உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اسی مہینے روس جائیں گے عمران خان، دو دہائی بعد کسی پاکستانی پی ایم کا ہوگا پہلا دورہ، دونوں ملکوں کو ایک دوسرے سے کیا چاہیے؟

    روس پاکستان کی مدد سے طالبان کو کسی حد تک کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔ یہ اپنے دفاعی ہتھیاروں کی خریداری کے لیے نئے گاہکوں کی تلاش میں بھی ہے۔ ساتھ ہی پاکستان یہ بھی جانتا ہے کہ اگر وہ کسی بڑی سوپر پاور کی چھتری تلے نہ رہے تو وہ نہ تو اپنی خراب معیشت کو چلا سکتا ہے اور نہ ہی پاک فوج(Pakistan Army) کو بغاوت کرنے سے روک سکتا ہے۔

    روس پاکستان کی مدد سے طالبان کو کسی حد تک کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔ یہ اپنے دفاعی ہتھیاروں کی خریداری کے لیے نئے گاہکوں کی تلاش میں بھی ہے۔ ساتھ ہی پاکستان یہ بھی جانتا ہے کہ اگر وہ کسی بڑی سوپر پاور کی چھتری تلے نہ رہے تو وہ نہ تو اپنی خراب معیشت کو چلا سکتا ہے اور نہ ہی پاک فوج(Pakistan Army) کو بغاوت کرنے سے روک سکتا ہے۔

    روس پاکستان کی مدد سے طالبان کو کسی حد تک کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔ یہ اپنے دفاعی ہتھیاروں کی خریداری کے لیے نئے گاہکوں کی تلاش میں بھی ہے۔ ساتھ ہی پاکستان یہ بھی جانتا ہے کہ اگر وہ کسی بڑی سوپر پاور کی چھتری تلے نہ رہے تو وہ نہ تو اپنی خراب معیشت کو چلا سکتا ہے اور نہ ہی پاک فوج(Pakistan Army) کو بغاوت کرنے سے روک سکتا ہے۔

    • Share this:
      اسلام آباد/ماسکو: پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان(Pakistani PM Imran Khan) کا رواں ماہ کے آخر میں روس کا اہم دورہ متوقع ہے، جو دو دہائیوں میں کسی پاکستانی وزیر اعظم کا ماسکو کا پہلا دورہ ہوگا۔ ایکسپریس ٹریبیون نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ عمران خان کا 23 اور 26 فروری کے درمیان روس(Russia) کا دورہ متوقع ہے۔ توقع ہے کہ چین کے دورے کے بعد وہ روس کا کریں گے،چین میں انہوں نے بیجنگ اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی اور صدر شی جن پنگ (Chinese President Xi Jinping) سمیت اعلیٰ چینی قیادت سے بات چیت کی۔

      تقریب میں روسی صدر ولادی میر پوٹن نے بھی شرکت کی۔ چین کے صوبے سنکیانگ میں بیجنگ کی مبینہ انسانی حقوق کی پالیسیوں پر امریکہ، یورپی یونین اور کئی مغربی ممالک نے اس تقریب کا بائیکاٹ کیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ وزیر اطلاعات فواد چودھری(Information Minister Fawad Chaudhry) نے خان کے دورہ روس سے متعلق خبروں کی تصدیق کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ اس کے لیے وزارت خارجہ سے رجوع کیا جائے۔

      مغربی ممالک کے لئے واضح اشارہ
      خان کے روس کے دورے کو مغرب کے لیے ایک واضح اشارہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر جب انہوں نے افغانستان(Afghanistan) سے امریکی انخلاء اور امریکی صدر جو بائیڈن کے بعد پاکستانی فوجی اڈوں کے معاملے پر امریکہ کی واضح تردید کی تھی۔ جو بائیڈن نے جنوری 2021 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سے خان کو فون نہیں کیا۔ اس درمیان، سفارتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ تاریخوں کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور اگر آخری لمحات میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی تو خان ​​اور صدر پوٹن فروری کے آخری ہفتے میں ملاقات کریں گے۔

      دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت کیوں؟
      روس پاکستان کی مدد سے طالبان کو کسی حد تک کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔ یہ اپنے دفاعی ہتھیاروں کی خریداری کے لیے نئے گاہکوں کی تلاش میں بھی ہے۔ ساتھ ہی پاکستان یہ بھی جانتا ہے کہ اگر وہ کسی بڑی سوپر پاور کی چھتری تلے نہ رہے تو وہ نہ تو اپنی خراب معیشت کو چلا سکتا ہے اور نہ ہی پاک فوج(Pakistan Army) کو بغاوت کرنے سے روک سکتا ہے۔ آزادی کے بعد پاکستان پہلے برطانیہ کے جھنڈے تلے کھڑا ہوا، پھر وہ امریکہ کا پیادہ بنا اور اس نے سوویت یونین کے خلاف مجاہدین کی تربیت کی۔ اور اب وہ چین کی چھتری تلے روس کے ساتھ دوستی بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ اسے نئے قرضے اور اسلحہ مل سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ روس اور چین بھی امریکہ کے خلاف اپنے لیے اتحادی تلاش کر رہے ہیں۔ ایسے میں دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: