امریکہ ۔ ایران دشمنی ختم ہوگئی ہے مگر بے اعتباری اب بھی ہے۔ ایران

واشنگٹن۔ ایرانی صدر حسن روحانی نے امریکی ٹی وی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ایران اور امریکہ نے اہمیت کا حامل ایٹمی معاہدہ کرکے اپنی دشمنی کم کرنے کی جانب پہلا قدم بڑھا دیا ہے‘‘۔

Sep 21, 2015 03:46 PM IST | Updated on: Sep 21, 2015 03:48 PM IST
امریکہ ۔ ایران دشمنی ختم ہوگئی ہے مگر بے اعتباری اب بھی ہے۔ ایران

واشنگٹن۔  ایرانی صدر حسن روحانی نے امریکی ٹی وی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ایران اور امریکہ نے اہمیت کا حامل ایٹمی معاہدہ کرکے اپنی دشمنی کم کرنے کی جانب پہلا قدم بڑھا دیا ہے‘‘۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ایٹمی سمجھوتہ کے باوجود ہمارے درمیان جو فاصلہ ، اختلاف رائے اور بے اعتباری ہے وہ اتنی جلدی ختم نہیں ہوگی۔

ایران 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے امریکہ اور ایران کے رشتے خراب ہیں۔ مشرق وسطی میں ان دنوں جاری لڑائیوں کے بارے میں دونوں میں گہرے اختلافات ہیں۔ امریکہ ایران پر دہشت گردی اور انسانی حقوق کے خراب ریکارڈ کے الزام لگاتا ہے۔ روحانی نے کہا ’’اہمیت اس بات کی ہے کہ ہم سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ کیا ہم اس دشمنی کو بڑھا رہے ہیں یا گھٹا رہے ہیں۔ میرے خیال میں ہم نے اس دشمنی کو کم کرنے کی سمت میں پہلا قدم بڑھا دیا ہے۔

ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان جولائی میں ایٹمی معاہدہ طے پایا ہے جس کی رو سے ایران اپنے ایٹمی کام کو محدود کرے گا اور اس کے عوض اس پر لگی سخت تباہ کن پابندیاں نرم کی جائیں گی۔

روحانی کا تہران میں انٹرویو کیا گیا تھا۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ایرانی پارلیمنٹ اور قومی سلامتی کونسل معاہدے کو منظوری دے دیں گے۔ انہوں نےکہا ’’رائے شماری میں ہمارے بیشتر عوام نے معاہدے کے حق میں رائے ظاہر کی ہے۔ پارلیمنٹ اور سلامتی کونسل کی بھی عموماً وہی رائے ہوتی ہے جو عوام کی ہے۔

Loading...

طاقتور پاسداران انقلاب کے بعض ممبران نے سرعام معاہدے پر نکتہ چینی کی ہے مگر روحانی نے پیش گوئی کی ہے کہ جب ایرانی حکومت اس کو منظور کردے گی تو وہ بھی اس کا احترام کریں گے۔ ایرانی صدر اگلے ہفتہ امریکہ جانے والے ہیں جہاں وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ امریکہ اور ایرانی قیدیوں کے تبادلہ کی مخالفت نہیں کریں گے ۔

ایران میں کئی امریکی قید ہیں جن میں واشنگٹن پوسٹ کے رپورٹر جیسن رضائن بھی شامل ہیں جن کے پاس امریکہ ایران دونوں کی شہریت ہے۔ کئی ایرانی بھی امریکہ میں قید ہیں ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایران پر امریکہ کی عائد کردہ پابندیوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہم اس کے لئے قدم بڑھا سکتے ہیں امریکہ کو بھی ایسا ہی کرنا چاہئے۔ شامی لڑائی میں ایران بشارالاسد کا حامی ہے جبکہ امریکہ اور یوروپی ممالک باغیوں کی مدد کررہے ہیں۔ روحانی سے جب اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ اسد کو اس وقت تک اقتدار میں رہنا چاہئے جب تک اسلامی مملکت کو شکست نہیں دے دی جاتی جب تک کوئی حکومت نہ ہو ہم دہشت گردوں سے کس طرح مقابلہ کرسکتے ہیں۔

روحانی نے کہا ’’ایران میں ہر ہفتہ جو ’’امریکہ مردہ آباد‘‘ کے نعرے لگائے جاتے ہیں وہ امریکی عوام کے لئے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی پالیسیاں ایرانی عوام کے مفاد کے خلاف رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ماضی کو بھلا نہیں سکتے مگر ساتھ ہی ہمیں مستقبل پر نظر رکھنی چاہئے۔

Loading...
Listen to the latest songs, only on JioSaavn.com