உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عمران خان نے پیش کی پاکستان کی پہلی قومی سلامتی پالیسی، ہندوستان سے متعلق کیا کہا؟

    عمران خان نے پیش کی پاکستان کی پہلی قومی سلامتی پالیسی

    عمران خان نے پیش کی پاکستان کی پہلی قومی سلامتی پالیسی

    پاکستان (Pakistan) کے وزیر اعظم عمران خان (Imran Khan) نے جمعہ کے روز ملک کی پہلی قومی سلامتی پالیسی (National Security Policy) پیش کی، جسے ایک شہری مرکزی فریم ورک پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس میں فوجی طاقت پر مرکزی جہتی سیکورٹی پالیسی کے بجائے اقتصادی سیکورٹی کو مرکز میں رکھا گیا ہے۔

    • Share this:
      پاکستان (Pakistan) کے وزیر اعظم عمران خان (Imran Khan) نے جمعہ کے روز ملک کی پہلی قومی سلامتی پالیسی (National Security Policy) پیش کی، جسے ایک شہری مرکزی فریم ورک پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس میں فوجی طاقت پر مرکزی جہتی سیکورٹی پالیسی کے بجائے اقتصادی سیکورٹی کو مرکز میں رکھا گیا ہے۔ گزشتہ ماہ قومی سلامتی پالیسی اور مرکزی کابینہ سے منظور شدہ سیکورٹی پالیسی کا پبلک ورژن جاری کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ سابقہ ​​حکومتیں پاکستان کی معیشت کو مضبوط کرنے میں ناکام رہیں۔ پاکستان کے وزیر اعظم نے کہا کہ 100 صفحات کے قومی سلامتی کے بنیادی دستاویز میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔

      عمران خان سے جب پوچھا گیا کہ یہ ہندوستان کو کیا پیغام دیتا ہے تو انہوں نے کہا، ’یہ ہندوستان کو کہتا ہے کہ صحیح کام کیجئے اور ہمارے لوگوں کی بہتری کے لئے علاقائی رابطے سے جڑیئے۔ یہ ہندوستان کو یہ بھی کہتا ہے کہ اگر آپ صحیح کام نہیں کریں گے تو اس سے پورے علاقے کو نقصان ہوگا اور اس میں سب سے زیادہ ہندوستان کو نقصان ہوگا‘۔ اس ہفتے کے آغاز میں افسر نے کہا تھا کہ پاکستان ہندوستان سمیت اپنے سبھی پڑوسیوں سے نئی پالیسی کے تحت امن چاہتا ہے اور کشمیر موضوع کے حل کے بغیر بھی نئی دہلی سے کاروبار کے راستے کھلا رکھنا چاہتا ہے۔

      اس پالیسی کو شہریوں کو مرکز میں رکھ کر تیار کیا گیا ہے اور اقتصادی سیکورٹی کو مرکزی نکتہ بنایا گیا ہے۔ اس میں پاکستان کو اقتصادی طور پر خود انحصار بنانے پر زور ہے۔ عمران خان نے کہا کہ پاکستان کی پیدائش سے ہی ایک جہتی سیکورٹی پالیسی رہی، جس میں فوجی طاقت پر توجہ تھا۔ انہوں نے کہا، ’پہلی بار نیشنل سیکورٹی سیل نے ایک رضا مندی سے دستاویز تیار کیا ہے، جس میں صحیح طریقے سے  قومی سلامتی کی صحیح تعریف کی گئی ہے‘۔ عمران خان حکومت کے لئے سال کے لئے 2022-2026 کے لئے پانچ سالہ پالیسی کا بھی اعلان کیا گیا ہے، جو اپنی طرح کی پہچان پالیسی دستاویز ہے، جو قومی سلامتی کے نظریہ اور ان اہداف کو حاصل کرنے کے لئے ہدایات کا ذکر ہے۔

      قومی سلامتی پالیسی کا حقیقی مسودہ خفیہ زمرے میں بنا رہے گا۔ قومی سلامتی کا اہم تھیم قومی ہم آہنگی، اقتصادی مستقبل کی حفاظت، دفاعی اور علاقائی سالمیت، داخلی سلامتی، بدلتی ہوئی دنیا میں خارجہ پالیسی اور انسانی سلامتی کے گرد ہیں۔ اس سے قبل پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے کہا تھا کہ نئی پالیسی کے تحت پاکستان ایک متحدہ قومی سلامتی کے فریم ورک کی طرف بڑھے گا، جس کا مقصد پاکستان کے شہریوں کی حفاظت، سلامتی اور وقار کو یقینی بنانا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: