உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    یہاں پیریڈس آتے ہی زبردستی حاملہ کر دی جاتی ہیں لڑکیاں، بھیڑ بکریوں کی طرح پیدا کرواتے ہیں بچے

    دنیا میں ایک ایسا ملک ہے، جہاں پیسوں کے لئے چھوٹی بچیوں کے ساتھ گھناونا کام (Bbay Farming) کیا جاتا ہے۔ یہاں ماں باپ اپنی بیٹیوں کے پیریڈس آتے ہی ڈر جاتے ہیں۔ کیونکہ اس کے بعد ان کی بیٹیاں محفوظ نہیں رہتیں۔

    دنیا میں ایک ایسا ملک ہے، جہاں پیسوں کے لئے چھوٹی بچیوں کے ساتھ گھناونا کام (Bbay Farming) کیا جاتا ہے۔ یہاں ماں باپ اپنی بیٹیوں کے پیریڈس آتے ہی ڈر جاتے ہیں۔ کیونکہ اس کے بعد ان کی بیٹیاں محفوظ نہیں رہتیں۔

    دنیا میں ایک ایسا ملک ہے، جہاں پیسوں کے لئے چھوٹی بچیوں کے ساتھ گھناونا کام (Bbay Farming) کیا جاتا ہے۔ یہاں ماں باپ اپنی بیٹیوں کے پیریڈس آتے ہی ڈر جاتے ہیں۔ کیونکہ اس کے بعد ان کی بیٹیاں محفوظ نہیں رہتیں۔

    • Share this:
      پیسون کے لئے انسان کسی بھی حد تک گر جاتا ہے۔ لالچ میں انسان ایسے کام کر بیٹھتا ہے، جس کے بارے میں سوچ کر بھی دل خراب ہوجاتا ہے۔ ابھی تک پیسوں کے لئے قتل سے لے کر اغوا تک کیا جاتا تھا، لیکن کیا آپ نے کبھی بیبی فارمنگ کا نام سنا ہے؟ جی ہاں، جس طرح سے پولٹری فارمنگ کی جاتی ہے، جس میں جانوروں خاص طور پر بھیڑ بھکریوں اور مرغیوں کو بریڈ کروایا جاتا ہے، اب ایسے ہی ہوتی ہے بیبی فارمنگ (Baby Framing)۔ اس میں بس فرق اتنا ہے کہ جانور کی جگہ اس میں انسان کے بچوں کی تجارت کی جاتی ہے۔

      بیبی فارمنگ کا یہ طریقہ کافی پرانا ہے۔ پہلے کے وقت میں امیر انگریز غریب بچیوں کو حاملہ کرکے ان کے بچے رکھ لیتے تھے، لیکن اب اس نے تجارت کی ہی شکل اختیار کرلی ہے۔ خاص طور پر ایسے معاملات نائجیریا میں کافی زیادہ دیکھنے کو ملنے لگے ہیں۔ جی ہاں، یہاں جیسے ہی لڑکیوں کے پیریڈس شروع ہوتے ہیں،  ان کی کیڈنیپنگ (اغوا) کرلی جاتی ہے۔ اس کے بعد انہیں زبردستی حاملہ کرکے ان سے بچے پیدا کرواکر بیچے جاتے ہیں۔ ایسا خاص طور پر 13 سے 18 سال کی بچیوں کے ساتھ ہوتا ہے۔



      ہر طرف رہتی ہے گروہ کی نگاہیں

      نائجیریا میں بیبی فارمنگ کے لئے ایک بڑا گروہ سرگرم رہتا ہے۔ یہ لوگ ہر طرح سے اپنی نظریں مرکوز کئے رہتے ہیں۔ جیسے ہی انہیں کسی بھی لڑکی کے پیریڈس آنے کی خبر ملتی ہے، وہ گدھ کی طرح اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ خاص طور پر 13 سے 18 سال کے درمیان بچیاں ان کا شکار ہو جاتی ہیں۔ گھر سے باہر اکیلے دکھنے پر ان کا اغوا کرلیا جاتا ہے اور پھر انہیں حاملہ کردیا جاتا ہے۔

      ایک لاکھ میں فروخت ہوتا ہے بچہ

      اس بیبی فارمنگ کی جڑیں کافی گہری ہیں۔ گروہ اس کے لئے کافی مضبوط نیٹ ورک بناکر رکھتا ہے۔ اغوا کی گئی لڑکیوں کو حاملہ کرکے انہیں الگ رکھا جاتا ہے۔ اس کے بعد جیسے ہی ان کے بچے پیدا ہوتے ہیں، ویسے ہی امیر جوڑا، جن کے بچے نہیں ہو رہے ہوتے ہیں۔ انہیں بیچ دیا اتا ہے۔ لڑکا ہونے پر اس کی قیمت ایک لاکھ رپوئے تک جاتی ہے۔ جبکہ لڑکیاں بیس سے پچاس ہزار میں فروخت کی جاتی ہیں۔ اگر لڑکیوں کو نہیں خریدا تو گروہ ان کے جوان ہونے کا انتظار کرتا ہے، تاکہ ان سے بچے پیدا کروا کر بیچے جاسکیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: