ہوم » نیوز » عالمی منظر

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کو آئی  بالاکوٹ ایئر اسٹرائک کی یاد، پھر کیا ونگ کمانڈر ابھینندن کا ذکر

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان (pakistan pm imran khan) نے بالاکوٹ ایئر اسٹرائک کے دو سال پورے ہونے پر پورے ملک اور اپنی فوج کو مبارکباد پیش کی۔

  • Share this:
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کو آئی  بالاکوٹ ایئر اسٹرائک کی یاد، پھر کیا ونگ کمانڈر ابھینندن کا ذکر
پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے کہا- حل نکالنے کے لئے تیار، جنگ بندی کی بحال کا خیر مقدم

اسلام آباد: دو سال قبل  14 فروری کو  جموں و کشمیر کے پلوامہ  (Pulwana)  میں ہندستانی فوجی جوانوں  پر حملے کا سبق سکھانے کے لئے ہندستان نے دہشت گرد ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے ارادے سے  پاکستان Pakistan کے بالاکوٹ میں ایئر اسٹرائک (Balakot Air Strike) کی تھی۔ اس سے  بوکھلایا پاکستان جب 27 فروری کو ہندوستانی سرحد کے اندر داخل ہوا تو ہندوستانی فضائیہ نے اس کو بری طرح کھدیڑا تھا۔ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اس پر آج بھی  اپنا سینہ چوڑا کرنے سے باز نہیں آئے۔ انہوں نے پاکستان میں سیز فائر کی خلاف ورزی اور ہندستان میں دراندازی کرنے والے دہشت گردوں کی پناہ گاہ بنے پاکستان کو  'امن و استحکام' کی وکالت کی ہے اور ساری ذمے داری ہندستان پر ڈال دی ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان (pakistan pm imran khan) نے ٹویٹ کیا ہے، پاکستان پر ہندستان کے غیر قانونی فوجی فضائی حملے کے دو سال پورے  ہونے پر پورے ملک اور اپنی فوج کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ایک فخریہ اور پراعتماد قوم کی حیثیت سے ہم نے اپنے وقت اور مقام پر سخت رد عمل کا اظہار کیا۔ قید  کئے گئے پائلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن وردھمان کو واپس کرکے  ہم نے بھارت کے غیر ذمہ دارانہ فوجی (Instability)  رویے کا سامنا کرتے ہوئے بھی دنیا کے ساتھ پاکستان کے ذمہ دارانہ رویہ کا مظاہرہ کیا۔

یہی نہیں عمران خان نے آگے لکھا، ہم ہمیشہ امن کیلئے کھڑے ہیں اور بات چیت سے سبھی مسئلے سلجھانے کیلئے آگے بڑھنے کو تیار ہیں۔ میں لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کا استقبال کرتا ہوں۔ آگے بات چیت کیلئے  سازگار ماحول پیدا کرنے کی ذمہ داری بھارت پر ہے۔ طویل وقت سے چلی آ رہی کشمیر کی آزادی کی مانگ اور حق کو دینے کیلئے یو این ایس سی  (UNSC) کی قرارداد (Resolution) کے مطابق ہندستان  کو قدم اٹھانے چاہئے۔




پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے ہفتے کے روز ہند-پاک سرحد پر جنگ بندی کی بحالی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بات چیت کے ذریعہ تمام باقی مسائل کا حل نکالنے کے لئے تیار ہے، لیکن ہندوستان کو مذاکرات آگے بڑھانے کے لئے مناسب ماحول تیار کرنا ہوگا۔عمران خان نے سرحد پار سے گولی باری پر جنگ بندی کی بحالی کا خیر مقدم کرتے ہوئے ٹویٹ کیا، ’میں ایل او سی کے پاس جنگ بندی کی بحالی کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ آگے کی ڈیولپمنٹ کے لیے ہندوستان کو خوشگوار ماحول کے ساتھ آگے آنا ہوگا‘۔



پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے ایک دیگر ٹوئٹ میں کہا، ’ہم ہمیشہ امن کے حق میں ہیں اور مذاکرات کے ذریعے سے تمام مسائل کو حل کرنے کی خاطر آگے بڑھنے کے لئے تیار ہیں‘۔ ہندوستان نے رواں ہفتے پاکستان کے وزیراعظم کے طیارے کو سری لنکا کے لیے ملک کے ہوائی علاقے سے گزرنے کی اجازت دی تھی۔ عمران خان کا یہ بیان فوجی سربراہ جنرل قمر باجوہ کی جانب سے رواں ماہ کے آغاز میں کشمیر کے مسائل کو ’پرامن‘ طریقے سے حل کرنے کی اپیل کے بعد آیا ہے۔





حالانکہ  عمران خان نے اپنے پرانے مطالبے کو دہراتے ہوئے کہا،’ہندوستان کو لمبے عرصے سے جاری ہمارے مطالبے کو پورا کرنے کے لئے ضروری اقدامات کرنے چاہئے اور کشمیری عوام کو اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل (یو این ایس سی) کی قرار دادوں کے مطابق از خود فیصلہ کرنے کا حق دینا چاہئے۔
Published by: Sana Naeem
First published: Feb 28, 2021 03:33 PM IST