உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عمران خان نے پھر چھیڑا ’کشمیر راگ‘، مگر ایغور مسلمانوں پر اختیار کی خاموشی، کہا-چین پر لگے الزام صحیح نہیں

    ‘عمران نے یہ تبصرہ ایک ایسے وقت میں کیا جب ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ تعلقات (India-Pakistan Relations) مسئلہ کشمیر اور سرحد پار دہشت گردی کو لے کر کشیدہ ہیں۔ ہندوستان پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ دہشت گردی کا راستہ ترک کرنے کے بعد ہی پاکستان سے مذاکرات ہوں گے۔

    ‘عمران نے یہ تبصرہ ایک ایسے وقت میں کیا جب ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ تعلقات (India-Pakistan Relations) مسئلہ کشمیر اور سرحد پار دہشت گردی کو لے کر کشیدہ ہیں۔ ہندوستان پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ دہشت گردی کا راستہ ترک کرنے کے بعد ہی پاکستان سے مذاکرات ہوں گے۔

    ‘عمران نے یہ تبصرہ ایک ایسے وقت میں کیا جب ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ تعلقات (India-Pakistan Relations) مسئلہ کشمیر اور سرحد پار دہشت گردی کو لے کر کشیدہ ہیں۔ ہندوستان پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ دہشت گردی کا راستہ ترک کرنے کے بعد ہی پاکستان سے مذاکرات ہوں گے۔

    • Share this:
      اسلام آباد:اپنے دورہ چین سے قبل پاکستان (Pakistan) کے وزیر اعظم عمران خان (Imran Khan) نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے خطے میں ’اسٹرٹیجک توازن‘ برقرار رکھا جانا چاہیے اور سرحدی تنازع اور کشمیر کا مسئلہ حل ہونا چاہیے۔ مکالمے، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے ساتھ۔ چین کے سرکاری اخبار ’گلوبل ٹائمز‘ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں عمران خان نے سرحدی تنازعات کے علاوہ مسئلہ کشمیر کے حل کو جنوبی ایشیا میں قیام امن کے لیے اہم قرار دیا اور اس کا مختصر ذکر کیا۔

      عمران خان نے کہا کہ، ’یہ ہمارا مشترکہ نظریہ ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا انحصار خطے میں اسٹریٹجک توازن کو برقرار رکھنے پر ہے اور سرحدی سوال اور مسئلہ کشمیر جیسے تمام زیر التوا مسائل کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔ ‘عمران نے یہ تبصرہ ایک ایسے وقت میں کیا جب ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ تعلقات (India-Pakistan Relations) مسئلہ کشمیر اور سرحد پار دہشت گردی کو لے کر کشیدہ ہیں۔ ہندوستان پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ دہشت گردی کا راستہ ترک کرنے کے بعد ہی پاکستان سے مذاکرات ہوں گے۔

      ایغور مسلمانوں پر عمران خان کی خاموشی
      وزیراعظم عمران خان نے دورہ چین سے قبل سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں کے خلاف انسانی حقوق کے الزامات پر چین کو کلین چٹ دے دی ہے۔ وہ 4 فروری کو بیجنگ سرمائی اولمپک کھیلوں کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے چین کا دورہ کررہے ہیں۔ سنکیانگ کے معاملے پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے اس افتتاحی تقریب کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے۔ عمران نے کہا کہ ان کے ملک کے سفیر نے صوبے کا دورہ کیا تھا اور انہیں یہ الزامات درست نہیں لگے۔

      عمران خان نے اپنے بیجنگ دورے سے قبل ہفتے کے روز اسلام آباد (Islamabad)میں چینی صحافیوں کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا، ’’ایغور مسلمانوں کے ساتھ سلوک پر چین کو مغرب میں کافی تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے، لیکن ہمارے سفیر نے وہاں جا کر معلومات بھیجیں کہ یہ سچ نہیں ہے۔‘‘ شورش زدہ سنکیانگ خطے پر چین کو کلین چٹ دیتے ہوئے، عمران نے جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر مغربی ممالک کی ’منتخب خاموشی‘پر سوال اٹھایا۔ جولائی 2021 میں چینی صحافیوں کو انٹرویو کے دوران، عمران نے ایغور مسلمانوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے چین کے الزامات پر پاکستان کی خاموشی پر تنقید کو نظر انداز کیا۔ پاکستانی اخبار ’ڈان‘ کے مطابق پاکستان نے اپنی قربت اور تعلقات کی وجہ سے ایغور مسلمانوں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے بیجنگ کا موقف قبول کیا ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: