உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جمال خاشقجی کے قتل کا آڈیو ٹیپ آیا سامنے ، لاش کاٹے جانے کی سنی جاسکتی ہے آواز

    فائل فوٹو

    فائل فوٹو

    خاشقجی کے آخری دردناک لمحوں کے ریکارڈ آڈیو کی ٹرانسپکرٹ کا ترجمہ پڑھنے والے ایک ذرائع نے بتایاکہ آڈیو ٹیپ سے پتہ چلتا ہے کہ خاشقجی انہیں مارنے کے لئے آئے لوگوں سے جدوجہد کررہے تھے ۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      سعودی صحافی جمال خاشقجی نے استنبول میں واقع قونصلیٹ میں قتل سے عین قبل ’’میں سانس نہیں لے پارہا ہوں‘‘ کہا تھا جس کا خلاصہ ایک آڈیو ٹیپ کے ذریعہ ہوا ہے۔ سی این این نے اپنی رپورٹ میں یہ اطلاع دی ہے۔ مسٹر خاشقجی کے آخری دردناک لمحوں کے ریکارڈ آڈیو کی ٹرانسپکرٹ کا ترجمہ پڑھنے والے ایک ذرائع نے بتایاکہ آڈیو ٹیپ سے پتہ چلتا ہے کہ خاشقجی انہیں مارنے کے لئے آئے لوگوں سے جدوجہد کررہے تھے اور اسی دوران انہوں نے ’’میں سانس نہیں لے پارہا ہوں، کہا اور دم توڑنے سے پہلے یہی ان کے آخری الفاظ تھے۔
      ذرائع کے مطابق واشنگٹن پوسٹ کے صحافی مسٹر خاشقجی کی 2 اکتوبر کو ان کی اچانک موت نہیں ہوئی بلکہ ایک سازش کے تحت اس قتل کو انجام دیا گیا تھا۔ آڈیو ٹیپ سے پتہ چلتاہے کہ خاشقجی کو مارنے کے لئے گئے لوگوں سے وہ جدوجہد کررہے تھے۔
      قونصلیٹ میں داخل ہونے کے فورا بعد ہی انہیں قتل کردیا گیا تھا۔ اس آڈیو میں آری کی مدد سے مسٹر خاشقجی کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی آواز سنی جاسکتی ہے۔ذرائع کے مطابق مسٹر خاشقجی کے قتل کے بعد پورے واقعہ کی اطلاع دینے کے لئے ایک کے بعد ایک کئی فون کال کئے گئے۔ ترکی کے افسران کا کہنا ہے کہ یہ فون کال ریاض میں بیٹھے سینئر افسران کو کئے گئے تھے۔
      اس دوران سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے اتوار کو مسٹر خاشقجی کے قتل کے مشتبہ ملزموں کو حوالے کرنے سے انکار کردیا ہے۔ ترکی کے صدر طیب ارودگان نے مشتبہ ملزموں کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ترکی کا الزام ہے کہ سعودی عرب نے مسٹر خاشقجی کے قتل کے لئے 15 رکنی ٹیم استنبول بھیجی تھی۔

      First published: