உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Imran خان کے پیروں تلے کھسکے گی زمین!اپوزیشن پارٹیوں نے باغی لیڈروں کے ساتھ مل کر بنایا یہ پلان

    Youtube Video

    MQMپی کے دو رہنما فروغ نسیم اور امین الحق نے استعفیٰ دے کر اپوزیشن کیمپ میں انٹری لے لی ہے۔ اب وہ عمران خان کی حکومت گرانے میں مصروف ہیں۔ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اپنی حکومت بچانے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔

    • Share this:
      اسلام آباد: پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی کرسی خطرے میں ہے۔ ایک طرف اپوزیشن جماعتوں نے دباؤ بڑھا دیا ہے تو دوسری جانب جمعرات کو پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتماد پر بحث ہوگی اور ووٹنگ 3 اپریل کو ہوگی۔ عمران کی رخصتی اس لیے بھی یقینی سمجھی جا رہی ہے کہ ان کی حمایت میں ارکان کی تعداد کم ہو کر 164 رہ گئی ہے جب کہ انہیں اکثریت کے لیے 172 ارکان کی حمایت درکار ہے۔ ایم کیو ایم پی پارٹی عمران خان کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے پاکستانی پارلیمنٹ میں اپوزیشن جماعتوں کی بھی حمایت کرے گی۔ اپوزیشن کو 177 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔

      عمران خان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عمران خان کی حکومت قومی اسمبلی میں اکثریت کھو چکی ہے۔ اب عمران کی جگہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف ملک کے اگلے وزیر اعظم ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان فوری مستعفی ہو جائیں۔ چاہے وہ کتنی ہی کوشش کریں، وہ اپنی اکثریت ثابت نہیں کر پائیں گے اور انہیں اقتدار سے جانا پڑے گا۔ یہاں پہلے ہی اپوزیشن سے پریشان عمران خان کو اپنی کابینہ کی حمایت نہیں مل رہی۔ عمران خان کی کابینہ کے دو ارکان مستعفی ہو گئے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      کون ہیں شہباز شریف؟ Imran Khan کے بعد بن سکتے ہیں پاکستان کے نئے وزیر اعظم؟

      یہ بھی پڑھیں:
      پاکستانی آرمی چیف قمر باجوا سے میٹنگ کے بعد Imran Khan کا ملک کے نام خطاب منسوخ

      MQMپی کے دو رہنما فروغ نسیم اور امین الحق نے استعفیٰ دے کر اپوزیشن کیمپ میں انٹری لے لی ہے۔ اب وہ عمران خان کی حکومت گرانے میں مصروف ہیں۔ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اپنی حکومت بچانے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ وہ بار بار یوٹرن لے رہے ہیں۔ بدھ کو انہوں نے ملک سے اپنا خطاب ملتوی کیا، اس سے قبل انہوں نے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی سے ملاقات کی۔ اس کے بعد انہوں نے ملک سے اپنا خطاب ملتوی کر دیا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: