبعد یہاں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ ہندوستان کی جانب سےعالمی عدالت کا شکریہ ادا کرتے ہیں، جس نےاس معاملےمیں دخل دے کرچند روزقبل جادھوکوتختہ دارپرچڑھنے سےبچا لیا۔

ہریش سالوے نےکہا کہ پاکستان نےباربارجادھوکے پاس سےبرآمد مبینہ پاسپورٹ کی سلائڈ دکھائی۔ عدالت نےاس پرخصوصی توجہ دی اورپاکستان کےاس دلیل کوخارج کردیا کہ جادھو کی شہریت غیر یقینی ہے۔ عدالت نے کہا کہ پاکستان کے آئین کے مطابق ایک غیر جانبدارانہ مقدمہ چلے۔ اگر یہ مقدمہ فوجی عدالت پر انہی ضابطوں اور قوانین کی بنیاد پر چلایا جاتا ہے جہاں باہر ی وکلاء کواجازت نہیں، ہمیں اجازت نہیں ہے، ملاقات کی اجازت نہیں ہے، ثبوت نہیں دیئےجاتےتویہ متوقع معیارکےمطابق نہیں ہوگا۔

Loading...

ہریش سالوے نےکہا کہ پاکستان کو کلبھوشن جادھوکووکیل مہیا کروانا ہوگا۔ اگرایسا نہیں ہوتا ہےتوہم دوبارہ عالمی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ اگرپاکستان عالمی عدالت کےحکم کی خلاف ورزی کرتا ہےتواس پر پابندی لگائےجانےسمیت کئی اقدامات کئےجا سکتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ہریش سالوے نےکہا کہ عدالت واضح کرچکی ہے کہ کلبھوشن جادھوکو ہراساں نہیں جا سکتا ہے۔ یہ کہےجانے پرکہ پاکستانی عدالت میں وہ کلبھوشن جادھوکی جانب سے نہیں لڑسکیں گے۔ انہوں نےکہا کہ انھیں پورا بھروسہ ہےکہ پاکستان میں کئی’شاندار وکیل‘ ہیں جو جادھو کی پیروی کرسکتے ہیں۔

انہوں نےکہا کہ انہیں ذاتی طورپراطمینان ہے کہ پاکستان کےذریعہ استعمال کئےگئے تجزیہ اورعدالت میں دیئےگئے جواب کوانہوں نےافسوسناک قراردیا اورکہا کہ ان کی تہذیب اور ہندوستانی روایت کے مطابق ایسی زبان میں جواب نہیں دیا جاتا۔ پاکستان نے الزام ضابطوں کےغلط استعمال کی بنیاد پر لگائے تھے اورکہا تھا کہ یہ وہ بنیاد ہیں، جن پرہندوستان کے حق میں فیصلہ نہیں کیا جانا چاہئے۔ پاکستان کے دلائل خارج ہوگئے۔

ہریش سالوے نےکہا ’ہم پاکستان سےامید کرتے ہیں کہ وہ ایک غیرجانبدارانہ مقدمےکی گارنٹی کےلئے مکمل قانونی چارہ جوئی کرے۔ پاکستان کا رویہ دنیا دیکھ رہی ہے اوراگروہ ایک اورفرضی واڑہ کی کوشش کرتا ہے، توہم دوبارہ عالمی عدالت جائیں گے‘۔

Loading...