உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    FIFA World CUP 2022: قطری اسٹیڈیم میں کولنگ سسٹمزکاہوگاخاص اہتمام، کیاہےخاص بات

    اس چیلنج پر قابو پانے کے لیے ڈاکٹر غنی اور ان کی ٹیم نے مجوزہ اسٹیڈیموں کے 3D پرنٹ شدہ پیمانے کے ماڈل بنائے اور انہیں ہوا کی سرنگوں میں رکھا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ اسٹیڈیم بیرونی ہوا کے ساتھ کس طرح تعامل کر رہے ہیں اور کس طرح کولنگ سسٹم کو مزید موثر بنایا جا سکتا ہے۔

    اس چیلنج پر قابو پانے کے لیے ڈاکٹر غنی اور ان کی ٹیم نے مجوزہ اسٹیڈیموں کے 3D پرنٹ شدہ پیمانے کے ماڈل بنائے اور انہیں ہوا کی سرنگوں میں رکھا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ اسٹیڈیم بیرونی ہوا کے ساتھ کس طرح تعامل کر رہے ہیں اور کس طرح کولنگ سسٹم کو مزید موثر بنایا جا سکتا ہے۔

    اس چیلنج پر قابو پانے کے لیے ڈاکٹر غنی اور ان کی ٹیم نے مجوزہ اسٹیڈیموں کے 3D پرنٹ شدہ پیمانے کے ماڈل بنائے اور انہیں ہوا کی سرنگوں میں رکھا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ اسٹیڈیم بیرونی ہوا کے ساتھ کس طرح تعامل کر رہے ہیں اور کس طرح کولنگ سسٹم کو مزید موثر بنایا جا سکتا ہے۔

    • Share this:
      فیفا ورلڈ کپ 2022 (FIFA World Cup 2022) کے لیے قطر کے اسٹیڈیم میں جادوئی لیکن انتہائی تکنیکی کولنگ سسٹم کا خاص اہتمام کیا جائے گا۔ جسے ڈاکٹر کول کا نام دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر سعود غنی کو ڈاکٹر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ ڈاکٹر غنی قطر یونیورسٹی (Qatar University) میں مکینیکل انجینئرنگ کے پروفیسر ہیں۔ انھوں نے وضاحت کی ہے کہ انہوں نے فٹ بال ورلڈ کپ کی تیاری میں کولنگ سسٹم کو کیسے مکمل کیا۔

      خلیج ٹائمز کے ساتھ ایک انٹرویو میں ڈاکٹر غنی نے وضاحت کی کہ اس پورے منصوبے میں سب سے بڑا چیلنج یہ معلوم کرنا تھا کہ گرم ہوا کو اسٹیڈیم میں داخل ہونے سے کیسے روکا جائے تاکہ اسٹیڈیم کے اندر ایک مائیکرو کلائمیٹ ببل (Microclimate Bubble) بنایا جا سکے اور اسے برقرار رکھا جا سکے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اسٹیڈیم کی شکل اور فٹ پرنٹ پر ایک تفصیلی ایروڈینامک تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ بہتر طور پر سمجھ سکے کہ اس کے ڈیزائن کو کس طرح استعمال کیا جائے تاکہ اسٹیڈیم میں گرم ہوا کی دراندازی کو کم کیا جاسکے۔

      یہ بھی پڑھیں: Russia-Ukraine War: یوکرین میں موجود ہندوستانی سفارت خانہ کیف سے باہر پولینڈ منتقل، یہ ہے وجہ

      اس چیلنج پر قابو پانے کے لیے ڈاکٹر غنی اور ان کی ٹیم نے مجوزہ اسٹیڈیموں کے 3D پرنٹ شدہ پیمانے کے ماڈل بنائے اور انہیں ہوا کی سرنگوں میں رکھا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ اسٹیڈیم بیرونی ہوا کے ساتھ کس طرح تعامل کر رہے ہیں اور کس طرح کولنگ سسٹم کو مزید موثر بنایا جا سکتا ہے۔

      کمپیوٹیشنل فلوئڈ ڈائنامکس سافٹ ویئر کا استعمال سمیولیشنز کی پیمائش اور اس پر کارروائی کرنے کے لیے کیا گیا تھا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ مختلف منظرناموں میں درجہ حرارت کتنا ہوگا۔ سمیولیشنز کیے جانے کے بعد وقت آگیا تھا کہ اسٹیڈیم کے ڈیزائن کی کچھ خصوصیات کو درست کیا جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ کولنگ سسٹم بالکل کیسے کام کرے گا۔ ڈاکٹر غنی نے کہا کہ البیت اسٹیڈیم (Al Bayt Stadium) میں ابتدائی ڈیزائن میں گہرے رنگ کا اگواڑا تھا لیکن بعد میں اسے ہلکے شیڈ میں تبدیل کر دیا گیا۔ ڈاکٹر غنی نے مزید کہا کہ یہ سادہ تبدیلی غیر فعال طور پر اندر کے درجہ حرارت کو پانچ ڈگری سیلسیس تک نیچے لے آئی۔ جس سے ہوا کو ٹھنڈا کیا جاسکتا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں: DHC: یوکرین سےوطن واپس ہوئےمیڈیکل طلباکوہندوستان میں تعلیم جاری رکھنے کی اجازت دینے دہلی ہائی کورٹ میں درخواست

      ڈاکٹر غنی کے لیے مذکوہ نئی اور انوکھی پیش رفت کا لمحہ وہ تھا جب انھوں نے محسوس کیا کہ پورے اسٹیڈیم کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے انھیں صرف کھیل کے میدان کو ٹھنڈا کرنا تھا اور میچوں کے تماشائیوں کو اس میں شامل ہر فرد کے لیے ہموار سفر بنانا تھا۔ انھوں نے اسپاٹ کولنگ سسٹم پر بھی کام کیا جس نے مخصوص علاقوں کو نشانہ بنا کر ٹھنڈا کرنے میں مددگاگر بنا۔

      اس انقلابی منصوبے کو قطر نیشنل ریسرچ فنڈ (QNRF) نے فنڈ کیا تھا۔ ڈاکٹر غنی کی ذہانت سے سامنے آنے والی جدت شائقین کے لیے قطر کی آب و ہوا کی فکر کیے بغیر اسٹیڈیم میں ورلڈ کپ سے لطف اندوز ہونا ممکن بنائے گی۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: