உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عمران خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے دی بڑی راحت، دہشت گردانہ دفعات ہٹانے کا حکم، جانیں تفصیل

    عمران خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے دی بڑی راحت

    عمران خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے دی بڑی راحت

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو ان پر دہشت گردانہ معاملوں میں لگی اے ٹی اے (انسداد دہشت گردی ایکٹ) دفعات سے راحت کا حکم دیا ہے۔ دراصل، عمران خان پر خاتون جج کو دھمکی دینے کا الزام تھا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi, India
    • Share this:
      اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو ان پر دہشت گردانہ معاملوں میں لگی اے ٹی اے (انسداد دہشت گردی ایکٹ) دفعات سے راحت کا حکم دیا ہے۔ دراصل، عمران خان پر خاتون جج کو دھمکی دینے کا الزام تھا۔ ایک رپورٹ کے مطابق، پیر کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم جاری کیا کہ وہ عمران خان کے اوپر لگے تمام دہشت گردانہ معاملات ہٹا رہی ہے۔

      واضح رہے کہ گزشتہ ماہ منعقدہ ایک ریلی میں 69 سالہ عمران خان نے ملک سے غداری کے الزام میں گرفتار اپنے معاون شہباز گل کے ساتھ کئے گئے مبینہ برتاو سے متعلق اعلیٰ پولیس افسران، الیکشن کمیشن اور سیاسی مخالفین کے خلاف معاملہ درج کرانے کی دھمکی دی تھی۔ انہوں نے اس دوران ایڈیشنل جج اور سیشن جج زیبا چودھری کا خاص طور پر نام لیا تھا۔ سابق وزیر اعظم نے کہا تھا کہ وہ ’کارروائی کے لئے تیار رہیں‘۔

      عمران خان پر خاتون جج کو دھمکی دینے کا الزام تھا۔
      عمران خان پر خاتون جج کو دھمکی دینے کا الزام تھا۔


      اس بیان کے کچھ گھنٹوں کے بعد ہی پولیس، عدلیہ اور دیگر ریاستی اداروں کو دھمکی دینے کے الزام میں عمران خان کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت معاملہ درج کیا گیا۔ عدالت نے گزشتہ ہفتے معاملے میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی ضمانت مدت بڑھا کر 20 ستمبر تک کردیا تھا اور انہیں جانچ کے لئے اسلام آباد پولیس کی مشترکہ جانچ ٹیم (جے آئی ای ٹی) کے سامنے پیش ہونے کے احکامات دیئے تھے۔ عمران خان بدھ کو پوچھ گچھ کے لئے جے آئی ٹی کے سامنے حاضر ہوئے تھے۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      لکھیم پور میں بہنوں کی آبروریزی-قتل کیس: سپریم کورٹ کا سماعت سے انکار

      یہ بھی پڑھیں۔

      چندی گڑھ یونیورسٹی ایم ایم ایس سانحہ: دو وارڈن معطل، پانچ رکنی کمیٹی کی تشکیل 

      بدھ کے روز جے آئی ٹی کے سامنے حاضر ہونے سے پہلے عمران خان نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ یہ معاملہ ایک مذاق ہے۔ انہوں نے کہا، ’یہ پوری دنیا کے سامنے مذاق ہے۔ کیونکہ سبھی مجھے جانتے ہیں، پوری دنیا میں خبر چھپی کہ میرے خلاف دہشت گردی کے الزام میں ایف آئی آر درج کیا گیا ہے‘۔

      حالانکہ پوچھ گچھ کے بعد آج پیر کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کو انسداد دہشت گردی کے الزام سے بری کردیا ہے اور ان پر عوامی جلسے، ریلیوں کو خطاب کرنے پر عائد پابندی بھی ہٹا دی گئی ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: