خواتین کے مقابلے مرد زیادہ تعداد میں کرتے ہیں یہ کام: جانیں یہاں

ڈبلیو ایچ او کے مطابق، اوسطا تقریبا 3000 لوگ ہر روز خودکشی کے سبب مرتے ہیں اور ہر روز 20 یا اس سے زیادہ لوگ اپنی زندگی کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

Sep 10, 2019 04:20 PM IST | Updated on: Sep 10, 2019 04:20 PM IST
خواتین کے مقابلے مرد زیادہ تعداد میں کرتے ہیں یہ کام: جانیں یہاں

ڈبلیو ایچ او کے مطابق، اوسطا تقریبا 3000 لوگ ہر روز خودکشی کے سبب مرتے ہیں اور ہر روز 20 یا اس سے زیادہ لوگ اپنی زندگی کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ابھی کل ہی تو کی تو بات ہے یوپی کے بھدوہی ضلع مین  تیسری کلاس کی ایک طالبہ نے خود کو اسکول کے ٹوائلیٹ میں مٹی کا تیل (کیروسن) ڈال کر آگ کے حوالے کرلیا۔ تیسری کلاس میں پڑھنے والی اس طالبہ کی عمر کیا رہی ہوگی؟ 8 سے 9 سال۔ اس چھوٹی سی عمر میں بچی نے خودکشی کرنے کی کوشش کی۔ ایسے ہی روز عموما ہر طبقے کے لوگ خود کشی کے اندھیرے کنوئیں میں اپنی جان گنوا رہے ہیں۔ پوری دنیا میں خودکشی کے واقعات میں تیزی دیکھی گئی ہے۔ ہر سال دنیا بھر میں تقریبا 8 لاکھ لوگ خودکشی کر رہے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ہر سال 10 ستمبر کو خودکشی کی روک تھام کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ خودکشی کو روکنے کیلئے دنیا بھر میں ہورہے کام کو بڑھاوا دینے کیلئے اس دن پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں۔ تاکہ بیداری مہم بڑھائی جاسکے کہ خودکشی وقت سے پہلے ہونے والی موت کا ایک اہم سبب ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق، اوسطا تقریبا 3000 لوگ ہر روز خودکشی کے سبب مرتے ہیں اور ہر روز 20 یا اس سے زیادہ لوگ اپنی زندگی کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہر سال تقریبا ایک ملین لوگ خودکشی کرکے مرجاتے ہیں۔ خودکشی کی روک تھام کا عالمی دن پہلی بار 2003 میں شروع کیا گیا تھا اور اسے 10 ستمبر کو ایک آئی اے ایس پی پہل کے طور پر منعقد کیا گیا تھا۔

اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ ہندستان میں مردوں میں خودکشی کرنے کے معاملے زیادہ پائے گئے ہیں۔ این سی آر بی کے مطابق 2015 میں 91,528 مردوں نے اپنی جان لی۔ وہیں 2005 اور 2010 میں بالترتیب 66,032 اور  87,180 مردوں نے اپنی زندگی ختم کرلی۔ ان 15 سالوں میں خواتین میں بھی خودکشی کرنے کے معاملے میں معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔World Suicide Prevention Day 2019: महिलाओं के मुकाबले पुरुष अधिक संख्या में करते हैं आत्महत्या

Loading...

Loading...