ہوم » نیوز » عالمی منظر

ایران کسی بھی ملک کے لئے خطرہ نہیں : حسن روحانی

تہران : ایران کے صدر نے کہا ہےکہ انکا ملک کسی بھی ملک کے لیے خطرہ نہیں ہے اور اپنے پڑوسی ممالک اور پوری دنیا کے ساتھ بات چیت اور اعتدال پسندانہ روابط چاہتا ہے

  • UNI
  • Last Updated: Apr 08, 2016 01:45 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
ایران کسی بھی ملک کے لئے خطرہ نہیں : حسن روحانی
ایران کے صدر حسن روحانی: فائل فوٹو۔

تہران : ایران کے صدر نے کہا ہےکہ انکا ملک کسی بھی ملک کے لیے خطرہ نہیں ہے اور اپنے پڑوسی ممالک اور پوری دنیا کے ساتھ بات چیت اور اعتدال پسندانہ روابط چاہتا ہے۔ ایران کے سرکاری ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حسن روحانی نے کہا کہ ایران سے کسی ملک کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ایرانی صدر نے یہ بات دارالحکومت تہران میں کل ملکی اداروں کی جانب سے پیش کی گئیں جوہری مصنوعات کی ایک تقریب میں کہی۔

اس تقریب میں حاضرین سے خطاب میں روحانی نے کہا کہ ان کا ملک اعتدال پسندی کی پالیسی برقرار رکھے گا اور تمام ممالک کے ساتھ بات چیت اور رابطوں میں اضافے کا خواہاں رہے گا۔ ایران میں آج قومی یوم جوہری ٹیکنالوجی منایا جا رہا ہے اور یہ تقریب اسی دن کے سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ اس تقریب میں تاہم حسن روحانی کا کہنا تھا کہ جوہری معاہدے کی وجہ سے پیدا ہونے والے مواقع ہمیشہ رہنے والے نہیں، اس لیے ان سے جلد سے جلد اور زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جائے۔ جاری۔یواین آئی۔ ایف اے

جمعرات سات اپریل کو اس تقریب میں روحانی کا یہ خطاب سرکاری ٹی وی پر براہ راست نشر کیا گیا۔ اس خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ جوہری معاہدے نے جو مثبت امکانات پیدا کیے ہیں، نہ تو وہ مستقل ہیں اور نہ ہی ہمیشہ رہنے والے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کی وجہ سے ملک کے تمام صنعتی شعبوں میں ترقی کے مواقع پیدا ہوئے ہیں، جن میں جوہری صنعت بھی شامل ہے۔

ایران گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے تک سخت ترین بین الاقوامی پابندیوں کا شکار رہا ہے، تاہم گزشتہ برس جولائی میں تہران حکومت اور عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے جوہری معاہدے کے بعد ایران اور عالمی برادری کے درمیان رابطوں میں اضافہ ہوا ہے۔

رواں برس کے آغاز پر اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے ادارے آئی اے ای اے کی جانب سے اس تصدیق کے بعد کہ ایران نے جوہری معاہدے کے تحت اپنی ایٹمی سرگرمیوں کو محدود کر دیا ہے، ایرانی حکومت پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کے خاتمے کا سلسلہ جاری ہے، جب کہ مغربی ممالک بھی ایران میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی لیتے دکھائی دے رہے ہیں۔

ایرانی صدر اور اس معاہدے کو ملکی سطح پر سخت موقف رکھنے والے رہنماؤں کی جانب سے تنقید کا سامنا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کی وجہ سے ایران میں اقتصادی سطح پر اب تک کوئی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے اور نہ ہی ترقی۔
First published: Apr 08, 2016 01:45 PM IST