உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اب پاکستان کے وزیر اعظم نہیں رہے Imran Khan، کیا ہوگا ملک کا سیاسی مستقبل؟

    Youtube Video

    Pakistan: صدر عارف علوی نے اپنے آفیشل ٹویٹر ہینڈل سے اعلان کیا کہ عمران خان Imran Khan فی الحال وزیر اعظم کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہیں گے۔ انہوں نے لکھا کہ "عمران احمد خان نیازی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 224-A(4) کے تحت نگراں وزیر اعظم کی تقرری تک ملک کے وزیر اعظم کے عہدے پر برقرار رہیں گے۔"

    • Share this:
      اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئیPTI) کے چیئرمین عمران خان Imran Khan  کو وزیراعظم پاکستان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے، یعنی وہ اب وزیراعظم نہیں رہے۔ صدر عارف علوی کی جانب سے عمران خان Imran Khan کے مشورے پر 3 اپریل کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کے بعد کابینہ ڈویژن نے اس حوالے سے ایک بیان جاری کرکے بتایا۔ حالانکہ  آئین پاکستان کے آرٹیکل 224 کے تحت نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد عمران خان 15 دن تک وزیر اعظم رہیں گے جب تک کہ نگراں وزیر اعظم کا تقرر نہیں ہو جاتا۔

      پاکستان کے صدر عارف علوی نے وزیر اعظم عمران خان کے مشورے پر اتوار کو قومی اسمبلی تحلیل کردیا۔ اس سے کچھ منٹ پہلے ہی قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر نے ان کے خلاف پیش کئے گئے تحریک عدم اعتماد کو خارج کردیا تھا۔ عمران خان نے صدر جمہوریہ نے وسط مدتی انتخابات کرانے کا مشورہ دیا ہے۔

      اچانک پاگل خانے پہنچیں عمران خان کی بیوی بشریٰ، پوچھا۔ ڈرگس کے عادی لوگوں کو کہاں رکھتے ہو

      صدر عارف علوی نے اپنے آفیشل ٹویٹر ہینڈل سے اعلان کیا کہ عمران خان Imran Khan فی الحال وزیر اعظم کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہیں گے۔ انہوں نے لکھا کہ "عمران احمد خان نیازی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 224-A(4) کے تحت نگراں وزیر اعظم کی تقرری تک ملک کے وزیر اعظم کے عہدے پر برقرار رہیں گے۔" تاہم قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد نگران وزیر اعظم کا تقرر کس طرح کیا جائے گا اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔

       

       نگراں وزیر اعظم کی تقرری تک ملک کے وزیر اعظم کے عہدے پر برقرار رہیں گے


      عمران خان اگر چند روز تک وزارت عظمیٰ کے عہدے پر براجمان رہیں گے، تب بھی انہیں فیصلے کرنے کا کوئی حق نہیں ہوگا، جو کہ ایک منتخب حکومت ک سربراہی کرسکتا ہے۔ کابینہ ڈویژن کے نوٹیفکیشن میں لکھا گیا، "صدر پاکستان کی جانب سے قومی اسمبلی کی تحلیل کے نتیجے میں، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 48 (1) کے ساتھ پڑھے گئے آرٹیکل 58(1) کے مطابق، وزارت پارلیمانی امور SRO نمبر 487(1)/2022، مورخہ 3 اپریل 2022، عمران احمد خان نیازی پر فوری طور پر پاکستان کے وزیر اعظم کے طور پر کام کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

      26 سالوں کا سیاسی سفر اتار چڑھاو بھرا رہا
      سال 2018 میں پاکستان کی قیادت سنبھالنے کے بعد سے عمران خان کو سب سے بڑے سیاسی بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا کیونکہ ان کی پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ کے ذریعہ بغاوتی تیور اپنائے جانے اور اتحادیوں میں اختلاف کے سبب عمران خان کی مشکلات بڑھ رہی تھیں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے والے عمران خان 2018 میں نیا پاکستان بنانے کا وعدہ کرکے اقتدار میں آئے تھے۔ حالانکہ، وہ مہنگائی سمیت عام عوام کی بنیادی پریشانیوں کو دور کرنے میں ناکام رہے۔ تقریباً 21 سالوں تک کرکٹ میدان میں اپنی اننگ کھیلنے والے عمران خان کا 26سالوں کا سیاسی سفر اتار چڑھاو بھرا رہا۔ اقتدار میں رہنے کے دوران عمران خان پر بیشتر اپوزیشن لیڈران کے خلاف قابل اعتراض تبصرہ کرنے کے الزام لگتے رہے اور یہی وجہ رہا کہ اپوزیشن لیڈران آسانی سے متحد ہوکر عمران خان کی قیادت والی حکومت کو غیر مستحکم کرنے میں کامیاب ہوتے ہوئے نظر آئے۔

      یہ بھی پڑھیں: عمران خان کے گھر زندہ مرغے جلا رہی ہیں بیوی بشریٰ، کیا کالے جادو سے بچے گی حکومت؟ پاس ہیں دو جن!

      آئیے جانتے ہیں کہ عمران خان نے اپنا اقتدار بچانے کے لئے کس کس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے؟

      1. اسپیکر کی مدد سے کئی مرتبہ تحریک عدم اعتماد پر بحث اور ووٹنگ ملتوی کروائی
      8 مارچ کو پاکستان کی اپوزیشن کی جانب سے پاکستان کی قومی اسمبلی میں عمران حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا نوٹس دیا گیا۔ اس دوران الزام لگایا گیا کہ عمران حکومت کی وجہ سے ملک میں معاشی بحران پیدا ہوا ہے۔
      28 مارچ کو اپوزیشن نے عمران حکومت کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش کی۔ تاہم تحریک عدم اعتماد کے ساتھ ہی اسپیکر نے ایوان کی کارروائی دوبارہ ملتوی کر دی۔
      اس بار بھی عمران پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنی حکومت بچانے کے لیے جان بوجھ کر ایوان کو ملتوی کیا۔ تاہم ایوان میں تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد اسپیکر کو 7 دن کے اندر ووٹ دینا ہوگا۔ اس کے بعد ووٹنگ کا دن 3 اپریل مقرر کیا گیا۔

      2. اسلام آباد میں بڑی ریلی کر کے اپنی مقبولیت ظاہر کی
      عمران کے خلاف اس سے قبل تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ 28 مارچ کو ہونی تھی۔ اس سے قبل انہوں نے 27 مارچ کو اسلام آباد میں 10 لاکھ کارکنوں کو بلانے کا اعلان کیا تھا۔ اس دوران وہ یہ دکھانا چاہتے تھے کہ ان کی مقبولیت اب بھی برقرار ہے۔ تاہم میڈیا رپورٹس میں صرف 1 لاکھ کارکنان کے پہنچنے کی بات کہی گئی۔
      اس ریلی میں عمران اپنے روایتی حریفوں نواز شریف اور آصف علی زرداری پر برستے نظر آئے۔ خان نے مجمع کے سامنے ایک خط بھی لہرایا اور الزام لگایا کہ یہ لوگ غیر ملکی سازش کا حصہ ہیں۔

      3. پاکستان کے آرمی چیف سے بھی کی تھی ملاقات
      سیاسی ہلچل کے درمیان عمران خان نے 18 مارچ کی صبح آرمی چیف قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی۔ اس کے باوجود کئی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ فوج نے بھی عمران کا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔

      4. قوم کے نام دو مرتبہ خطاب میں کئی بار ہوئے جذباتی- امریکہ پر سازش رچنے کا لگایا الزام
      عمران خان نے ایک بار پھر 31 اپریل کو اپنی حکومت بچانے کے لیے تقریباً 40 منٹ تک مکمل جذباتی ڈرامے کے ساتھ قوم سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ہٹانے کی سازش میں امریکہ ملوث ہے۔ عمران نے کہا کہ امریکہ ان کی خارجہ پالیسیوں سے ناراض ہے اس لیے ان کی حکومت گرانے کے لیے اپوزیشن رہنماؤں سے کام لیا جا رہا ہے۔
      اپنے خطاب کے دوران عمران نے ہندوستان پر الزامات بھی لگائے۔ ایک کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ نواز شریف نیپال میں وزیراعظم نریندر مودی سے خفیہ ملاقات کرتے تھے۔ عمران نے اپنی تقریر میں کشمیر کا راگ بھی اٹھایا۔

      5. نوجوانوں کو مظاہرے کے لئے اُکسایا
      عمران خان نے اپنے خطاب میں پورے ملک بالخصوص نوجوانوں سے کہا کہ وہ سڑکوں پر نکل کر اس سازش کے خلاف احتجاج کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن نے ملک سے غداری کی ہے، اس لیے پورا پاکستان سڑکوں پر نکل کر ان کے خلاف احتجاج کرے۔

      6. لیٹر بم کو اُچھالا
      عمران خان 27 مارچ کو اسلام آباد میں جلسے کے دوران اپنی جیب سے ایک خط دکھا رہے تھے۔ حالانکہ یہ نہیں بتایا کہ اس میں کیا لکھا ہے۔ عمران نے کہا کہ بہت جلد اس غیر ملکی سازش کو بے نقاب کریں گے۔ تاہم میں ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہتا جس سے ملک کو نقصان پہنچے۔

      Published by:Sana Naeem
      First published: