ہوم » نیوز » عالمی منظر

US Violence: پارلیمنٹ میں ٹرمپ حامیوں کا ہنگامہ، 4 لوگوں کی موت، بھاری تعداد میں دھماکہ خیز مواد برآمد

واشنگٹن ڈی سی میں واقع کیپیٹل ہل میں جمع ڈونالڈ ٹرمپ کے حامی پرشتدد ہو گئے۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں توڑپھوڑ اور تشدد شروع کردیا۔ اس دوران پولیس کے ساتھ جھڑپ میں گولی لگنے ست ایک خاتون سمیت چار لوگوں کی موت کی خبر ہے۔ پولیس نے یہاں بھاری تعداد میں دھماکہ خیز اشیا برآمد کی ہیں۔

  • Share this:
US Violence: پارلیمنٹ میں ٹرمپ حامیوں کا ہنگامہ،  4 لوگوں کی موت، بھاری تعداد میں دھماکہ خیز مواد  برآمد
واشنگٹن ڈی سی میں واقع کیپیٹل ہل میں جمع ڈونالڈ ٹرمپ کے حامی پرشتدد ہو گئے۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں توڑپھوڑ اور تشدد شروع کردیا۔ اس دوران پولیس کے ساتھ جھڑپ میں گولی لگنے ست ایک خاتون سمیت چار لوگوں کی موت کی خبر ہے۔ پولیس نے یہاں بھاری تعداد میں دھماکہ خیز اشیا برآمد کی ہیں۔

واشنگٹن ڈی سی میں واقع کیپیٹل ہل عمارت میں جمع ڈونالڈ ٹرمپ کے حامی پر تشدد ہو گئے۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں توڑپھوڑ اور تشدد شروع کردیا۔ اس دوران پولیس کے ساتھ جھڑپ میں گولی لگنے ست ایک خاتون سمیت چار لوگوں کی موت کی خبر ہے۔ پولیس نے یہاں بھاری تعداد میں دھماکہ خیز اشیا برآمد کی ہیں۔  امریکہ میں (US President Election 2020) کے نتائج کو لیکر سیاست زوروں پر ہے۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگایا ہے اور دباؤ بنانے میں مصروف ہیں۔ اس دوران ڈرمپ کے حامیوں اورپولیس کے بیچ جھڑپ ہوئی۔جس میں ایک خاتون سمیت 4 افراد کی موت ہوگئی جبکہ کئی افراد زخمی ہوئے ہیں ۔اس معاملے میں 13 افراد کو حراست میں لے لیاگیاہے۔پولیس نے کچھ ہتھیار بھی ضبط کیے ہیں۔اس معاملے کی چہار جانب سے مذمت کی جارہی ہے۔امریکی صدر الیکٹ جو بائیڈن نے امریکی کیپیٹل ہل میں ٹرمپ کے حامیوں کی ہنگامہ آرائی کو غداری قرار دیا ہے ۔


رویٹر کی رپورٹ کے مطابق یو ایس کیپیٹل ہم میں ہوئے تشدد میں ایک خاتون کی گولی لگنے سے موت کی خبر ہے۔ مظاہرین کی پولیس کے درمیان پرتشدد جھڑپ کے بعد احاطے کو بند کر دیا گیا۔ کیپیٹل کے اندر یہ اعلان کیا گیا کہ باہری سکیورٹی خطرے کی وجہ سے کوئی شخص کیپٹل ہل احاطے سے باہر یا اس کے اندر نہیں جا سکتا۔

US Capitol Violence Updates :واشنگٹن میں صدارتی انتخابات کے نتائج کی توثیق کے اجلاس کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے ہنگامہ کیا۔ٹرمپ کے حامیوں کے ہجوم نے امریکی کیپیٹل ہل عمارت کے باہر ہنگامہ آرائی شروع کردی۔ اس دوران ڈرمپ کے حامیوں اورپولیس کے بیچ جھڑپ ہوئی۔جس میں ایک خاتون سمیت 4 افراد کی موت ہوگئی جبکہ کئی افراد زخمی ہوئے ہیں ۔اس معاملے میں 13 افراد کو حراست میں لے لیاگیاہے۔پولیس نے کچھ ہتھیار بھی ضبط کیے ہیں۔اس معاملے کی چہار جانب سے مذمت کی جارہی ہے۔امریکی صدر الیکٹ جو بائیڈن نے امریکی کیپیٹل ہل میں ٹرمپ کے حامیوں کی ہنگامہ آرائی کو غداری قرار دیا ہے ۔



وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والے تشدد پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔امریکہ میں جاری ہنگاموں کے درمیان ، وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹویٹ کیا ہے ، ’’واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والے فسادات اور تشدد کے بارے میں موصول اطلاعات کے بعد میں بہت پریشان ہوں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اقتدار کی پر امن منتقلی ہونی چاہئے۔ غیر قانونی احتجاج جمہوری عمل کو متاثر نہیں کرسکتے ہیں۔


ادھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حامیوں سے امن کی اپیل کی ہے۔حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے نیشنل گارڈ روانہ کردیا گیا۔ وائٹ ہاؤس کے پریس سکریٹری نے ٹویٹ کیا کہ صدر ٹرمپ کی ہدایت پر نیشنل گارڈ اور سینٹرل سیکیورٹی فورس کے دیگر اہلکار روانہ کردیئے گئے ہیں۔ ہم تشدد کے خلاف اور امن برقرار رکھنے کے لئے صدر کی اپیل کا اعادہ کررہے ہیں۔

کیپٹل ہل کیا ہے ؟

کیپٹل ہل امریکہ میں مرکزی حکومت کی قانون ساز شاخ کے طور پر مشہور ہے۔ امریکی کانگریس کے ممبروں کے علاوہ ، سینیٹ کے ممبران اور دیگر نمائندہ عارضی ایوان بھی یہاں ہی کام کرتے ہیں۔ امریکی ایوان نمائندگان اور سینیٹ کی عمارتوں کا پورا کمپلیکس یہاں موجود ہے۔ اس کے علاوہ ، لائبریری آف کانگریس اور امریکن کیپیٹل بلڈنگ بھی یہاں واقع ہے۔ایوان نمائندگان کی مشہور سفید گنبد عمارات اور سینیٹ کا میٹنگ چیمبر بھی یہاں موجود ہے۔ ایک طرح سے ، کیپٹل ہل کو امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن کی حکمرانی اور انتظامیہ کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اس عمارت کو قومی اہمیت اور صدارتی انضمام کے بہت سے تہواروں کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یہاں امریکی فن اور تاریخ کا ایک میوزیم موجود ہے ، جہاں ہر سال لاکھوں سیاح پہنچتے ہیں۔

یہاں کون کام کرتا ہے؟
امریکی کانگریس کے ممبروں کے علاوہ ، سینیٹ کے ممبران اور دیگر نمائندہ عارضی ایوان بھی یہاں کام کرتے ہیں۔ یہاں اعلیٰ عہدیداروں اور رہنماؤں کی میٹنگیں ہوتی ہیں اور اس علاقے میں سرکاری ملازمین اور انتظامیہ کی ایک بڑی تعداد روزانہ یہاں آتی ہے۔ ہم آپ کو بتادیں کہ وائٹ ہاؤس سے کیپیٹل ہل صرف دو میل یا ساڑھے تین کلومیٹر دور واقع ہے ، جہاں ٹرمپ کے حامی انتخابی ووٹوں کی گنتی روکنے کے لئے تشدد کرتے ہیں جو بائیڈن کو صدر بننے سے روکنے کے لئے کیے جانے والے اس تشدد سے ٹرمپ انتظامیہ کے بہت سے افسران و بھی ناراض ہے۔ این ایس اے رابرٹ برائن سمیت 3 اعلی عہدیداروں نے استعفی دینے کی پیش کش کی ہے۔وہیں وائٹ ہاؤس کی ڈپٹی پریس سکریٹری اوردیگرافسروں نےاستعفیٰ دے دیاہے۔سارامیتھیوزاوردیگرافسروں نے تشدد کے پیش نظر ٹرمپ انتظامیہ سے استعفیٰ دیاہے۔

3 نومبر کو امریکی صدر انتخابات (US President Elections 2020) کے بعد امریکہ میں تشدد کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ 3 نومبر کو ہی یہ طے ہوگیا تھا کہ جو بائیڈن (Joe Biden) دنیا کے طاقتور ترین ملک کے اگلے صدر ہوں گے لیکن ڈونلڈر ٹرمپ کو یہ  منظور نہیں ہے، وہ ہار ماننے کو تیار نظر نہیں آرہے۔ ٹرمپ نے انتخابی دھاندلی کا الزام لگا کر رائے عامہ کی تردید کرتے رہے۔ ادھر  واشنگٹن ڈی سی کے کیپیٹل ہل پر (Capitol Hill Violence) ٹرمپ کے حامی پرتشدد ہوگئے۔ اس نے پارلیمنٹ میں توڑ پھوڑ اور ہنگامہ کیا۔ اس دوران پولیس کے ساتھ جھڑپ میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ گولی لگنے سے ایک خاتون سمیت کم از کم چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ پولیس نے بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا ہے۔ فوج کی خصوصی یونٹ نے مظاہرین کو پسپا کردیا۔ فی الحال واشنگٹن ڈی سی میں جمعرات کی شام 6 بجے تک کرفیو ہے۔

 
Published by: Sana Naeem
First published: Jan 07, 2021 10:29 AM IST