உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    حکومت گرانے کی سازش سے لے کر خود کو ملی دھمکی تک، Islamabadریلی میں اپوزیشن پر برسے عمران، جانیے کیا کہا؟

    Youtube Video

    عمران نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جو حکومت گرانے کی سازش کر رہے ہیں۔ عمران نے کہا کہ میرے پاس ایک خط ہے، جو ایک ثبوت ہے۔ جن لوگوں کو اس خط پر شک ہے، میں انہیں آف دی ریکارڈ بلاتا ہوں۔

    • Share this:
      اسلام آباد: پاکستان(Pakistan) کے وزیر اعظم عمران خان(Imran Khan) نے اتوار کی شام دارالحکومت اسلام آباد(Islamabad) کے پریڈ گراؤنڈ میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کیا۔ عمران نے اس ریلی سے ایک ایسے وقت میں خطاب کیا جب اپوزیشن ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لے کر آئی ہے۔ دراصل عمران کا مقصد اپنی ریلی کے ذریعے یہ دکھانا تھا کہ انہیں عوام کی حمایت حاصل ہے۔ وزیر اعظم پاکستان کی ریلی میں لوگوں کا بہت بڑا ہجوم دیکھا گیا۔ عوام سے خطاب کرتے ہوئے عمران نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن پہلے دن سے ان کی حکومت گرانے کی سازش کر رہی ہے۔

      عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن کی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان اتنا پیچھے ہو گیا ہے۔ ملک کے سابق وزرائے اعظم نے عوام کے لیے کچھ نہیں کیا صرف ملک کو لوٹا۔ ان کرپٹ لیڈروں کو معافی بھی مل گئی جس کی وجہ سے ملک کو نقصان ہوا۔ جلسے میں عمران نے اپنی حکومت کی تعریف بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں کورونا کے دوران مکمل لاک ڈاؤن نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تاہم ان کی پالیسیوں کی وجہ سے کورونا پر آسانی سے قابو پایا گیا اور لوگوں کو پریشانی کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑا۔ عمران نے کہا کہ ہماری خارجہ پالیسی کو بیرونی طاقتیں کنٹرول کر رہی ہیں۔ عمران کی تقریر سے متعلق اہم باتیں پڑھیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      پاکستان: Imran Khan حکومت کا آخری دن قریب! بلوچ لیڈر کا کابینہ سے استعفیٰ

      وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ میں سیاست میں اس لیے آیا تھا کہ پاکستان کے اس ویژن پر عمل کر سکوں جس کے لیے یہ بنایا گیا تھا۔ پاکستان میں فلاحی ریاست کے اصول پر کبھی عمل نہیں کیا گیا۔

      عمران خان نے کہا کہ میں نے پاکستان کو فلاحی ملک بنانے کا وژن رکھا ہے۔ ہم نے اس راستے پر قدم اٹھایا ہے۔ مجھے فخر ہے کہ ہم نے ملک میں صحت کے اصولوں پر مبنی صحت کا نظام شروع کیا ہے۔ اب عام لوگوں کو بھی بینک سے قرض مل رہا ہے۔

      عمران خان نے کہا کہ جنرل مشرف نے اپنی حکومت بچانے کے لیے ان کرپٹ رہنماؤں کو این آر او دے کر ملک کو بحران میں دھکیل دیا۔ چاہے میں اپنی حکومت کھودوں یا جان، میں انہیں کبھی معاف نہیں کروں گا۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ قومی مفاہمتی آرڈیننس یا کہہ لیں این آر او ایک آرڈیننس ہے، جس کے ذریعے رہنماؤں اور اہلکاروں کو عام معافی دی جاتی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      EXCLUSIVE: پاکستان میں سیاسی طوفان، وزیراعظم عمران خان کہاں کھڑے ہیں؟ کونسامعاہدہ ہوا؟

      جلسے میں عمران نے کہا کہ غیر ملکی پیسے سے پاکستان میں حکومت بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہمارے لوگوں کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ زیادہ تر انجانے میں، لیکن کچھ لوگ ہمارے خلاف پیسہ استعمال کر رہے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم پر دباؤ ڈالنے کی کوششیں کہاں سے ہو رہی ہیں۔ ہمیں تحریری طور پر دھمکیاں دی گئی ہیں لیکن ہم قومی مفاد پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

      عمران نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جو حکومت گرانے کی سازش کر رہے ہیں۔ عمران نے کہا کہ میرے پاس ایک خط ہے، جو ایک ثبوت ہے۔ جن لوگوں کو اس خط پر شک ہے، میں انہیں آف دی ریکارڈ بلاتا ہوں۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم کب تک اس طرح جینا چاہتے ہیں۔ ہمیں دھمکیاں مل رہی ہیں۔ غیر ملکی سازش کے بارے میں بہت سی باتیں ہیں جو بہت جلد شیئر کی جائیں گی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: