உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Russia-Ukraine war: ایس یو 30 لڑاکا بیڑے کو اپ گریڈ کرنے کامنصوبہ، جنگ کے دوران روک دیا گیا

    یوکرین نے امریکہ سے بھاری ہتھیاروں کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ (فائل فوٹو)

    یوکرین نے امریکہ سے بھاری ہتھیاروں کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ (فائل فوٹو)

    یہ رپورٹ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے 37ویں پی سی لال میموریل لیکچر کے دو دن بعد سامنے آئی ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ یوکرین میں جنگ اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ فوجی تنازعات نہ صرف دفاعی سامان بلکہ تجارتی معاہدوں کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔

    • Share this:
      خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے 8 مئی کو ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ (Russia-Ukraine war) کے پیش نظر ہندوستانی فضائیہ (IAF) نے اپنے Sukhoi Su-30 MKI لڑاکا بیڑے کو اپ گریڈ کرنے کے 35,000 کروڑ روپے کے منصوبے کو موخر کر دیا ہے۔

      رپورٹ کے مطابق آئی اے ایف مقامی دفاعی کمپنی ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (Hindustan Aeronautics Ltd) اور سوخوئی کے ساتھ مل کر Su-30 MKI لڑاکا طیاروں کے 85 کو اپ گریڈ کرنے کا منصوبہ بنا رہا تھا - جو ماسکو کے ہیڈ کوارٹر میں اسلحہ ساز کمپنی ہے جو Su-30 لڑاکا طیارے اور جیٹ طیارے کو ڈیزائن اور سپلائی کرتی ہے۔

      اے این آئی کے مطابق 12 جدید ترین Su-30MKI طیاروں کا سودے کو بھی ابھی کے لیے روک دیا جائے گا۔ جس کی قیمت 20,000 کروڑ روپے سے زیادہ ہونے کا تخمینہ تھا۔ ذرائع نے ممکنہ تاخیر کی وجہ پالیسی میں تبدیلی کی وجہ بتائی جس کے تحت اسٹیک ہولڈرز کو طیاروں میں ہندوستان میں بنائے گئے مواد کو بڑھانے کی ضرورت ہوگی۔

      یوکرین اور روس کے درمیان جنگ نے اسپیئر پارٹس کی سپلائی کو بھی متاثر کیا ہے۔ رپورٹ میں ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگرچہ یہ ابھی کے لیے قابل انتظام ہے، لیکن یہ قلت ایک سال یا اس کے بعد ایک مسئلہ بن سکتی ہے۔ اے این آئی نے مزید کہا کہ یہی وجہ ہے کہ فورس اپنے درآمد شدہ سامان کے انڈگو راشن کی جوڑی میں منتقل ہوگئی ہے۔

      مزید پڑھیں: جہانگیر پوری تشدد معاملے میں 8 ملزمین کی ضمانت خارج، عدالت نے دہلی پولیس کو لگائی پھٹکار

      یہ رپورٹ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے 37ویں پی سی لال میموریل لیکچر کے دو دن بعد سامنے آئی ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ یوکرین میں جنگ اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ فوجی تنازعات نہ صرف دفاعی سامان بلکہ تجارتی معاہدوں کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔

      مزید پڑھیں: روس-یوکرین جنگ: اسکول کی عمارت پر گرا بم، حملے میں 60 افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ

      سنگھ نے کہا کہ ہمارے ماضی کے تجربات نے ہمیں سکھایا ہے کہ ہندوستان اپنی سلامتی کے لیے درآمدات پر انحصار نہیں کر سکتا۔ حالیہ تنازعات، خاص طور پر یوکرین کی صورت حال نے ہمیں بتایا ہے کہ نہ صرف دفاعی رسد (متاثر ہو سکتی ہے)، بلکہ تجارتی معاہدے بھی متاثر ہوتے ہیں جب یہ قومی مفادات میں آتا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: