உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عمران خان نے تسلیم کیا- Pakistan میں نہیں ہے قانون کا راج، وسائل پر خاص لوگوں کا قبضہ

    عمران خان نے تسلیم کیا- Pakistan میں نہیں ہے قانون کا راج، وسائل پر خاص لوگوں کا قبضہ

    عمران خان نے تسلیم کیا- Pakistan میں نہیں ہے قانون کا راج، وسائل پر خاص لوگوں کا قبضہ

    پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کا یہ انٹرویو پاکستان ٹیلی ویژن پر اتوار کو نشر ہوا۔ عمران خان نے کہا، ’قانون جرم کے مرتکب کے معیار کی بنیاد پر کام کرتا ہے۔ اگر آپ امیر ہیں تو اہم مقامات پر بیٹھیں گے اور اگر غریب ہیں تو زندگی بھر جدوجہد ہی کرتے رہیں گے‘۔

    • Share this:
      اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان (Imran Khan) نے مانا ہے کہ وسائل پر خاص لوگوں کے قبضہ کرنے اور ملک میں قانون کا راج (Law&Order) نہ ہونا پاکستان (Pakistan) کی پسماندگی کی اہم وجہ ہے۔ عمران خان نے یہ بات امریکہ کے مسلم دانشور شیخ حمزہ یوسف سے آن لائن انٹرویو میں کہی ہے۔ شیخ کیلیفورنیا کے جیتونا کالج کے سربراہ بھی ہیں۔ عمران خان اس سے پہلے پاکستان میں ہزاروں دہشت گردوں کے سرگرم ہونے کی بات کا بھی اعتراف کرچکے ہیں۔

      عمران خان نے کیا یہ دعویٰ

      عمران خان نے کہا، ’کچھ خاص لوگوں کے وسائل پر قبضہ کرلینے سے اکثریتی عوام صحت، تعلیم اور انصاف کی سہولت سے محروم ہیں۔ قانون کا راج نہ ہونے سے ملک اس اونچائی پر نہیں پہنچ پایا جہاں اسے ہونا چاہئے تھا۔ کوئی بھی معاشرہ تب تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک وہ ضوابط کے مطابق نہ چلے۔ بیشتر ترقی یافتہ ممالک میں یہی پریشان ہے۔ پاکستان میں بھی غریبوں کے لئے الگ قانون ہے اور امیروں کے لئے الگ‘۔

      عمران خان نے کہا- پاکستان کو بنانا چاہتے ہیں فلاحی قوم

      پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کا یہ انٹرویو پاکستان ٹیلی ویژن پر اتوار کو نشر ہوا۔ عمران خان نے کہا، ’قانون جرم کے مرتکب کے معیار کی بنیاد پر کام کرتا ہے۔ اگر آپ امیر ہیں تو اہم مقامات پر بیٹھیں گے اور اگر غریب ہیں تو زندگی بھر جدوجہد ہی کرتے رہیں گے‘۔ انہوں نے کہا، ’پاکستان کو وہ فلاحی اسلامی قوم بنانا چاہتے ہیں، جیسا تصور مدینہ سے متعلق پیغمبر محمد نے کیا تھا۔ ان کی حکومت دو اصولوں پر چل کرم لک کو آگے لے جانا چاہتی ہے۔ ان میں سے ایک اصول پاکستان کو فلاحی قوم بنانے کا ہے۔ دوسرا قانون کا راج قائم کرنے کا ہے‘۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      Suicide in Love: پیار نہیں ہوا پورا تو ایک ہی پھندے سے لٹک گیا عاشق جوڑا


      ماحولیات کے مسئلے پر عمران خان نے کہا، ’اس میں سدھار کرنے کے لئے ایمانداری سے کوشش کی جانی چاہئے۔ کیونکہ زمین پر زندگی بچانے کے لئے یہ ضروری ہے۔ اگر اس کام میں ایمانداری نہ برتی گئی، تو مستقبل میں مصیبتیں آئیں گی اور تب کوئی کچھ نہیں کر پائے گا۔ مرد موجودہ دور میں جو کرے گا، وہ آنے والی نسلوں کے حصے میں آئے گا’۔ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا، ’بیشتر مسلم ممالک کے حکمراں اپنا بھروسہ کھو چکے ہیں، وہ معاہدہ کرکے اقتدار میں آتے ہیں اور پھر اس میں بنے رہنے کے لئے معاہدہ کرتے ہیں۔ اپنے ذاتی فائدے کے لئے کام کرتے ہیں۔ اس سے وہ عوام کے مفادات سے کٹ جاتے ہیں‘۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: