உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    امریکہ-پاکستان تعلقات پر سابق وزیراعظم عمران خان نے کہی یہ بڑی بات، جانیے کیا ہے معاملہ؟

    امریکہ-پاکستان تعلقات پر سابق وزیراعظم عمران خان نے کہی یہ بڑی بات، جانیے کیا ہے معاملہ؟

    امریکہ-پاکستان تعلقات پر سابق وزیراعظم عمران خان نے کہی یہ بڑی بات، جانیے کیا ہے معاملہ؟

    خان سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں لگتا ہے کہ امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات ہوسکتے ہیں تو انہوں نے کہا، امریکہ جمہوریہ ہے۔ جمہوریہ تنقید کو قبول کرتے ہیں۔ جمہوریہ دوسروں کے خیالات کو قبول کرتے ہیں۔‘

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Islamabad
    • Share this:
      سابق وزیراعظم عمران خان نے الزام لگایا ہے کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا استعمال کرایہ کے ہتھیار کے طور پر کررہا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ امریکہ کے تعلقات ہندوستان کے ساتھ باوقار ہیں، جب کہ پاکستان کے ساتھ بہت بے احترام ہیں۔ عمران خان نے امریکہ پر ان کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی سازش رچنے کا بار بار الزام لگانے کے بعد کچھ دن پہلے اس کے ساتھ تعلقات میں بہتری میں دلچسپی دکھائی تھی۔ امریکہ کے سرکاری براڈکاسٹر ’پبلک براڈکاسٹنگ سروس‘ نے جب خان سے ان کے امریکہ مخالف بیان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا، پہلے تو میرا مطلب ہے کہ یہ بات سچ ہے کہ پاکستان امریکہ تعلقات غیر متوازن ہوگئے ہیں۔

      انہوں نے کہا’ مثال کے طور پر امریکہ-ہندوستان تعلقات میں ایسا نہیں ہے اور انہیں میں بہت باوقار تعلق کہتا ہوں۔ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم کرایہ کے ہتھیار کی طرح رہے ہیں۔ اور مجھے لگتا ہے کہ یہ بہت بے احترام رشتے ہیں۔ جب خان سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں لگتا ہے کہ امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات ہوسکتے ہیں تو انہوں نے کہا، امریکہ جمہوریہ ہے۔ جمہوریہ تنقید کو قبول کرتے ہیں۔ جمہوریہ دوسروں کے خیالات کو قبول کرتے ہیں۔‘

      یہ بھی پڑھیں:
      کون ہیں پاکستان کے نئے آرمی چیف عاصم منیر؟ مانے جاتے ہیں عمران خان اور کٹر ہندوستان مخالف

      یہ بھی پڑھیں:
      انور ابراہیم بنے ملائیشیا کے دسویں وزیراعظم، ملائیشیا میں سیاسی تعطل کا ہوا خاتمہ

      پاکستانی معیشت تباہی کاشکار! ذخائرہورہے ہیں ختم، معاشی غیر یقینی صورتحال میں مسلسل اضافہ

      انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات ہمارے لیے بہت اہم ہیں۔ اس لیے، صرف اقتدار کی تبدیلی کی وجہ، اس کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ مجھے امریکہ کے ساتھ مستقبل کے تعلقات نہیں رکھنے چاہیے۔ اور ہاںِ مجھے تنقید کرنے کا حق ہے۔‘
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: