جموں وکشمیرکامعاملہ: امریکہ میں ایک بارپھرعمران خان کوہوسکتاہے شرمندگی کا سامنا

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان امریکہ کے نیویارک میں 23 ستمبر کو ملاقات ہونے کا امکان ہے جس میں ایک مرتبہ پھر کشمیر مسئلے پر گفت و شنید ہو سکتی ہے ۔

Sep 20, 2019 02:25 PM IST | Updated on: Sep 20, 2019 02:25 PM IST
جموں وکشمیرکامعاملہ: امریکہ میں ایک بارپھرعمران خان کوہوسکتاہے شرمندگی کا سامنا

فائل فوٹو

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان امریکہ کے نیویارک میں 23 ستمبر کو ملاقات ہونے کا امکان ہے جس میں ایک مرتبہ پھر کشمیر مسئلے پر گفت و شنید ہو سکتی ہے ۔ پاکستان کے ڈان اخبارنے سفارتی ذرائع کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ عمران خان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں سیشن کے اجلاس میں شامل ہونے کے لئے امریکہ آئیں گے اور اسی دوران وہ ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کر سکتے ہیں۔سمجھا جارہاہے کہ  باربار انٹرنیشنل فورمس میں جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کا مسئلہ اٹھاکر عمران خان خود بھی شرمندگی کا سامنا کررہے ہیں اور پاکستان کے وقار کو بھی  مجروح کررہے ہیں۔ہندوستان  میں عالمی امور کے ماہرین کا کہناہے کہ  اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران  مسئلہ کشمیر کو اٹھانے کی وجہ سے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کو پھرایک بار شرمندگی کا سامنا کرناپڑسکتاہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ پاکستانی وزیراعظم کے ساتھ ملاقات سے پہلے 22 ستمبر کو ٹیکساس کے ہیوسٹن میں ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ تقریبا 50،000 ہندوستانی نژاد امریکیوں کی ایک مشترکہ ریلی سے خطاب کریں گے اس ریلی کے پہلے یا بعد میں ڈونلڈ ٹرمپ اورپی ایم مودی کے درمیان الگ سے ایک میٹنگ ہونے کا بھی امکان ہے۔

Loading...

دوسری جانب امکان ظاہرکیاجارہاہے کہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان اتوار کی شام نیویارک پہنچیں گے اور دنیا کے زیادہ ترلیڈراقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے لئے پیرکوامریکی شہر پہنچیں گے ۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 74 ویں سیشن کےکااجلاس 29 ستمبرتک چلے گا۔عمران خان اور پی ایم مودی 27 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرنے والے ہیں۔

ہندوستانی وزیراعظم جمعہ کی صبح جبکہ پاکستانی وزیراعظم دوپہربعد جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے ۔عمران خان نے پہلے ہی یہ اعلان کر دیا ہے کہ وہ اپنے خطاب میں کشمیر مسئلہ اٹھائیں گے اور کشمیر پر لئے گئے ہندوستان کے 5 اگست کے فیصلے کی اخلاقی اور قانونی خامیوں کو اجاگر کریں گے۔

Loading...