உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کرسی جانے کے بعد Imran Khan کا الزام، کہا- حکومت گرانے میں آرمی چیف قمر جاوید باجوا کا ہاتھ

    کرسی جانے کے بعد Imran Khan کا الزام، کہا- حکومت گرانے میں آرمی چیف قمر جاوید باجوا کا ہاتھ

    کرسی جانے کے بعد Imran Khan کا الزام، کہا- حکومت گرانے میں آرمی چیف قمر جاوید باجوا کا ہاتھ

    پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان نے بدھ کی شب پارٹی کارکنان کو خطاب کرتے ہوئے فوج میں کچھ ایسے لوگ تھے، جو غلط سرگرمیوں میں شامل تھے۔ حالانکہ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ فوج میں سبھی لوگ غلط ہیں۔

    • Share this:
      لاہور: پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوا پر تنقید کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم عمران خان نے الزام لگایا ہے کہ فوج میں کچھ ایسے لوگ تھے، جو غلط سرگرمیوں میں شامل تھے۔ وہ انہیں اقتدار سے بے دخل کرنے کے لئے ذمہ دار تھے۔ ٹوئٹر پر بدھ کی رات پارٹی کارکنان کو خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا، ’اداروں میں بھی انسان ہوتے ہیں۔ اگر ایک یا دو شخص کچھ غلط کرتے ہیں، تو پورا ادارہ ذمہ دار نہیں ہوتا۔ اگر ایک شخص (فوجی سربراہ جنرل قمرجاوید باجوا کے ضمن میں) غلطی کرتا ہے، تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پورے ادارہ کی غلطی ہے‘۔

      اس ضمن میں سابق وزیر فواد چودھری نے بدھ کو ایک نیوز چینل سے کہا کہ فوجی ادارے اور عمران خان کی قیادت والی پاکستان تحریک انصاف حکومت کے درمیان رشتے ٹھیک نہں تھے۔ ہم نے فوج کے ساتھ غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے اپنی پوری کوشش کی، لیکن کامیاب نہیں ہوسکے۔ پاکستان کے 73 سال کی تاریخ میں پاکستانی فوج نے تختہ پلٹ کرکے نصف سے زیادہ وقت تک اقتدار کیا ہے۔ اس نے ایک بار پھر جیت حاصل کرلی ہے۔

      فوج کی حمایت کھو چکے تھے عمران خان

      ماہرین کے مطابق، 10 اپریل کو قومی اسمبلی کے ذریعہ تحریک عدم اعتماد کی تجویز منظور کرکے ہٹائے گئے عمران خان نے فوج کی حمایت کھو دیا تھا، کیونکہ انہوں نے جاسوسی ایجنسی آئی ایس آئی سربراہ کے طور پر لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کی تقرری کی حمایت کرنے سے انکار کردیا تھا۔ حالانکہ بعد میں وہ متفق ہوگئے تھے، لیکن اس سے فوج کے ساتھ ان کے تعلقات میں تلخی آگئی تھی۔ 69 سالہ عمران خان پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتماد سے باہر ہونے والے واحد پاکستانی وزیر اعظم ہیں۔ ان کی جگہ پاکستان مسلم لیگ- نواز (پی ایم ایل-این) کے شہباز شریف نے لے لی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      ہندوستان کے خلاف ناپاک سازش کر رہا ہے Pakistan، چین سے جمع کر رہا ہے انڈین ایئربیس کا سیٹلائٹ ڈیٹا

      ریلی کریں گے عمران خان

      عمران خان نے اپنے حامیوں سے جمعرات کو لاہور میں مینار پاکستان پہنچنے کی گزارش کی ہے، تاکہ اسے ملک کی تاریخ میں اب تک کی سب سے بڑی ریلی بنایا جاسکے۔ کرکٹر سے لیڈر بنے عمران خان نے کہا کہ سبھی ادارے بدعنوان نہیں ہیں، لیکن کچھ لوگ غلط کاموں میں ملوث ہیں۔

      عمران خان نے فوج کی تعریف کرتے ہوئے کہا، ’پاکستان کو عمران خان سے زیادہ مسلح افواج کی ضرورت ہے۔ اگر یہاں مضبوط فوج نہیں ہوتی، تو پاکستان تین ٹکڑوں میں تقسیم ہوجاتا‘۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی پارٹی نے مسلح افواج کے خلاف کبھی بات نہیں کی بلکہ انہیں مضبوط کیا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: