உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Pakistan: مارچ میں گر جائے گی عمران خان کی حکومت؟ فوج نے ’کٹھ پتلی‘ پی ایم سے بنائی دوری، پڑوسی ملک میں بڑھی سیاسی ہلچل

    پاکستانی صحافی نجم سیٹھی نے مختلف ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے، ’فوج سابق وزیراعظم نواز شریف (Nawaz Sharif) اور اُن کے بھائی شہباز شریف سے بات کررہی ہے، اس سے جڑے مثبت نتائج جلد ہی سامنے آسکتے ہیں۔

    پاکستانی صحافی نجم سیٹھی نے مختلف ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے، ’فوج سابق وزیراعظم نواز شریف (Nawaz Sharif) اور اُن کے بھائی شہباز شریف سے بات کررہی ہے، اس سے جڑے مثبت نتائج جلد ہی سامنے آسکتے ہیں۔

    پاکستانی صحافی نجم سیٹھی نے مختلف ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے، ’فوج سابق وزیراعظم نواز شریف (Nawaz Sharif) اور اُن کے بھائی شہباز شریف سے بات کررہی ہے، اس سے جڑے مثبت نتائج جلد ہی سامنے آسکتے ہیں۔

    • Share this:
      اسلام آباد:Pakistan:Imran Khan Government May Collapse:’نئے پاکستان‘ کا نعرہ دے کر اقتدار میں آنے والے پاکستان کےو زیراعظم عمران خان (Imran Khan) اب ’میرا پاکستان، میرا گھر‘ کا نعرہ لگارہے ہیں لیکن اب سیاسی طوفان تیزی سے اُن کے اسی گھر کی طرف بڑھ رہا ہے۔ پاکستانی میڈیا رپورٹ کے مانیں تو عمران خان اور فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوا (Qamar Javed Bajwa) کے درمیان کشیدگی بڑھتی جارہی ہے۔ عمران خود فوج کی مدد سے اقتدار میں آئے تھے لیکن اب اپوزیشن نے جنرل باجواہ کو اپنی طرف کرلیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عمران خان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لیڈر بھی اُن سے خوش نہیں ہیں۔

      ایسا دعویٰ کیا جارہا ہے کہ مارچ میں عمران خان کی حکومت کے اوپر خطرے بادل منڈراسکتے ہیں۔ بدھ کو ہی نیشنل اسمبلی کو پارلیمنٹ کا سیشن ملتوی کرنا پڑا تھا۔ کیونکہ عمران خان دو بلوں کو پاس کرانے کے لئے ضروری اکثریت حاصل نہیں کرپائے تھے۔ اس سے عمران خان بے حد ناراض ہوگئے۔ عمران خان کے معاون اُن کا ساتھ نہیں دے رہے ہیں اور اب قیاس لگائے جارہے ہیں کہ فوج بھی اُن سے دوری اختیار کررہی ہے۔ پاکستان میں سیاسی ہوا بدلتی نظر آرہی ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں نے جنرل باجوا اور فوج کی تعریف کرنا شروع کردی ہے۔

      نواز شریف سے بات کررہی ہے فوج
      پاکستانی صحافی نجم سیٹھی نے مختلف ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے، ’فوج سابق وزیراعظم نواز شریف (Nawaz Sharif) اور اُن کے بھائی شہباز شریف سے بات کررہی ہے، اس سے جڑے مثبت نتائج جلد ہی سامنے آسکتے ہیں۔ ابھی ایک یا دو مسائل ہیں، جیسے ہی اُن کا حل نکل جائے گا، دونوں ہی لیڈر عمران خان کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لئے ایکشن موڈ میں دکھائی دیں گے۔ اس کے ساتھ ہی عام انتخابات ٹرانزیکشکل حکومت کی قیادت میں کرائے جائیں گے۔‘ لندن میں رہ رہے نواز شریف نے گزشتہ جمعرات کو ایسے اشارے دئیے تھے کہ وہ جلد ہی ملک میں واپسی کرسکتے ہیں۔

      عمران خان کو ’کٹھ پتلی‘ بتایا تھا
      نواز شریف نے کہا تھا کہ ہندوستان میں عمران خان کو کٹھ پتلی کہا جاتا ہے تو امریکہ میں کہا جاتا ہے کہ اُن کے پاس ایک میئر سے بھی کم پاور ہے۔ ایسا اس لئے کیونکہ دنیا جانتی ہے کہ وہ اقتدار میں کیسے آئے ہیں۔ انہوں نے عام لوگوں کے ووٹ کی بنیاد پر حکومت نہیں بنائی بلکہ وہ فوج کی مدد سے اقتدار میں آئے ہیں۔

      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: