உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Pakistan:عمران خان نے تین مہنگی گھڑیوں کو بیچ کر کمائے اتنے کروڑ روپے، غیرملکی لیڈروں نے دیے تھے تحفے

    پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان (Imran Khan)

    پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان (Imran Khan)

    ظاہر طور پر تحفوں کو کبھی بھی توشہ خانے میں جمع نہیں کرایا گیا۔ کسی بھی سرکاری عہدیدار کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس ملے ہوئے تحفے کے بارے میں فوری اطلاع دے تا کہ اس کی قیمت کا اندازہ لگایا جاسکے۔ اگر کوئی عہدیدار تحفے کو اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے تو وہ پہلے اسے جمع کرائے اور پھر اس کی حقیقی قیمت ادا کر کے اسے لے سکتا ہے۔

    • Share this:
      اسلام آباد:پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان نے غیر ملکی رہنماؤں سے بطور تحفہ ملی تین مہنگی گھڑیاں غیر قانونی طور پر فروخت کر کے 3.6 کروڑ روپے کمائے۔ یہ اطلاع بدھ کو میڈیا میں آئی ایک خبر میں یہ اطلاع دی گئی ہے۔

      جیو نیوز کے ساتھ شیئر کی گئی سرکاری تحقیقاتی تفصیلات کے مطابق، خان نے بطور وزیر اعظم اپنے دور میں قیمتی جواہرات سے جڑی ان گھڑیوں سے کروڑوں روپے کمائے۔ جس کی کل لاگت 15.4 کروڑ روپے ہے۔ خبر میں کہا گیا ہے کہ مہنگی ترین گھڑی کی قیمت 10.1 کروڑ روپے تھی جسے سابق وزیراعظم نے اس کی قیمت کا 20 فیصد ادا کرکے اپنے پاس رکھا ہوا ہے۔

      عمران حکومت نے کیے تھے قوانین میں تبدیلیاں
      اس سے قبل، ان کی حکومت نے 'توشہ خانہ' کے قوانین میں تبدیلی کی تھی اور طئے کیا تھا کہ اصل قیمت کا 50 فیصد ادا کرکے تحائف کو برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے قانون کے مطابق غیر ملکی رہنماؤں کی جانب سے ملنے والا کوئی بھی تحفہ سرکاری خزانے میں جمع کرانا ہوتا ہے۔

      خریدنے کے بجائے سابق کرکٹر نے پہلے گھڑیوں کو فروخت کیا
      خبر کے مطابق، دستاویزوں اور فروخت کی رسیدوں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ توشہ خانے سے اپنے پیسے سے ان قیمتی گھڑیوں کو خریدنے کے بجائے سابق وزیراعظم نے پہلے گھڑیوں کو بیچا اور ہر گھڑی کی قیمت کا 20 فیصد سرکاری خزانے میں جمع کرادیا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      عمران خان نے شہباز شریف کی حکومت پر لگایا ’لوگوں کو درد‘ پہنچانے کا الزام

      یہ بھی پڑھیں:
      Pakistan:پاکستان میں اقلیتوں پر ظلم کا سلسلہ جاری، کراچی میں نابالغ ہندو لڑکے کا اغوا

      ظاہر طور پر تحفوں کو کبھی بھی توشہ خانے میں جمع نہیں کرایا گیا۔ کسی بھی سرکاری عہدیدار کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس ملے ہوئے تحفے کے بارے میں فوری اطلاع دے تا کہ اس کی قیمت کا اندازہ لگایا جاسکے۔ اگر کوئی عہدیدار تحفے کو اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے تو وہ پہلے اسے جمع کرائے اور پھر اس کی حقیقی قیمت ادا کر کے اسے لے سکتا ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: