உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Imran khan نے پاکستانی فوج کے دعوے کو کیا مسترد، کہا- انہیں تین متبادل دیئے گئے تھے

    عمران خان نے پاکستانی فوج کے دعوے کو کیا مسترد

    عمران خان نے پاکستانی فوج کے دعوے کو کیا مسترد

    پاکستان (Pakistan) کے بے دخل وزیراعظم عمران خان (Imran khan) نے پیر کے روز اس بات پر زور دیا کہ طاقتوار ’ادارہ‘ (فوج) نے انہیں تین متبادل دیئے تھے۔ عمران خان نے ایسا کہہ کر فوج کے اس دعوے کو مسترد کردیا کہ ملک میں حالیہ سیاست اتھل پتھل کے دوران اس کے ذریعہ کوئی متبادل نہیں دیا گیا تھا۔

    • Share this:
      اسلام آباد: پاکستان (Pakistan) کے بے دخل وزیراعظم عمران خان (Imran khan) نے پیر کے روز اس بات پر زور دیا کہ طاقتوار ’ادارہ‘ (فوج) نے انہیں تین متبادل دیئے تھے۔ عمران خان نے ایسا کہہ کر فوج کے اس دعوے کو مسترد کردیا کہ ملک میں حالیہ سیاست اتھل پتھل کے دوران اس کے ذریعہ کوئی متبادل نہیں دیا گیا تھا۔ کرکٹر سے لیڈر بنے 69 سالہ عمران خان نے یہ تبصرہ اسلام آباد میں صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کے دوران کی۔ عمران خان کو دیئے گئے ’تین متبادل‘ کے بارے میں فوج کی وضاحت کو لے کر پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا، ’ادارے نے مجھے تین متبادل دیئے تھے، اس لئے میں الیکشن کی تجویز سے متفق ہوگیا۔ میں استعفیٰ اور تحریک عدم اعتماد کے مشورے کو کیسے قبول کرسکتا تھا‘۔

      اس ماہ کی شروعات میں قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ میں ہارنے کے بعد عمران خان اقتدار سے بے دخل ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایسا کچھ نہیں کہیں گے، جس سے ملک کو نقصان پہنچے۔ انہوں نے کہا، ’میں کچھ نہیں کہہ رہا، کیونکہ پاکستان کو ایک مضبوط اور متحد فوج کی ضرورت ہے۔ ہم ایک مسلم ملک ہیں اور ایک مضبوط فوج ہماری سیکورٹی کی گارنٹی ہے‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فوج ان کے روس سفر کو لے کر واقف تھی اور انہوں نے سفرسے پہلے فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوا کو فون کیا تھا۔ جیو ٹی وی نے عمران خان کے حوالے سے کہا، ’جنرل باجوا نے کہا کہ ہمیں روس کا سفر کرنا چاہئے‘۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      اقتدار سے بے دخلی کے بعد بدل گیا Imran Khan کا لہجہ، کہا- میں ’نہ اینٹی انڈیا نہ اینٹی امریکہ‘

      عمران خان کا یہ تبصرہ فوج کے ترجمان میجر جنرل افتخار کے یہ کہنے کے کچھ دنوں بعد آئی ہے کہ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان تعطل کے دوران، وزیر اعظم دفتر نے سیاسی بحران کا حل تلاش کرنے میں مدد کرنے کے لئے فوجی سربراہ سے رابطہ کیا تھا۔ انہوں نے جمعرات کو کہا تھا، ’یہ بدقسمتی ہے کہ ہماری سیاسی قیادت بات کرنے کے لئے تیار نہیں تھا۔ اس لئے فوجی سربراہ اور ڈی جی آئی ایس آئی وزیر اعظم دفتر گئے اور تین منظرنامہ پر بحث کی گئی‘۔

      انہوں نے کہا کہ ان میں سے ایک یہ تھا کہ تحریک عدم اعتماد کو لے کر کارروائی اسی طرح سے ہو، جیسی وہ ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ دوسرا یہ تھا کہ وزیر اعظم استعفیٰ دیں یا تحریک عدم اعتماد واپس لے لیا جائے اور ایوان کو تحلیل کردیا جائے۔ افتخار نے ادارے کی اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ میٹنگ کے بارے سوشل میڈیا پر چل رہی افواہوں کو خارج کرتے ہوئے کہا تھا، ’ادارے کی طرف سے کوئی متبادل نہیں دیا گیا تھا۔ اس میں کوئی سچائی نہیں ہے‘۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: