உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Elon Musk: ایلون مسک کی ٹویٹر کے خلاف عدالتی جنگ! ہندوستانی حکومت کے بارے میں مسک نے کیا کہا؟

     ایلون مسک

    ایلون مسک

    کمپنی نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ٹویٹر نے انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کے سیکشن 69 اے کے تحت کچھ بلاک کرنے کے احکامات کو چیلنج کیا ہے کیونکہ اس نے کمپنی کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایسے مواد کو ہٹائے جو سیاست دانوں، کارکنوں اور صحافیوں سے منسلک ہوں۔

    • Share this:
      ٹیسلا کے بانی ایلون مسک (Elon Musk) نے اس مجوزہ معاہدے پر عمل نہ کرنے کے خلاف ٹویٹر (Twitter) کے قانونی چارہ جوئی کے جواب میں ہندوستانی حکومت سے مطالبہ کیا جس میں سوشل میڈیا کو 44 بلین ڈالر میں خریدنا کا معاہدہ طئے کیا گیا تھا۔ اس معاہدہ سے پیچھے ہٹنے کی وجوہات درج کرتے ہوئے مسک نے عدالت میں کہا کہ کمپنی نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ اس نے ٹویٹر کی تیسری بڑی مارکیٹ کی حکومت کے خلاف "خطرناک" قانونی چارہ جوئی کی ہے۔

      ماسک نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسے ٹویٹر کی انتظامیہ نے اس معاہدے میں حصہ لینے کا جھانسہ دیا تھا۔ مسک نے یہ الزامات ڈیلاویئر کی عدالت میں دائر جوابی مقدمہ میں لگائے۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق ایلون مسک نے کہا کہ ٹوئٹر کو ہندوستان میں مقامی قانون پر عمل کرنا چاہیے۔ انہوں نے خود کو اظہار رائے کی آزادی کا حامی بھی قرار دیا اور کہا کہ ٹویٹر کی اعتدال پسندی کو ان ممالک کے قوانین کے قریب ہونا چاہئے جہاں وہ کام کرتا ہے۔

      جمعرات کو عدالتی دستاویزات تک نیویارک ٹائمز نے رسائی حاصل کی۔ ایک اقتباس میں لکھا گیا ہے کہ 2021 میں ہندوستان میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے حکومت کو سوشل میڈیا پوسٹس کی چھان بین کرن اور  معلومات کی نشاندہی کرنے کا مطالبہ کرنے کیا اور اس کی تعمیل کرنے سے انکار کرنے والی کمپنیوں پر مقدمہ چلانے کی اجازت دی تھی۔ اس پر ماسک نے کہا تھا کہ ٹویٹر کو ان ممالک کے قوانین کے قریب ہونا چاہئے جہاں ٹویٹر کام کرتا ہے۔ ٹویٹر نے ان الزامات کی تردید کی۔

      کمپنی نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ٹویٹر نے انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کے سیکشن 69 اے کے تحت کچھ بلاک کرنے کے احکامات کو چیلنج کیا ہے کیونکہ اس نے کمپنی کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایسے مواد کو ہٹائے جو سیاست دانوں، کارکنوں اور صحافیوں سے منسلک ہوں۔

      یہ بھی پڑھیں:

      چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا کے بعد اگلے CJI کون؟ جسٹس ادے امیش للت کی سفارش

      ٹویٹر کرناٹک ہائی کورٹ (Karnataka High Court) میں ہندوستانی حکومت کے حکم کا مقابلہ کر رہا ہے کہ اگر وہ مواد کو بلاک کرنے کے حکم کی تعمیل کرتا ہے تو ان کا ہندوستانی کاروبار بند ہو جائے گا۔ ہائی کورٹ اس معاملے کی اگلی سماعت 25 اگست کو کرے گی۔

      یہ بھی پڑھیں:

      Covid-19: کورونا نے پھر بڑھائی تشویش، کیا آنے والی ہے نئی لہر؟ ماہرین نے کہی یہ بات

      مسک نے یہ کہتے ہوئے معاہدے کو روک دیا ہے کہ ان کی ٹیم ٹویٹر کے اس دعوے کی سچائی کا جائزہ لے رہی ہے کہ اس کے پلیٹ فارم پر بوٹ اکاؤنٹس صرف 5 فیصد ہیں۔ کمپنی نے کہا کہ وہ سود کے نقصان کی وجہ سے اس معاہدے کو روک رہا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: