உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جناح کے یوم پیدائش پرعمران خان کا متنازعہ بیان، اسدالدین اویسی اورشاہ کے سمجھانے سے بھی نہیں سمجھے

    پاکستان کے وزیراعظم عمران خان: فائل فوٹو

    پاکستان کے وزیراعظم عمران خان: فائل فوٹو

    اب عمران خان بھی وہی حکمت عملی اپنارہےہیں جوان سے پہلے کے وزرائےاعظم 'پاکستان کے بحران' کے وقت اپناتے تھے۔

    • Share this:
      پاکستان کے وزیراعظم عمران خان بھی ان کے ماضی کے وزرائے اعظم عہدے پررہے لوگو کی طرح ہی ہندوستان کا نام لے کرپاکستان میں سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوششوں میں مصروف ہوگئے ہیں۔ شاید تبھی وہ ہندوستان کے اندرونی معاملے کواپنے طریقے سے توڑمروڑ کراس کا استعمال اپنے مفاد کے کے لئے کررہے ہیں۔

      آج  پاکستان کے قائد اعظم محمد علی جناح کا یوم پیدائش ہے۔ اس موقع پرپاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے ہندوستان کا سہارا لیا ہے۔ ایک بارپھرسے انہوں نے اقلیتوں کے موضوع پرہندوستان پرنشانہ سادھا ہے۔ انہوں نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے پاکستان میں وہ ہرشہری کے ساتھ ایک جیسا برتاو کرتے ہیں نہ کہ ہندوستان کی طرح ہی پاکستان میں برتاو کیا جاتا ہے۔

      عمران خان نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے "محمد علی جناح کوجب لگا کہ مسلمانوں کے ساتھ ندوایک جیسا برتاو نہیں کریں گے، تب انہوں نے الگ ملک کا مطالبہ کیا۔ نئے پاکستان میں ہم یہ یقینی بنائیں گے کہ ہمارے یہاں اقلیتوں کے ساتھ ایک جیسا برتاو کیا جائے، نہ کہ ہندوستان کی طرح"۔

      عمران خان نے مسلسل دوسری باراقلیتوں کے موضوع پرہندوستان کوگھیرا ہے۔ گزشتہ دنوں ہفتہ کولاہورمیں ایک پروگرام کو خطاب کرتے ہوئےعمران خان نے ہندوستان میں پرتشدد ہجوم پرفلم اداکارنصیرالدین شاہ کے بیان کا ذکرکرتے ہوئے کہا تھا "ہم مودی حکومت کودکھائیں گے کہ اقلیتوں سے کیسا برتاوکیا جاتا ہے۔ ہندوستان میں بھی لوگ کہہ رہے ہیں کہ اقلیتوں سے دیگرشہریوں جیسا برتاونہیں ہوتا"۔



      عمران خان کے اس بیان پرنصیرالدین شاہ نے بھی تبصرہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان پہلے اپنا گھرسنبھالیں۔ نصیرالدین نے کہا کہ مجھےلگتا ہے کہ عمران خان کو ان موضوعات پرتبصرہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے، جس کا اس سے کوئی سروکارنہیں ہے۔

      اویسی اورشاہ کی وارننگ  سے بھی نہیں سمجھےعمران

      مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اورحیدرآباد کے ممبرپارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے بھی پاکستان کے وزیراعظم کو ہندوستان اورپاکستان میں اقلیتوں کو دیئے جانے والے اختیارات سمجھائے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان میں صرف مسلم طبقے سے آنے والے شہری ہی سب سے اعلیٰ عہدہ (صدر) پرپہنچ سکتا ہے جبکہ ہندوستان میں اقلیتی طبقے سے آنے والے کئی لوگ صدرجمہوریہ کے عہدے پرفائز ہوچکے ہیں۔

      حالانکہ ان سبھی باتوں کو درکنارکرکے عمران خان وہی پرانا راگ الاپ رہے ہیں۔ اقتصادی تنگی سے جدوجہد کررہے پاکستان میں شہریوں کواپنے پالے میں بنائے رکھنے کے لئے اب وہ بھی وہی حکمت عملی اپنارہے ہیں، جو ان سے سابق لیڈران اپناتے تھے۔ وہ حکمت عملی ہے "ملک پربحران آئے توہندوستان کا مسئلہ چھیڑدو"۔

       
      First published: