உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Exclusive: نومبر 2021 میں ہی گرجاتی عمران خان کی سرکار، IMF سے پیسے کی چاہت میں بچی رہی کرسی

    نومبر 2021 میں ہی گرجاتی عمران خان کی سرکار

    نومبر 2021 میں ہی گرجاتی عمران خان کی سرکار

    پاکستان کے لئے لائحہ عمل بنانے والے عمران خان کو گزشتہ سال نومبر میں ہی ملک کی اقتدار سے باہر کا راستہ دکھانا چاہتے تھے۔ پاکستانی اقتدار کے گلیارے میں پکڑ رکھنے والے سینئر ذرائع نے نیوز 18 کو بتایا کہ ملک کی معاشی صورتحال خراب ہونے کے باعث عمران خان کو مزید 5 ماہ اقتدار میں رہنے کا وقت مل گیا۔ آپ کو بتا دیں کہ 9 اپریل کو پاکستان کی پارلیمنٹ میں پیش تحریک عدم اعتماد کے ذریعہ عمران خان کو اقتدار سے باہر کر دیا گیا ہے۔

    • Share this:
      اسلام آباد: پاکستان کے لئے لائحہ عمل بنانے والے عمران خان کو گزشتہ سال نومبر میں ہی ملک کی اقتدار سے باہر کا راستہ دکھانا چاہتے تھے۔ پاکستانی اقتدار کے گلیارے میں پکڑ رکھنے والے سینئر ذرائع نے نیوز 18 کو بتایا کہ ملک کی معاشی صورتحال خراب ہونے کے باعث عمران خان کو مزید 5 ماہ اقتدار میں رہنے کا وقت مل گیا۔ آپ کو بتا دیں کہ 9 اپریل کو پاکستان کی پارلیمنٹ میں پیش تحریک عدم اعتماد کے ذریعہ عمران خان کو اقتدار سے باہر کر دیا گیا ہے۔ نیوز 18 نے 15 نومبر، 2021 کو ہی رپورٹ کردیا تھا کہ عمران خان کے پاس اب صرف دو راستے بچے ہیں، پہلا یا تو وہ خود پاکستان کا اقتدار چھوڑ دیں، یا پھر اپوزیشن پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعہ ان کو اقتدار سے بے دخل کردے گا۔

      ذرائع بتاتے ہیں کہ سال 2021 کے آخر تک پاکستان کا فارن ریزرو خالی ہوچکا تھا اور ملک کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے 1 بلین امریکی ڈالر کی امداد کی اشد ضرورت تھی۔ چونکہ آئی ایم ایف کسی ملک کو گرانٹ دینے سے پہلے وہاں کے جمہوری نظام اور ٹیکس کلیکشن کا جائزہ لیتا ہے، اس لئے پاکستان میں حکومت کو غیر مستحکم کرنا خطرہ سے بھر پور تھا۔ کیونکہ پاکستان میں سیاسی غیر استحکام کے سبب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی ایک ارب امریکی ڈالر کی امداد روکی جا سکتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ عمران خان کو پاکستان میں اقتدار میں رہنے کے لیے مزید 5 ماہ کا وقت مل گیا۔

      یہ بھی پڑھیں۔
      عمران خان نے پھر رویا ’غیر ملکی سازش‘ کا رونا، کہا- باہری طاقتوں سے لڑیں گے آزادی کی لڑائی

      آئی ایم ایف گرانٹ کے لئے بچی رہی عمران خان حکومت

      پاکستان اور آئی ایم ایف نے جولائی 2019 میں 6 بلین امریکی ڈالر کے معاہدہ پر دستخط کئے تھے، لیکن یہ عمل جنوری 2020 میں بے پٹری ہوگئی، پھر مارچ میں ٹریک پر آئی اور جون تک پھر بے پٹری ہوگئی۔ پاکستان نے مالی سال 2020-21 میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے 3.1 بلین امریکی ڈالر کی معاشی مدد کا مطالبہ کیا تا۔ یہ معاشی مدد پاکستان کو تبھی ملنا ممکن ہوتا، جب آئی ایم ایف کی طرف سے ملک کی اقتصادی صورتحال کا جائزہ مکمل ہوتا۔ پاکستان نے 2019 میں نگیٹیو گروتھ ریٹ ریکارڈ کیا تھا۔ اس کی معیشت غوطے لگا رہی تھی۔

      عمران خان کی پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ دے سکتے ہیں اجتماعی استعفیٰ

      عمران خان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف نے 10 اپریل کو کہا کہ اگر شہباز شریف کو وزیر اعظم امیدوار بنایا جاتا ہے تو اس کے پارلیمنٹ قومی اسمبلی سے اپنا استعفیٰ سونپ دیں گے۔ عمران خان کی صدارت میں ہوئی پی ٹی آئی کور کمیٹی کی میٹنگ کے بعد پارٹی کے سینئر لیڈر فواد چودھری نے یہ اعلان کیا۔ انہوں نے کہا، ’اگر وزیر اعظم عہدے کے لئے شہباز شریف کے نام کا الیکشن ہوتا ہے، تو ہم پارلیمنٹ سے استعفیٰ دے دیں گے۔ اس بات کا پورا امکان ہے کہ شہباز شریف کے نام کا الیکشن ہوتا ہے، تو ہم پارلیمنٹ سے استعفیٰ دے دیں گے۔ اس بات کا پورا امکان ہے کہ شہباز شریف پاکستان کے اگلے وزیر اعظم ہوں گے، جس کا اعلان پیر کو پارلیمنٹ میں ہونے والی ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: